021-36880325,0321-2560445

بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عیسائی ملازمین کو دعوت دینا
82023جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

جامعہ میں جوصفائی وغیرہ والے عیسائی حضرات ہیں ،ان کو دعوت دیں سکتے ہیں؟ ان کے ہم پر کیا حقوق ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

علم و بصیرت کے ساتھ اللہ کی طرف دعوت دینا اور جہاں تک ممکن ہو سکے ان پراسلام کی حقانیت واضح کرنا ان کا

حق ہے،؛ کیونکہ یہ کسی  مسلمان کی طرف سے ان کے ساتھ سب سے بڑی نیکی اور سب سے بڑا احسان ہو گا؛  نبی صلی

اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (جو شخص کسی خیر کی طرف رہنمائی کرے تو رہنما کے لیے عمل کرنے والے کے برابر اجر ہو گا۔) ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کو خیبر بھیجتے ہوئے فرمایا تھا کہ یہودیوں کو پہلے اسلام کی دعوت دیں، اور فرمایا: (اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالی تمہارے ذریعے کسی ایک آدمی کو ہدایت دیدے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔) اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (جو شخص اچھے راستے کی دعوت دے تو داعی کو پیروی کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا، اور اس سے کسی کا بھی اجر کم نہیں ہو گا۔

حوالہ جات
مسند أحمد  (37/ 477):
فقال علي: يا رسول الله، أقاتلهم حتى يكونوا مثلنا. فقال: «انفذ على رسلك حتى تنزل بساحتهم، ثم ادعهم إلى الإسلام، وأخبرهم بما يجب عليهم من حق الله فيه، فوالله لأن يهدي الله بك رجلا واحدا خير لك من أن يكون لك حمر النعم»
مسند أحمد مخرجا (15/ 83):
عن أبي هريرة، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من دعا إلى هدى كان له من الأجر مثل أجور من تبعه، لا ينقص ذلك من أجورهم

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

18/جمادی الاولی1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے