| 80444 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
سوال:کیافرماتےہیں مفتیان کرام ان مسائل کےبارےمیں کہ اگرمزکی اپنی زکوۃ ایزی پیسہ اکاؤنٹ یابینک اکاؤنٹ وغیرہ کےذریعہ کسی کوبھیجےتونکالنےپرجوٹیکس ہےوہ زکوۃ شمار ہوگی یانہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زکوۃکی رقم وصول کرنےپرجوپیسےکاٹےجاتےہیں،اس کوزکوۃ میں شمارکرنےیانہ کرنےکےحوالےسےیہ تفصیل ہےکہ اگراکاؤنٹ فقیرکاذاتی ہویعنی زکوۃ اداکرنےوالےنےفقیرکےایزی پیسہ ،جیزکیش یابینک اکاؤنٹ میں زکوۃ کی رقم بھیجی توچونکہ اکاؤنٹ میں منتقل ہونےسےہی حکماقبضہ ہوجاتاہے،کیونکہ فقیرکواس رقم سےاپنےاکاؤنٹ کےذریعہ تصرف کااختیارحاصل ہوجاتاہے،اس لیےایسی صورت میں جب اکاؤنٹ میں رقم پہنچتےہی زکوۃ اداہوجاتی ہےتوجتنی رقم زکوۃ کی مدمیں بھیجی گئی ہووہ مکمل رقم زکوۃ شمارہوگی،بعدمیں اگرفقیرکسی دکان سےوہ رقم نکلواتاہےاوردکان والارقم نکلوانےپرپیسے لیتاہےتووہ دکاندارکی طرف سےاس فقیرکودی جانےوالی سہولت کی اجرت ہے،لہذااس کی وجہ سےسابقہ اداشدہ زکوۃ پرکوئی فرق نہیں پڑےگا۔
اوراگروہ ایزی پیسہ یابینک اکاؤنٹ فقیرکاذاتی نہ ہو،جس کےذریعہ رقم بھیجی جائے،بلکہ شناختی کارڈ وغیرہ کے ذریعے اس کےنام پرزکوۃ بھیجی جائےتوایسی صورت میں رقم پرفقیرکی ملکیت اورقبضہ اس وقت شمار ہوگاجب وہ رقم نکلوالےگا،یااپنےذاتی اکاؤنٹ میں ٹرانسفرکروالےگا،اس لیےاس صورت میں جب رقم بھیجتےہی زکوۃ ادا نہیں ہوگی،بلکہ وصولی کےوقت اداہوگی تو دکاندارجتنی رقم لیتےہیں،اس کےبقدررقم بطورزکوۃ دوبارہ اداکرنالازم ہوگا۔لہذاایسی صورت میں یہ لازم ہوگاکہ زکوۃ بھیجنےوالا کچھ اضافی رقم بھی بھیج دےتاکہ زکوۃ مکمل اداہوجائے۔
حوالہ جات
"الفتاوى الهندية" 1/190:إذا دفع الزكاة إلى الفقير لا يتم الدفع ما لم يقبضها۔
"فقه البیوع"1/441:ربما یقع تسلیم النقود عن طریق التحویل المصرفی وذالك بأن یکون لزید رصید فی حسابه الجاری لدی بنك ألف، و لعمرو رصید فی حسابه الجاری لدی بنك ب، فیأمر زید بنك ألف أن یحول مبلغا الی رصید عمرو فی بنک ب. فحینما یدخل المبلغ فی رصید عمرو فی بنك ب، یعتبر عمرو قابضا لتلك النقود۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
21/ذیقعدہ 1444ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


