| 80404 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میراث کے پلاٹ سے ملنے والا کرایہ والد صاحب کی زندگی ہی سے والدہ کے استعمال میں تھا اور والد صاحب کے انتقال کے بعد بھی انہی کے استعمال میں رہا، کیا ایسا کرنا درست تھا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
والد صاحب کے انتقال کے وقت ہی ان کی تمام جائیداد ان کے ورثہ کی ملکیت میں چلی گئی ہے، لہذا اس سے ملنے والے کرایہ پر بھی ان کے تمام ورثہ کا حق ہے۔ البتہ اگر تمام ورثہ بالغ ہوں اور والدہ کے اس کرایہ کے استعمال پر راضی ہوں تو ان کا یہ کرایہ استعمال کرنا جائز ہے۔
حوالہ جات
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 285)
(قوله: ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بإذنه وكل واحد منهما في نصيب صاحبه كالأجنبي) لأن تصرف الإنسان في مال غيره لا يجوز إلا بإذن أو ولاية.
ولی الحسنین
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
23 ذو القعدہ 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ولی الحسنین بن سمیع الحسنین | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


