| 78888 | نماز کا بیان | مریض کی نماز کا بیان |
سوال
میری نانی سات سالوں سےبیماری کی وجہ سےبسترپرپڑی ہے،ہاتھ،پاؤں بالکل سخت ہوگئےہیں ،خودسےکروٹ بھی نہیں بدل سکتی،ساتھ ساتھ میں شوگرکی بیماری بھی ہےجس کی وجہ سےقضائے حاجت پرقابونہیں،لہذاکھانے،پینے،اٹھنےبیٹھنے،قضائےحاجت اورطہارت میں دوسروں کی محتاج ہےتو ان کی فوت شدہ نمازوں کاکیاحکم ہے؟ان کےپاس پانچ تولےسونا ہے،کیا ان کی نمازوں کافدیہ اس سونے کو فروخت کرکے دے سکتے ہیں؟اور آئندہ کےلیےنمازوں کا کیا حکم ہے؟رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زندگی میں فوت شدہ نمازوں کا فدیہ دینا درست نہیں،بلکہ انتقال کے بعد فوت شدہ نمازوں کا فدیہ ادا کرنااس شرط سے لازم ہے کہ بیماری کی حالت میں کم از کم اشارے سے نماز پڑھنے پر وہ قادر ہواور بیماری کے بعدکم از کم اشارے سے نمازیں ادا کرنے کا موقع انہیں ملا ہو اور ایسی صورت میں اس نے فوت شدہ نمازوں کے فدیہ کی ادائیگی کی وصیت بھی کی ہو،نیزاس فدیہ کی ادائیگی ان کے سونے کو فروخت کرکے بھی کی جاسکتی ہے، وصیت نہ کرنے کی صورت میں ان کی نمازوں کا فدیہ ادا کرنا اگرچہ لازم نہیں ،لیکن اگر کوئی وارث اپنی طرف سے ادا کرنا چاہے تو ادا کرسکتا ہے۔
واضح رہے کہ جو نمازیں زندگی میں ایک دن سے زائد بیہوشی کی حالت میں فوت ہوجائیں یا بیہوشی تو نہیں تھی ،لیکن مریض اشارے سے پڑھنے پر بھی قادر نہ ہو تو ایسی نمازیں واجب ہی نہیں ہوئیں، لہذا ان کا فدیہ بھی لازم نہیں ہوا۔
آئندہ کی نمازوں کابھی یہی حکم ہے کہ اگر اشارےسےادا کرسکتی ہےتو کرے،نہیں کرسکتی تو اس کے ذمہ ایسی نمازیں لازم نہیں۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 74):
(قوله ولو فدى عن صلاته في مرضه لا يصح) في التتارخانية عن التتمة: سئل الحسن بن علي عن الفدية عن الصلاة في مرض الموت هل تجوز؟ فقال لا. وسئل أبو يوسف عن الشيخ الفاني هل تجب عليه الفدية عن الصلوات كما تجب عليه عن الصوم وهو حي؟ فقال لا. اهـ. وفي القنية: ولا فدية في الصلاة حالة الحياة بخلاف الصوم. اهـ.
أقول: ووجه ذلك أن النص إنما ورد في الشيخ الفاني أنه يفطر ويفدي في حياته، حتى إن المريض أو المسافر إذا أفطر يلزمه القضاء إذا أدرك أياما أخر وإلا فلا شيء عليه، فإن أدرك ولم يصم يلزمه الوصية بالفدية عما قدر، هذا ما قالوه، ومقتضاه أن غير الشيخ الفاني ليس له أن يفدي عن صومه في حياته لعدم النص ومثله الصلاة؛ ولعل وجهه أنه مطالب بالقضاء إذا قدر، ولا فدية عليه إلا بتحقيق العجز عنه بالموت فيوصي بها، بخلاف الشيخ الفاني فإنه تحقق عجزه قبل الموت عن أداء الصوم وقضائه فيفدي في حياته، ولا يتحقق عجزه عن الصلاة لأنه يصلي بما قدر ولو موميا برأسه، فإن عجز عن ذلك سقطت عنه إذا كثرت، ولا يلزمه قضاؤها إذا قدر كما سيأتي في باب صلاة المريض، وبما قررنا ظهر أن قول الشارح بخلاف الصوم أي فإن له أن يفدي عنه في حياته خاص بالشيخ الفاني تأمل۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۱۸جمادی الثانیۃ۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


