| 87602 | طلاق کے احکام | بچوں کی پرورش کے مسائل |
سوال
کچھ ذاتی معاملات کی بناء پر میری بیوی کا مجھ سے طلاق کا مطالبہ ہے اور اس کی ضد ہے کہ بچے وہ رکھے گی، ملنے بھی نہیں دے گی اور نہ ہی نان نفقہ لے گی ،میں نے بہت کوشش کی ہے کہ طلاق نہ ہو، مگر کوئی مثبت فرق نہیں پڑا۔
میں نا امید ہو کر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کے طلاق دے دوں ،مگر میری بس اتنی خواہش ہے کہ میں جو کماتا ہوں ،وہ میری اولاد پر اور خود اپنی ذات پر خرچ کرے، تا کہ ہمارے اس فیصلے سے ہمارے بچے متاثر نہ ہوں، میرا اس کے سوا کوئی مطالبہ نہیں ہے،میری راہنمائی فرمائیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
گوکہ طلاق کو شریعت نے ابغض الحلال یعنی حلال چیزوں میں سے ناپسندیدہ قرار دیا ہے،کیونکہ شریعت کا منشاء یہ ہے کہ نکاح کی بندھن کو حتی الامکان قائم رکھا جائے،لیکن جہاں میاں بیوی کے لیے ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت رکھ کر زندگی گزارنا مشکل ہوجائے اور اللہ نے جو حدود مقرر کی ہیں ان کی پاسداری ممکن نہ رہے تو وہاں شریعت نے شوہر کو طلاق کے ذریعے اس بندھن کو توڑنے کی اجازت دی ہے۔
لہذا مذکورہ صورت میں جیسا کہ استفتاء میں مذکور ہے کہ ہر ممکن کوشش کے باوجود میاں بیوی کے درمیان نباہ نہیں ہوپا رہا،طلاق کی گنجائش ہے،البتہ بہتر یہ ہے کہ صرف ایک طلاق دی جائے،تین نہ دی جائیں،تاکہ بعد میں بوقت ضرورت دوبارہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کا امکان باقی رہے۔
رہی بات طلاق کے بعد اولاد کی پرورش اور نان نفقہ کی تو اس کی تفصیل در ج ذیل ہے:
طلاق کے بعد بچے کی پرورش کا سات سال تک،جبکہ لڑکی کی پرورش کاحق بالغ ہونے تک ماں،نانی اور دادی کو حاصل ہوتا ہے،جبکہ ان کے علاوہ دیگر عورتوں(خالہ،بہن وغیرہ) کو نو سال تک پرورش کا حق حاصل ہوتا ہے،باپ کو زبردستی لینے کا حق نہیں،اس کے بعد باپ چاہے تو لے سکتاہے ،ماں کو روکنے کا حق نہ ہوگا،البتہ اگر اس دوران ماں نے کسی ایسے مرد سے نکاح کرلیا جو بچے کا محرم رشتہ دار نہ ہو تو اس کی پرورش کا حق ختم ہوجائے گا،اس کے بعد نانی کو پرورش کا حق حاصل ہوگا،اگر نانی نہ ہو یا وہ پرورش پر آمادہ نہ ہو تو پھر دادی کو حق حاصل ہوگا۔
حضانت(پرورش) کی طے شدہ عمر کے بعد ماں کے ذمے لازم ہے کہ بچوں کو والد کی تحویل میں دے دے،اگر وہ نہیں دے گی تو والد کی حق تلفی کی وجہ سےگناہ گار ہوگی،اگر وہ خوشی سے اس پر آمادہ نہ ہو تو باپ زبردستی لے سکتا ہے اور اس کے لئے اسے قانونی چارہ جوئی کا حق بھی حاصل ہے۔
باپ کو بلوغت تک بچوں کو اپنے پاس رکھنے کا اختیار ہے،بچے جب بالغ ہوجائیں اور اپنے نفع نقصان کو سمجھنے لگیں تو پھر شریعت نے انہیں اختیار دیا ہے کہ جہاں چاہیں رہیں،کوئی انہیں ساتھ رہنے پر مجبور نہیں کرسکتا،البتہ اگر بلوغت کے بعد بھی وہ سمجھدار نہ ہوں اور ان پر بھروسہ نہ کیا جاسکتا ہو تو پھر باپ کوانہیں اپنے پاس رکھنے کا حق حاصل ہے۔
نیز بلوغت کے بعد اگر لڑکی کسی ایسی جگہ رہنا چاہتی ہو،جہاں رہنے میں اخلاقی طور پر اس کے بگڑنے کا اندیشہ ہو،یا اس کی عزت اور آبرو کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو والد بحیثیتِ سرپرست اسے روک سکتا ہے۔
نیز بچے جب تک والدہ کی پرورش میں ہوں تو والد کو اور جب والد کی پرورش میں ہوں تو والدہ کو ان سے ملاقات کا حق حاصل ہوتا ہے،ان میں سے کوئی بھی دوسرے کو بچوں سے ملنے سے منع نہیں کرسکتا اور پرورش کے دوران بچوں کا نان نفقہ والد ہی کے ذمے لازم ہے،اس لئے آپ کی بیوی کی یہ ضد بے جا ہے کہ وہ آپ کو بچوں سے ملنے نہیں دے گی اور نہ ان کا نان نفقہ آپ سے لے گی۔
حوالہ جات
"الدر المختار " (3/ 566):
"(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم بحر بحثا".
وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب. وعند مالك، حتى يحتلم الغلام، وتتزوج الصغيرة ويدخل بها الزوج عيني (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى.
"البحر الرائق " (ج 11 / ص 199):
"( قوله ومن نكحت غير محرم سقط حقها ) أي : غير محرم من الصغير كالأم إذا تزوجت بأجنبي منه لقوله { عليه الصلاة والسلام أنت أحق به ما لم تتزوجي } ولأن زوج الأم إذا كان أجنبيا يعطيه نزرا وينظر إليه شزرا فلا نظر له".
"الفتاوى الهندية" (1/ 542):
"وبعدما استغنى الغلام وبلغت الجارية فالعصبة أولى يقدم الأقرب فالأقرب كذا في فتاوى قاضي خان. ويمسكه هؤلاء إن كان غلاما إلى أن يدرك فبعد ذلك ينظر إن كان قد اجتمع رأيه وهو مأمون على نفسه يخلى سبيله فيذهب حيث شاء، وإن كان غير مأمون على نفسه فالأب يضمه إلى نفسه ويوليه ولا نفقة عليه إلا إذا تطوع كذا في شرح الطحاوي.
والجارية إن كانت ثيبا وغير مأمونة على نفسها لا يخلى سبيلها ويضمها إلى نفسه، وإن كانت مأمونة على نفسها فلا حق له فيها ويخلى سبيلها وتنزل حيث أحبت كذا في البدائع".
"صفوة التفاسير" (1/ 261):
"التفسیر: {إِنَّ الله يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤدُّواْ الأمانات إلى أَهْلِهَا} الخطاب عام لجميع المكلفين كما أن الأمانات تعم جميع الحقوق المتعلقة بالذمم سواءً كانت حقوق الله أو العباد .
قال الزمخشري: الخطاب عام لكل أحد في كل أمانة، والمعنى يأمركمﷲ أيها المؤمنون! بأداء الأمانات إِلى أربابها. قال ابن كثير: يأمر تعالى بأداء الأمانات إِلى أهلها وهو يعم جميع الأمانات الواجبة على الإِنسان من حقوقﷲ عَزَّ وَجَلَّ على عباده من الصلاة والزكاة والصيام والكفارات وغيرها، ومن حقوق العباد بعضهم على بعض كالودائع وغيرها".
"البحر الرائق " (4/ 186):
"(قوله:ولا تسافر مطلقة بولدها إلا إلى وطنها وقد نكحها ثم) ؛ لأن في السفر به إضرارا بأبيه، فإذا خرجت به إلى وطنها وقد كان تزوجها الزوج فيه فلها ذلك؛ لأنه التزم المقام فيه عرفا وشرعا قال - عليه السلام - «من تأهل ببلدة فهو منهم».....
وفي شرح النقاية وإنما قال المصنف تسافر دون أن تخرج؛ لأنه لو كان بين الموضعين تقارب بحيث يتمكن الأب من مطالعة ولده والرجوع إليه في نهاره جاز لها أن تنتقل إليه سواء كان وطنا لها أو لم يكن وقع العقد فيه أو لم يقع؛ لأن الانتقال إلى قريب بمنزلة الانتقال من محلة إلى محلة في بلدة واحدة اهـ".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
23/ذی قعدہ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


