03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیس رکعات تراویح سنت ہونے پردلیل کیاہے؟
80388نماز کا بیانتراویح کابیان

سوال

ٱلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ ٱللَّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ کیا آٹھ رکعت تراویح بھی ثابت ہے۔ کچھ لوگ آٹھ رکعت تراویح پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ "آپ ﷺ نے آٹھ رکعت تراویح پڑھے تھی اور یہی سنت نبوی ہے اور حضرت عمر ؓ نے ۲۰ رکعت شروع کروائی تو اسلئے یہ بھی سنت ہے"۔ (۱)اس بات میں کتنی سچائی ہے؟ (۲) کیا آٹھ رکعت تراویح آپ ﷺ يا کسی صحابی سے ثابت ہے؟ (۳) کیا ۳۶ رکعت تراویح بھی ثابت ، کیوں کہ مالکی حضرت ۳۶ رکعت پڑھتے ہیں ؟ (۴)کیا کسی صحابی سے ۲۰ سے کم یا زیادہ تراویح ثابت ہے( مثلاً ۱۶ رکعت) ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

رمضان میں تراویح کاپڑھنارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے،مسلم شریف کی حدیث ہے جس کامفہوم اورخلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ رمضان المبارک میں مسجدتشریف لے گئے،کچھ لوگ اور بھی مسجدمیں آگئے،چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کونمازپڑھائی ، اسی طرح لوگ دوسرے تیسرے روزبھی مسجدمیں جمع ہوئے اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کونمازپڑھائی ،جب چوتھی رات ہوئی تولوگ  نمازکے لئےمسجدمیں جمع ہوگئے،،لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجدتشریف نہ لائے اوراگلے دن کی فجرکی نمازکے بعدلوگوں کواس کی وجہ بھی ارشادفرمائی کہ میں گزشتہ رات اس لئے نہیں آیاکہ مجھے اندیشہ ہونے لگاکہ کہیں یہ رمضان میں رات کی نمازفرض نہ ہوجائے۔اس سے معلوم ہواکہ نفس تراویح کاثبوت تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتاہے،البتہ جہاں تک تعدادرکعت) بیس رکعت( کاتعلق ہے تواس کاثبوت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت سے ہے،جواگرچہ ضعیف ہے،لیکن محدثین کے نزدیک یہ اصول ہے کہ اگرضعیف روایت کوقبولیت حاصل ہوجائے تو وہ حسن  کےدرجہ میں آجاتی ہے،اس لئے یہ حدیث  محدثین کے اصول کے مطابق اس قابل ہے کہ اس سے بیس رکعت تراویح پراستدلال ہوسکے۔دوسرایہ کہ بیس رکعت پرحضرت عمررضی اللہ کے حکم سے تمام صحابہ کرام کامتفق ہونا بھی  حدیث مرفوع کے حکم میں ہے،کیونکہ عبادات  کی مقدار اورتعدادکامعاملہ امرتوقیفی ہے،جس میں صحابی کی رائے کادخل نہیں ہوسکتا،اس لئے لازمی نتیجہ یہی نکلے گاکہ بیس رکعت کاثبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کرکیاگیا، اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس سنت سے کوئی اصل نہ ہوتی تو وہ ہرگز ایسا نہ کرتے، اور ضرور کوئی صحابی اس پر نکیر کرتے، بہرحال صحابہ کرام کے اجماع سے لے کر آج تک تمام فقہاءِ کرام اور امتِ مسلمہ کا اجماع رہا ہے، اور تمام فقہاء کے نزدیک تراویح بیس رکعات سنت ہے، اور بلاعذر اس کاتارک گناہ گار ہے، اور بیس رکعت تراویح کا انکارنصوصِِ شرعیہ سے ناواقفیت، جمہور فقہا ءِ کرام کی مخالفت ہے، نیز بیس رکعات سے کم رکعات ادا کرنا سنت کے خلاف ہے۔

بعض حضرت جابررضی اللہ عنہ کی ایک روایت سے آٹھ رکعت پراستدلال کرتے ہیں، تویہ بات  واضح رہے کہ اس میں یہ تصریح نہیں ہے کہ یہ آٹھ رکعت تراویح کی تھیں ،اس میں تہجدکابھی احتمال ہے اوراس کابھی احتمال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی رکعات گھرمیں ادافرمائی ہوں اورحضرت جابررضی اللہ عنہ کواس کاعلم نہ ہواورانہوں نے اپنے علم کے مطابق آٹھ رکعت  والی روایات بیان فرمائی ہو۔

حوالہ جات

وفی صحيح مسلم (ج 1 / ص 524):

عن عروة بن الزبير أن عائشة أخبرته أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج من جوف الليل فصلى في المسجد فصلى رجال بصلاته فأصبح الناس يتحدثون بذلك فاجتمع أكثر منهم فخرج رسول الله صلى الله عليه و سلم في الليلة الثانية فصلوا بصلاته فأصبح الناس يذكرون ذلك فكثر أهل المسجد من الليلة الثالثة فخرج فصلوا بصلاته فلما كانت الليلة الرابعة عجز المسجد عن أهله فلم يخرج إليهم رسول الله صلى الله عليه و سلم فطفق رجال منهم يقولون الصلاة فلم يخرج إليهم رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى خرج لصلاة الفجر فلما قضى الفجر أقبل على الناس ثم تشهد فقال أما بعد فإنه لم يخف على شأنكم الليلة ولكني خشيت أن تفرض عليكم صلاة الليل فتعجزوا عنها

فيض البارى شرح صحيح البخارى (ج 5 / ص 147):

الحديث إذا تأيد بالعمل ارتقى من حال الضعف إلى مرتبة القبول. قلت: وهو الأوجه عندي

العرف الشذي للكشميري (ج 1 / ص 492):

 وفي السنن الكبرى وغيره بسند ضعيف من جانب أبي شيبة فإنه ضعيف اتفاقاً عشرون ركعة ، وأما عشرون ركعة الآن إنما هو سنة الخلفاء الراشدين ، ويكون مرفوعاً

صحيح ابن خزيمة لمحمد النيسابوري (ج 2 / ص 138):

عن جابر بن عبد الله قال :صلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم في رمضان ثمان ركعات والوتر فلما كان من القابلة اجتمعنا في المسجد ورجونا أن يخرج إلينا فلم نزل في المسجد حتى أصبحنا فدخلنا على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلنا له : يا رسول الله رجونا أن تخرج إلينا فتصل بنا فقال : كرهت أن يكتب عليكم الوتر قال الأعظمي : إسناده حسن

وفی المبسوط لشمس الدين السرسخي  (ج 13 / ص 289):

التراويح سنة لا يجوز تركها ،لان النبي صلى الله عليه وسلم أقامها ثم بين العذر في ترك المواظبة على أدائها بالجماعة في المسجد وهو خشية أن تكتب علينا ثم واظب عليها الخلفاء الراشدون رضى الله عنهم وقد قال النبي صلى الله عليه وسلم عليكم بسنتى وسنة الخلفاء الراشدين من بعدى وأن عمر رضى الله عنه صلاها بالجماعة مع أجلاء الصحابة فرضى به علي رضى الله عنه حتى دعا له بالخير بعد موته كما ورد وأمر به في عهده

وفی البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي  (ج 4 / ص 163):

(وسن في رمضان عشرون ركعة بعد العشاءقبل الوتر وبعده بجماعة والختم مرة بجلسة بعد كل أربع بقدرها)

وفی رد المحتار  (ج 2 / ص 13):

السنة المؤكدة قريبة من الواجب في لحوق الاثم كما في البحر، ويستوجب تاركها التضليل واللوم كما في التحرير: أي على سبيل الاصرار بلا عذر كما في شرحه

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

      ۲۲/ذی قعدہ ۱۴۴۴ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب