03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غسل کے بعد کوئی جگہ خشک رہ جانے سے غسل کا حکم
78926متفرق مسائلمتفرق مسائل

سوال

اگر غسل کے بعد معلوم ہوجائے کہ جسم کی  فلاں جگہ خشک رہ گئی ہے تو غسل دوبارہ کرنا پڑے گا یا صرف اس جگہ کو دھو لیا جائے گا جو خشک رہ گئی تھی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر غسل کے بعد معلوم ہو کہ فلاں جگہ خشک رہ گئی ہے تو صرف اس حصہ کا  دھونا کافی ہے جو خشک رہ گیا تھا ، پورا غسل دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

حوالہ جات

إذا توضأ أو اغتسل وبقی علی یدہ لمعة فاخذ البلل منھا فی الوضوء أو من أی عضو کان فی الغسل،وغسل اللمعة یجوز. )البحر الرائق:1/93)

جنب اغتسل وبقی لمعۃ وفنی ماءہ یتیمم لبقاء الجنابۃ فإن أحدث تیمم للحدث فان وجد ماء یکفیھما صرفہ إلیھما. (الفتاوى اله‍ندية :1/29)

(قولہ ولمعۃ و جنابۃ) أي لواغتسل وبقیت علی بدنہ لمعۃ لم یصبھا الماء فتیمم لھا . (ردالمحتار:1/256)

محمدادریس

دارالافتاء،جامعۃ الرشید، کرچی

18/جماد ی الآخرہ /1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب