03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گرافک ڈیزائننگ میں جاندار کی تصویر ڈالنا یا ایڈیٹ کرنا
80451جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میں گرافک ڈیزائینر ہوں اور فری لانسنگ کے ذریعے کلائنٹ حاصل کرتا ہوں۔ گرافک ڈیزائننگ میں کلائنٹ کے کہنے پر کسی پوسٹر یا کہیں پہ بھی جاندار کی تصویر ڈالنا یا ایڈٹ کرنا جائز ہے؟ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ  اس پوسٹر کو ڈیجیٹلی استعمال کرے گا  یا غیر ڈیجیٹلی۔ کیا اس صورت میں اس کے لیے کام کرنا جائز ہے؟ اور اس کی کمائی حلال ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

گرافک ڈیزائننگ میں پوسٹر وغیرہ پر (1) جاندار کی ایسی تصویر بنانا یا ایڈیٹ کرنا جو فی نفسہ ناجائز ہو، (2) یا اس نیت کے ساتھ تصویر بنانا کہ بنوانے والا اسے پرنٹ کرے، (3) یا معاملہ کرتے وقت اس کو پرنٹ کرنے کی تصریح ہو تو ان تینوں صورتوں جاندار کی تصویر ڈیجیٹل شکل میں بنانا یا ایڈیٹ کرنا ناجائز ہے اور اس کی کمائی حلال نہیں۔ (4) اور اگر نیت یا تصریح تو نہ ہو، لیکن آپ کو غالب گمان کی حد تک علم ہو کہ بنوانے والا اس کو پرنٹ نکالنے کے لیے بنوا رہا ہے تو اس صورت میں بھی ڈیجیٹل تصویر بنانا یا ایڈیٹ کرنا جائز نہیں ہوگا۔ اگر کسی نے علم کے باوجود یہ کام کیا تو وہ گناہ گار ہوگا، البتہ اس صورت میں کمائی پر مالِ حرام کے احکام تو جاری نہیں ہوں گے، لیکن ناجائز طریقے سے حاصل ہونے کی وجہ سے طیب اور پاکیزہ بھی نہیں ہوگی، اس لیے اس کو بغیر نیتِ ثواب صدقہ کرنا چاہیے۔

اور اگر مذکورہ چاروں باتوں میں سے کوئی بات نہ ہو تو جاندار کا ایسا عکس بنانا علمائے کرام کی ایک جماعت کے نزدیک تصویر کی تعریف میں داخل نہ ہونے اور کوئی دوسرا خلافِ شرع امر نہ پائے جانے کی وجہ سے جائز ہے اور اس کی کمائی حلال ہے۔

حوالہ جات

فقه البیوع (1/192-193):

الإعانة علی المعصیة حرام مطلقا بنص القرآن أعني قوله تعالیٰ " وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ  "  (المائدة: 2) وقوله تعالیٰ: " فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيرًا لِلْمُجْرِمِينَ " (القصص: 17). ولکن الإعانة حقیقة هي ما قامت المعصیة بعین فعل المعین، ولایتحقق إلا بنیة الإعانة أو التصریح بها أو تعینها في استعمال هذا الشیئ بحیث لایحتمل غیر المعصیة..…… وإن لم یکن محرکًا وداعیًا، بل موصلًا محضًا، وهو مع ذلك سبب قریب بحیث لایحتاج في إقامة المعصیة به إلی إحداث صنعة من الفاعل، کبیع السلاح من أهل الفتنة، وبیع الأمرد ممن یعصي به، وإجارة البیت ممن یبیع فیه الخمر أو یتخذها کنیسة أو بیت نار وأمثالها، فکله مکروه تحریما، بشرط أن یعلم به البائع والآجر، من دون تصریح به باللسان؛ فإنه إن لم یعلم کان معذورًا، وإن علم وصرح کان داخلًا في الإعانة المحرمة. وإن کان سببًا بعیدًا بحیث لایفضي إلی المعصیة علی حالتها الموجودة، بل یحتاج إلی إحداث صنعة فیه، کبیع الحدید من أهل الفتنة وأمثالها، فتکره تنزیهًا…… و یتلخص منه أن الإنسان إذا قصد الإعانة علی المعصیة بإحدی الوجو ہ الثلاثة (النیة، أو التصریح فی العقد، أو تمحضه للمحظور) المذکورة؛ فإن العقد حرام لا ینعقد، و البائع آثم. أما إذا لم یقصد ذلك و کان البیع سببا للمعصیة فلا یحرم العقد، و لکن إذا کان سببا محرکا فالبیع حرام، و إن لم یکن محرکا و کان سببا قریبا بحیث یستخدم فی المعصیة فی حالتها الراهنة و لا یحتاج إلی صنعة جدیدة من الفاعل کره تحریما، و إلا فتنزیها.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       23/ ذو القعدۃ/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب