| 80452 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
1. گرافک ڈیزائننگ میں کلائنٹ کے کہنے پر نامحرم کی تصویر کو ایڈٹ کرنا جائز ہے؟
2. کلائنٹ کے کہنے پر ایسی چیز کو ایڈٹ کرنا جس کو اسلام نے نا جائز قرار دیا ہے، جائز ہے؟
3. اگر کلائنٹ ایک پوسٹ بنا نے کو کہے جو کسی فلم یا ڈرامہ وغیرہ سے متعلق ہو تو وہ بنانا جائز ہے؟
4. کیا ایک مسلمان گرافک ڈیزائنر کو غیر اسلامی مواد کی ڈیزائننگ کرنے کی اجازت ہے؟
5. کیا ایک مسلمان گرافک ڈیزائنر کو اشتہارات یا تصاویر ڈیزائن کرنے کے لئے غیر اخلاقی مواد کا استعمال کرنا جائز ہے؟
6.کیا گرافک ڈیزائننگ میں موسیقی کا استعمال جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی خاتون کی تصویر ایڈیٹ کرنا، خلافِ اسلام چیز ایڈیٹ کرنا (جبکہ ایڈیٹنگ کا مقصد خلافِ اسلام امر کو ختم کرنا نہ ہو)، فلموں اور ڈراموں کے لیے پوسٹ ایڈیٹ کرنا، غیر اسلامی مواد کی ڈیزائننگ، اشتہارات یا تصاویر کی ڈیزائننگ کے لیے غیر اخلاقی مواد کا استعمال اور گرافک ڈیزائننگ میں موسیقی کا استعمال یہ سب کام ناجائز ہیں اور ان کی کمائی حلال نہیں؛ لہٰذا ان کاموں سے بچنا لازم اور ضروری ہے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم [المائدة: 2]:
{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ}.
الدر المختار (6/ 55):
( لا تصح الإجارة لعسب التيس ) وهو نزوه على الإناث ( و ) لا ( لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي ).
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
23/ ذو القعدۃ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


