| 80385 | نکاح کا بیان | حرمت مصاہرت کے احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام، آگر ایک سوتیلا باپ اپنی سوتیلی بیٹی کے ساتھ بدفعلی کرے، لیکن اپنا عضوآدھا ڈال کر اپنا پانی باہر نکالے۔ لیکن اسے اپنی غلطی محسوس ہونے کے بعد وہ اپنی بیوی سے معافی مانگ لے یا بچی سے بھی۔ کیا میاں بیوی کا نکاح قائم رہے گا؟ جب کہ بیوی ہونے کے ناطے وہ اپنے شوہر کو معاف کردے، میاں بیوی کسی صورت الگ نہیں ہونا چاہتے ہیں۔ کوئی حل بھی تجویز کریں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
"بدفعلی"سے مراد اگر لواطت ہے تو اس سے بیوی حرام نہیں ہوگی،یہ کام عقلاً، طبعًا، شرعًا انتہائی شنیع اور قبیح ترین عمل ہے، اس کی حرمت اور مذمت قرآن پاک کی کئی آیات اور احادیثِ مبارکہ میں وارد ہوئی ہے۔
اگراس سے مراد شرمگاہ میں جسمانی تعلق قائم کرنا ہےتو اس کا حکم یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی سوتیلی بیٹی کے ساتھ جسمانی تعلق (صحبت)قائم کرلیتا ہے تو شرعا اس لڑکی کی ماں (اس شخص کی بیوی)اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی ہےاور شوہر پر ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیوی سے زبان سے یہ کہے کہ”میں نے تمہیں چھوڑدیا،تمہیں آزاد کیا وغیرہ۔اس کے بعد وہ عدات گزار کر دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية(1/ 275):
"و كذا لو وطئ في دبرها لاتثبت الحرمة، كذا في التبيين. و هو الأصح هكذا في المحيط. و عليه الفتوى هكذا في جواهر الأخلاطي."
"وبحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح حتى لا يحل لها التزوج بآخر إلا بعد المتاركة وانقضاء العدة، والوطء بها لا يكون زنا.
(قوله: وبحرمة المصاهرة إلخ) قال في الذخيرة: ذكر محمد في نكاح الأصل أن النكاح لا يرتفع بحرمة المصاهرة والرضاع بل يفسد حتى لو وطئها الزوج قبل التفريق لا يجب عليه الحد اشتبه عليه أو لم يشتبه عليه. اهـ.
(قوله: إلا بعد المتاركة) أي، وإن مضى عليها سنون كما في البزازية، وعبارة الحاوي إلا بعد تفريق القاضي أو بعد المتاركة. اهـ.وقد علمت أن النكاح لا يرتفع بل يفسد وقد صرحوا في النكاح الفاسد بأن المتاركة لا تتحقق إلا بالقول، إن كانت مدخولا بها كتركتك أو خليت سبيلك، وأما غير المدخول بها فقيل تكون بالقول وبالترك على قصد عدم العود إليها.وقيل: لا تكون إلا بالقول فيهما، حتى لو تركها، ومضى على عدتها سنون لم يكن لها أن تتزوج بآخر فافهم."
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
22/ذیقعدہ1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


