03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زوجہ،چھ بیٹے اور پانچ بیٹیوں میں وراثت کی تقسیم
88151میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہمارے والد محترم فتح محمد کمال رحمتہ اللہ علیہ،اللہ کریم ان کی مغفرت فرمائے اور ان کو بغیر حساب کتاب کے جنت الفردوس میں جگہ عطافرمائے آمین۔ابو جان کے ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر جو میں نے اردو ٹائپنگ سے ٹائپ کی ہے تا کہ آسانی سے پڑھی جاسکے ۔

(باعث تحریر آنکہ)

السلام علیکم !

میں مسمی فتح محمد ........ ولد مومن ................... ساکن .................. تحصیل شاہ پور صدر ضلع سر گود ھا کار ہائشی ہوں،میں اپنی جائیداد سے مکمل ہوش و حواس میں دکانیں اپنے بیٹے محمد عتیق کمال کو دے رہا ہوں، میرے بعد ان دکانوں کا مالک محمد عتیق ............ہوگا اور یہ فیصلہ تمام برادران محمد عتیق ........... یعنی پسران فتح محمد ........... کے صلح مشورے سے طے پایا،اس کے بعد اب کسی بھائی کو بھی یہ اختیار نہ ہے کہ اس فیصلے کو چیلنج کر کے میرے مرنے کے بعد مسمی محمد عتیق کمال کو پریشان کرے،نہ ہی ان دکانوں میں کسی بھی بھائی کا حصہ ہے،باقی ماندہ منقولہ غیر منقولہ جائیداد کو باقی بھائی آپس میں تقسیم کر لیں،اس جائیداد کی تقسیم میں بھی محمد عتیق کمال برابر کا حصہ دار ہے اور شرعی لحاظ سے جو حصہ پانچوں بہنوں کا بنتا ہے،وہ باقی ماندہ جائیداد سے ان کو دے،یہ پانچوں بھی میری بیٹیاں ہیں ،وراثت سے ان کو بھی جو شرعی لحاظ سے ان کا جتنا حصہ بنتا ہے ان کو دیں،نہ دینے کی صورت میں مسمی فتح محمد کمال ولد مومن علی کمال میں مجرم نہیں ، چھ بھائی مجرم ہوں گے، اس لیے میں نے تحریر خود رقم کر کے سب بیٹوں سے دستخط کروا لیے ہیں۔یہ تحریر بطور سند ہے یہ تحریر کو چیلنج کرنا کسی بھی بھائی یا بہن کا اختیار نہیں ہے۔ اللہ تعالی اس پر عمل کی سب کو توفیق دے آمین ثم آمین ۔

ہمارے والد محترم فتح محمد کمال رحمتہ اللہ علیہ اللہ کریم ان کی مغفرت فرمائے اور ان کو بغیر حساب کتاب کے جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین۔ ان کے کل ترکہ کی تقسیم کی تفصیلات جو انھوں نے اپنی زندگی میں کی وہ درج ذیل ہیں:

ورثاء اور وراثت کی تفصیل یہ ہے۔ ایک بیوہ، چھ بیٹے اور پانچ بیٹیاں۔

  1. تین عدد دکانیں بمع کاروبار کا قبضہ اور تصرف اپنی زندگی میں ہی اپنے بیٹے عتیق الرحمان کے حوالےکردیاتھا۔
  2. 9 عدد جانور جن میں پانچ بڑے اور چار چھوٹے،جو انھوں نے اپنی زندگی میں اپنی زوجہ کو ہدیہ کر دیے تھے۔
  3. دو عدد مکان ایک عدد پلاٹ جو انھوں نے چھ بیٹوں اور پانچ بیٹیوں میں شرعی لحاظ سے تقسیم کر دیا تھا۔

یہ درج بالا تر کہ کی تقسیم والد صاحب کی تحریری وصیت کے عین مطابق کی ہے،جو کہ ساتھ لف ہے۔

  1. تقریبا 38000 روپے نقدی جو تمام ورثا نے باہمی رضا مندی سے اپنی والدہ کے حوالے کر دیے تھے۔
  2. جو ان کے زیر استعمال اشیاء تھیں،وہ تمام ورثا نے باہمی رضامندی سے آپس میں تقسیم کر لی تھیں۔

ہم تمام ور ثاء ترکہ کی تقسیم پر راضی ہیں، اگر کسی کے ساتھ کوئی کمی بیشی ہوئی ہے تو ہم اللہ کی رضا کے لیے اپنا حق معاف کرتے ہیں۔

مفتی حضرات سے درخواست ہے کہ او پر تحریر کردہ ترکہ کی تقسیم میں اگر کوئی شرعی لحاظ سے کوئی غلطی ہے تو ہماری راہنمائی فرمائیں۔

ورثا:محمد شفیق کمال،محمد صدیق کمال،محمد عتیق الرحمان،محمد خلیق کمال،محمد نوید کمال،محمد وحيدا كبر،ثمینہ کوثر،ریحانہ کوثر،رخسانہ کوثر،تنزیلہ کمال، حمیده کمال،ماریہ کمال

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یاد رہےزندگی میں جائداد وغیرہ کی تقسیم ہبہ یعنی گفٹ کہلاتی ہے۔ہبہ یعنی گفٹ کا حکم یہ ہے کہ ہبہ کرتے ہوئےاولاد میں برابری کی جائے یعنی بیٹے اور بیٹیوں، سب کو برابر حصہ دیا جائے،نیزہبہ کرتے ہوئے یہ بھی ضروری ہے کہ واہب یعنی ہبہ کرنے والاموہوب لہ(یعنی جس کو ہبہ کیا گیا ہے) کا مالکانہ تصرف کے اختیار کے ساتھ ہبہ کی جانے والی چیز پر مکمل قبضہ کروائے تاکہ ہبہ یعنی گفٹ کی تکمیل شرعی طریقے سے ہوجائے۔ زندگی میں جائداد وغیرہ تقسیم کرنےکے شرعی طریقےکی تفصیل درج ذیل ہے۔

۱۔اولاد میں برابر حصہ تقسیم کرےاور ہر ایک کو اس کےحصے کا مالک بنا کر باقاعدہ تقسیم کرکے قبضہ کروائے ۔

۲۔اگر اولاد میں برابر حصہ تقسیم نہیں کیا اور برابر حصہ تقسیم نہ کرنے کی وجہ، کسی کو نقصان پہنچانا ہے تویہ عمل مکروہ تحریمی ہے ،اگر نقصان پہنچانا مقصود نہیں اور کوئی وجہ ترجیح بھی نہیں تو یہ عمل مکروہ تنزیہی ہے ،اس لیے کہ بہرحال اولاد میں سے ہر ایک کو خواہ وہ بیٹا ہو یا بیٹی برابرہبہ( گفٹ) کرنا یہ مستحب ہے۔

۳۔ اولاد کو ہبہ کرتے ہوئے کسی معقول وجہ سے کمی بیشی کی جاسکتی ہے،مثلاً دینداری، امور دینیہ میں مشغول ہونا،خدمت یا زیادہ محتاج ہونا  وغیرہ اور اس طرح کی وجوہات کی وجہ سے کمی بیشی کرنا  مستحب ہے۔

۴۔اگر میراث کے مطابق بیٹوں کو بیٹیوں سے دگنا حصہ دےتو اس کی بھی گنجائش ہے۔

۵۔اگر جائداد مشترکہ طور پر ہبہ کرنے کا ارادہ ہو اور جائداد قابل تقسیم ہوتو باقاعدہ تقسیم کرکے مالک بنا کر قبضہ کروائے تاکہ ہبہ کی تکمیل شرعاً بھی ہوجائے، البتہ اگر جائداد قابل تقسیم ہواورواہب(گفٹ کرنے والا)موہوب لہ(جن کو گفٹ کیا گیا ہے) میں سے کسی ایک کو اس کی تقسیم کا باقاعدہ وکیل بنادےتو اس طرح اُس وکیل کو تخلیہ کرادینے سےبھی ہبہ تام ہوجائے گا،اوراگر جائداد وغیرہ ایسی ہوں کہ ناقابل تقسیم ہوں یعنی تقسیم کرکے ان سے نفع اٹھانا ممکن نہ ہو تو ایسی جائداد وغیرہ کو مشترکہ طور پر ہبہ کرنا شرعاً درست ہے بشرطیکہ قبضہ بھی کروادیا ہو۔

     مذکورہ تفصیل کی روشنی میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ ہبہ یعنی گفٹ کی تکمیل کے لیے چونکہ قبضہ کروانا شرعاً ضروری ہے،لہٰذا جو اشیاء آپ کے والد صاحب نے اپنی زندگی میں آپ بہن بھائیوں یا والدہ میں سے، جس کسی کو بھی مالک بناکر قبضے اور تصرف میں دے دی تھیں، وہ اسی کی شمار ہوں گی،والد صاحب کی وراثت کے طور پر تقسیم نہیں کی جائیں گی۔

البتہ ایسی اشیاء جن کے بارے میں اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ یہ فلاں کو دے دی جائے لیکن اپنی زندگی میں باقاعدہ مالک بناکر قبضے اور تصرف میں اسے نہیں دیاتھا تو ایسی اشیاءکو والد صاحب کی میراث شمار کرتے ہوئے شرعی حصص کے مطابق تمام ورثاء میں تقسیم کرنا ضروری ہوگا۔تقسیم کے بعد وارث کی مرضی ہے کہ وہ اپنے قبضے میں لینے کے بعد خود رکھے یا جس کو چاہے دے دے۔

اسی طرح ترکہ یعنی وراثت کی تقسیم سے پہلےاگر کوئی وارث اپنے شرعی حصے سے بلا عوض کسی دوسرے وارث یا تمام ورثاء کے حق میں دست بردار ہوجائے تو شرعاً یہ معتبر نہیں ہے،اس طرح کرنے سے ترکہ میں اس کا حصہ ختم نہیں ہوگا،البتہ اگر ترکہ کی تقسیم کے بعد کوئی وارث اپنا حصہ کسی دوسرے وارث یا تمام ورثاء کو دے دے تو شرعاًیہ معتبر ہے۔اسی طرح ایک اور صورت ہے کہ اگر کوئی وارث کچھ مال صلحاً لے لے(خواہ ترکہ میں سے یا اس کے علاوہ سے)اور ترکہ میں موجود اپنے حصے سے دست بردار ہوجائے تو یہ درست ہے،شرعی اصطلاح میں اسے تخارج کہتے ہیں۔

سوال میں مذکور تفصیلات کے مطابق نمبر ایک،دو اور تین میں مذکور تفصیل سے یہ معلوم ہورہا ہے کہ یہ تمام اشیاء آپ کے والد صاحب نے اپنی زندگی میں مذکورہ افراد کو مالک بنا کر قبضے اور تصرف میں دے دی تھیں،لہٰذا یہ آپ کے والد صاحب کی طرف سے مذکورہ افراد کے لیے ہبہ یعنی گفٹ شمار ہوں گی۔

اسی طرح سوال میں مذکور نمبر چار میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق کہ تمام وثاء نے آپس کی رضامندی سے 38000 روپے کی مکمل رقم والدہ کو مالک بناکر دے دی تھی،یہ رقم ورثاء کی طرف سے والدہ کےلیے ہبہ یعنی گفٹ شمار ہوگی،اگرچہ یہ رقم تقسیم سے قبل دی گئی ہے،لیکن چونکہ اس رقم میں مزید شرکت برقرار نہیں رہی،اس لیے یہ ہبہ تام اور شرعاً درست شمار ہوگا،از سر نو شرعی حصص کے مطابق آپس میں تقسیم کرکے پھر دوبارہ مذکورہ رقم اکٹھی کرکے والدہ کو دینا ضروری نہیں۔

 البتہ نمبر پانچ میں ذکر کردہ اشیاء بظاہر ورثاء میں شرعی اعتبار سے تقسیم کیے بغیر  والدہ یا دیگر ورثاء کو دی گئی ہیں،لہٰذا ان کی تقسیم شرعی اعتبار سے کرنا ضروری ہے۔تقسیم کے بعد ہر وارث اپنے حصے میں آنے والی اشیاء جسے چاہے دے سکتا ہے یا جس سے چاہے تبدیل کرسکتا ہے۔

مرحوم کی منقولہ و غیر منقولہ جائداد کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ تجہیز و تکفین کا خرچ  منہاکرنے اورمرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہوتواسےاداکرنےکےبعد،یامرحوم نےکوئی جائزوصیت کی ہوتواسےایک تہائی ترکہ میں نافذکرنےکےبعد،باقی منقولہ وغیرمنقولہ جائداد ایک سو چھتیس (136)حصوںمیں تقسیم کرکےمرحوم کی زوجہ کو سترہ(17)حصے،ہر بیٹےکو چودہ(14) حصےاورہر بیٹی کو سات(07)حصےملیں گے۔ فیصد کے اعتبار سے 12.50 فیصد زوجہ کو،10.29 فیصدہر ایک بیٹے کو اور 5.15 فیصد ہرایک بیٹی کو ملے گا۔

یاد رہے مذکورہ تقسیم اس بنیاد پر کی گئی ہے   کہ سوال میں دی گئی معلومات کے مطابق مرحوم  کی وفات کے وقت مرحوم کے ورثاء میں فقط ایک زوجہ،چھ بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں،ان کے علاوہ کوئی اور وارث جیسے مرحوم کے والدین وغیرہ زندہ نہیں تھے۔

مرحوم سے رشتہ

عددی حصہ

فیصدی حصہ

زوجہ

17

12.50فیصد

(1)بیٹا

14

10.29فیصد

(2)بیٹا

14

10.29فیصد

(3)بیٹا

14

10.29فیصد

(4)بیٹا

14

10.29فیصد

(5) بیٹا

14

10.29فیصد

(6) بیٹا

14

10.29فیصد

(1)بیٹی

7

5.15 فیصد

(2)بیٹی

7

5.15 فیصد

(3) بیٹی

7

5.15 فیصد

(4) بیٹی

7

5.15 فیصد

(5) بیٹی

7

5.15 فیصد

مجموعہ

136

100فیصد

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (7/ 288)

يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله الواحد جاز قضاء وهو آثم كذا في المحيط وفي فتاوى قاضي خان رجل أمر شريكه بأن يدفع إلى ولده مالا فامتنع الشريك عن الأداء كان للابن أن يخاصمه إن لم يكن على وجه الهبة وإن كان على وجهها لا لأنه في الأول وكيل عن الأب وفي الثاني لا وهي غير تامة لعدم الملك لعدم القبض وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبة ولو كان ولده فاسقا فأراد أن يصرف ماله إلى وجوه الخير ويحرمه عن الميراث هذا خير من تركه لأن فيه إعانة على المعصية ولو كان ولده فاسقا لا يعطي له أكثر من قوته.

عيون المسائل للسمرقندي الحنفي (ص: 350)

التسوية في الهبة بين الابن والابنة

1733. رجل له ابن وابنة فأراد أن يهب لهما شيئاً فالأفضل أن يسوي بينهما في قول أبي يوسف، وقَالَ مُحَمَّدٌ: يجعل للذكر مثل حظ الانثيين. فإن وهب ماله كله للابن؟ قَالَ: هو آثم وأجيزه في القضاء.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 445)

لو أراد أن يبر أولاده فالأفضل عند محمد أن يجعل للذكر مثل حظ الأنثيين، وعند أبي يوسف يجعلهما سواء وهو المختار.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 696)

وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 690)

(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 119)

(ومنها) أن يكون محوزا فلا تجوز هبة المشاع فيما يقسم وتجوز فيما لا يقسم كالعبد والحمام والدن ونحوها وهذا عندنا.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 692)

(قوله: فإن قسمه) أي الواهب بنفسه، أو نائبه، أو أمر الموهوب له بأن يقسم مع شريكه كل ذلك تتم به الهبة كما هو ظاهر لمن عنده أدنى فقه تأمل، رملي والتخلية: في الهبة الصحيحة قبض لا في الفاسدة جامع الفصولين.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 690)

(و) تصح الھبۃ (بقبض ).

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 563)

قال - رحمه الله - (وعصبهما الابن وله مثل حظهما) معناه إذا اختلط البنون والبنات عصب البنات فيكون للابن مثل حظهما فصار للبنات ثلاثة أحوال النصف للواحدة والثلثان للاثنين فصاعدا والتعصيب عند الاختلاط بالذكور.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (5/ 49)

قال الأتقاني معنى التخارج أن يصالح بعض الورثة من نصيبه على شيء فيخرج من البين.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 644)

(ولو أخرجوا واحدا) من الورثة (فحصته تقسم بين الباقي على السواء إن كان ما أعطوه من مالهم غير الميراث، وإن كان) المعطى (مما ورثوه فعلى قدر ميراثهم) يقسم بينهم.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 642)

وحق الوارث قبل القسمة يسقط بالإسقاط، وتمامه في الأشباه فيما يقبل الإسقاط وما لا كذا في الهامش.

( قال أحد الورثة لا دعوى لي في التركة لا يبطل دعواه ) لأن ما ثبت شرعا من حق لازم لا يسقط بالإسقاط. درر الحكام شرح غرر الأحكام (8/ 117)

الفتاوى الهندية (4/ 268)

إذا كانت التركة بين ورثة فأخرجوا أحدهما منها بمال أعطوه إياه والتركة عقار أو عروض صح قليلا كان ما أعطوه أو كثيرا وإن كانت التركة ذهبا فأعطوه فضة أو كانت فضة فأعطوه ذهبا فهو كذلك لأنه بيع الجنس بخلاف الجنس فلا يشترط التساوي ويعتبر التقابض في المجلس.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (6/ 239)

«الفصل الثاني في المشاع» فيما يحتمل القسمة من رجلين أو من جماعة، عندهما صحيحة، وعند أبي حنيفة رحمه الله فاسدة وليست بباطلة حتى تفيد الملك عند القبض، فالشيوع من الطرفين مانع صحة الهبة وتمامها بالإجماع، ومن طرف الموهوب له مانع عند أبي حنيفة خلافاً لهما؛ لأن الشيوع من طرف الموهوب له لا يلحق ضماناً بالمتبرع، وهو المانع من تمام الهبة في الشيوع من الطرفين.

 الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 692)

وفي الجوهرة، وحيلة هبة المشغول أن يودع الشاغل أولا عند الموهوب له ثم يسلمه الدار مثلا فتصح لشغلها بمتاع في يده (في) متعلق بتتم (محوز) مفرغ (مقسوم ومشاع لا) يبقى منتفعا به بعد أن (يقسم) كبيت وحمام صغيرين لأنها (لا) تتم بالقبض (فيما يقسم ولو) وهبه (لشريكه) أو لأجنبي لعدم تصور القبض الكامل كما في عامة الكتب فكان هو المذهب وفي الصيرفية عن العتابي وقيل: يجوز لشريكه، وهو المختار.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 769)

(فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن) وأما مع ولد البنت فيفرض لها الربع (وإن سفل والربع لها عند عدمهما) فللزوجات حالتان الربع بلا ولد والثمن مع الولد.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 234)

قال - رحمه الله - (، وعصبها الابن، وله مثلا حظها) معناه إذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين لقوله تعالى {يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين} [النساء: 11] فصار للبنات ثلاثة أحوال النصف للواحدة والثلثان للاثنتين فصاعدا، والتعصيب عند الاختلاط بالذكور.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 772)

(قوله والسدس لبنت الابن إلخ) للبنات ستة أحوال ثلاثة تتحقق في بنات الصلب، وبنات الابن وهي النصف للواحدة والثلثان للأكثر وإذا كان معهن ذكر عصبهن وثلاثة تنفرد بها بنات الابن.

الاختيار لتعليل المختار (5/ 91)

وأما الاثنان من السبب فالزوج والزوجة، فللزوج النصف عند عدم الولد وولد الابن، والربع مع الولد أو ولد الابن، وللزوجة الربع عند عدمهما، والثمن مع أحدهما بذلك نطق صريح الكتاب، والزوجات والواحدة يشتركن في الربع

الفتاوى الهندية (6/ 451)

فالعصبة نوعان: نسبية وسببية، فالنسبية ثلاثة أنواع: عصبة بنفسه وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى وهم أربعة أصناف: جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده……

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 762)

(فيبدأ بذوي الفروض)….. (ثم بالعصبات)

الفتاوى الهندية (6/ 447)

فيبدأ بذي الفرض ثم بالعصبة النسبية ثم بالعصبة السببية ……

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

18.محرم1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب