03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تقسیم میراث کامسئلہ
78824میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

حافظ منیراحمدکےپسماندگان میں ۲ زندہ بیٹے،والدہ،زوجہ اور تین بیٹیاں ہیں۔مرحوم کی کل جائیداد۱۵مرلہ زمین ہے(۱۰مرلہ تعمیرمکان اور۵مرلہ سفیدہ پلاٹ)۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ  میں مرحوم حافظ منیراحمدکی وفات کےوقت تمام مملوکہ جائیدادکوترکہ میں شمارکیاجائےپھر میت کے کل   ترکہ سے تجہیز و تکفین مسنون کا خرچ نکالنے کے بعد اگر مرحوم  کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو اس قرض کی  ادائیگی کی جائے، پھر اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی ماندہ ترکہ کے ایک تہائی تک اسے پورا کیا جائے۔ پھر جو ترکہ باقی  بچ جائے اس کے کل  168 حصے کئے جائیں اور انہیں درج ذیل طریقے کے مطابق ورثاء میں تقسیم کیا جائے ۔

نمبرشمار

ورثہ

عددی حصہ

فیصدی حصہ

۱

والدہ

28

16.6666%

۲

بیوہ

21

12.5000%

۳

بیٹی

17

10.1190%

۴

بیٹی

17

10.1190%

۵

بیٹی

17

10.1190%

۶

بیٹا

34

20.2381%

۷

بیٹا

34

20.2381%

کل

168

100%

مکان اورپلاٹ براہ راست ورثاء میں تقسیم ہونگے،اور اگرورثہ چاہیں توقیمت کےاعتبارسےبھی تقسیم کرسکتےہیں۔مرحوم کی حیات میں جس بیٹےکاانتقال ہواہےاس کاحافظ منیر احمدکی میراث میں حصہ نہیں ہے۔

حوالہ جات

القرآن الكريم:

﴿يُوْصِيْكُمُ اللّـٰهُ فِىٓ اَوْلَادِكُمْ ۖ لِلـذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ ،فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ﴾ [النساء: 11[

﴿وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ﴾ [النساء[12:

﴿وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَنْ تَضِلُّوا وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾ [النساء: 176[

ولی الحسنین

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

۱۶جمادی الثانیہ۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ولی الحسنین بن سمیع الحسنین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب