03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“میں اللہ کو گواہ بنا کے طلاق دیتا ہوں” الفاظ تین مرتبہ کہنے کا حکم
80427طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

میں نے اپنی بیوی کا فون پکڑا تو اسے اپنے بھائیوں کے پاس بھیج دیا۔ کچھ دن وہاں رہنے کے بعد یہ کہہ کر نکل گئی کہ میں اپنے شوہر کے پاس جارہی ہوں۔ پھر کچھ دن بعد ایک عورت کا فون آیا، اس نے کہا کہ آپ کی عورت بہت گندی ہوچکی ہے، جگہ جگہ گند کر رہی ہے اور میرے شوہر کے ساتھ بھاگ گئی ہے، میرے شوہر کے ساتھ اس کے دو بھائی بھی ہیں۔ میں نے جانچ پڑتال کی تو اس کی رشتہ دار نے بتایا کہ اس کا دن کہیں اور رات کہیں اور ہوتی تھی۔ میں بہت زیادہ پریشان ہوں، ہر وقت روتا ہی رہتا ہوں، جی کرتا ہے ابھی خود کشی کرلوں، میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں؛ تاکہ مار دوں یا خود ہی مرجاؤں۔ میں نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہے، جبکہ میں اسے طلاق ہی نہیں دی۔ اس کے بعد میں نے اللہ کو گواہ بنا کے تین دفعہ خود سے زبانی طلاق دیدی، یہ الفاظ "میں اللہ کو گواہ بنا کے طلاق دیتا ہوں" تین مرتبہ کہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 اگر سوال میں ذکر کردہ تفصیل درست ہے تو آپ کی بیوی کے یہ سارے کام انتہائی سنگین اور کبیرہ گناہ ہیں جن کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوئی ہے۔ اس پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑا گڑا کر توبہ و استغفار کرے اور حیا و پاک دامنی کے ساتھ اپنے گھر میں رہے۔ آپ کا اس صورتِ حال میں خود کشی وغیرہ کے بارے میں سوچنا بھی حرام اور ناجائز ہے، اس لیے ایسے کسی اقدام سے باز رہیں، صبر سے کام لیں اور اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھیں۔

جہاں تک آپ دونوں کے رشتے کا تعلق ہے تو جب آپ نے یہ الفاظ "میں اللہ کو گواہ بنا کے طلاق دیتا ہوں" تین مرتبہ کہے تو اس سے آپ کی بیوی پر طلاقِ مغلظہ واقع ہوگئی اور آپ دونوں کا نکاح ختم ہوگیا، اب نہ رجوع ہوسکتا ہے نہ آپ دونوں کا دوبارہ نکاح۔ اس پر لازم ہے کہ تین طلاقیں واقع ہونے کی بعد سے عدت کے احکامات کا خیال رکھتے ہوئے اپنی عدت پوری کرے۔ عدت پوری ہونے کے بعد اگر وہ کسی دوسری جگہ شریعت کے مطابق شادی کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔   

حوالہ جات

القرآن الکریم:

{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } الآیة [البقرة: 230]

رد المحتار (3/ 248):

قوله (لتركه الإضافة) أي المعنوية؛ فإنها الشرط، والخطاب من الإضافة المعنوية، وكذا الإشارة نحو هذه طالق وكذا نحو امرأتي طالق وزينب طالق اه ح.

أقول: وما ذكره الشارح من التعليل أصله لصاحب البحر أخذا من قول البزازية في الأيمان: قال لها لا تخرجي من الدار إلا بإذني؛ فإني حلفت بالطلاق فخرجت لا يقع؛ لعدم ذكر حلفه بطلاقها، ويحتمل الحلف بطلاق غيرها فالقول له اه، ومثله في الخانية.  وفي هذا الأخذ نظر؛ فإن مفهوم كلام البزازية أنه لو أراد الحلف بطلاقها يقع؛ لأنه جعل القول له في صرفه إلى طلاق غيرها. والمفهوم من تعليل الشارح تبعا للبحر عدم الوقوع أصلا لفقد شرط الإضافة، مع أنه لو أراد طلاقها تكون الإضافة موجودة ويكون المعنى فإني حلفت بالطلاق منك أو بطلاقك، ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه لما في البحر: لو قال طالق فقيل له من عنيت؟ فقال: امرأتي طلقت امرأته اه، على أنه في القنية قال عازيا إلى البرهان صاحب المحيط: رجل دعته جماعة إلى شرب الخمر فقال: إني حلفت بالطلاق أني لا أشرب وكان كاذبا فيه ثم شرب طلقت، وقال صاحب التحفة لا تطلق ديانة اه.  وما في التحفة لا يخالف ما قبله؛ لأن المراد طلقت قضاء فقط لما مر من أنه لو أخبر بالطلاق كاذبا لايقع ديانة، بخلاف الهازل، فهذا يدل على وقوعه وإن لم يضفه إلى المرأة صريحا، نعم يمكن حمله على ما إذا لم يقل إني أردت الحلف بطلاق غيرها، فلا يخالف ما في البزازية. ويؤيده ما في البحر لو قال: امرأة طالق أو قال طلقت امرأة ثلاثا وقال لم أعن امرأتي يصدق اه.

ويفهم منه أنه لو لم يقل ذلك تطلق امرأته؛ لأن العادة أن من له امرأة إنما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها؛ فقوله إني حلفت بالطلاق ينصرف إليها ما لم يرد غيرها؛ لأنه يحتمله كلامه……………وسيذكر قريبا أن من الألفاظ المستعملة الطلاق يلزمني والحرام يلزمني وعلي الطلاق وعلي الحرام فيقع بلانية للعرف الخ، فأوقعوا به الطلاق مع أنه ليس فيه إضافة الطلاق إليها صريحا، فهذا مؤيد لما في القنية، وظاهره أنه لا يصدق في أنه لم يرد امرأته للعرف، والله أعلم.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       22/ ذو القعدۃ/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب