| 80493 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم مفتی صاحب ! میں محمد اسفند زبیری آپ سے یہ پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ کرپٹو کرنسی میں اسپاٹ ٹریڈنگ حلال ہے یا نہیں ؟کیونکہ اسپاٹ ٹریڈنگ میں وہ چیز آپ کے قبضے میں آ جاتی ہے پھر چاہے آپ جب بھی بیچیں یا نہ بیچیں وہ آپ کی مرضی ہے تو یہ حرام کیسے ہوئی؟ اسپاٹ ٹریڈ نگ بھی ایک طرح سے سونے کی خریداری جیسی ہے، جیسے سونا اوپر جاتا ہے تو لوگ سونا سیل کر دیتے ہیں ایسے ہی اسپاٹ ٹریڈنگ میں کسی کوائن کی پرائز اوپر جاتی ہے تو وہ ہم سیل کر دیتے ہیں۔ اس میں نقصان بھی ہوتا ہے کہ اس کو ائین کی قیمت اگر ہمارے خریدے ہوئے قیمت سے نیچے چلی جائے تو ہمیں نقصان بھی ہوتا ہے، جیسے سونے کے کاروبار میں ہوتا ہے ۔سونے کی طرح وہ کوائن بھی ہمارے ہی قبضے میں ہوتا ہے جب تک ہم لوگ اس کو بیچیں نہیں۔ ہمارے ایک دوست نے مفتی اویس پراچہ صاحب سے سے فیوچر ٹریڈنگ کے حوالے سے فتوی لیا ہے اور اس فتوے میں مفتی صاحب نے اس کو حرام قرار دیا ہے ۔اگر وہ حرام ہے تو کیا اسپاٹ ٹریڈنگ بھی حرام ہے؟ اسپاٹ ٹریڈنگ اور فیوچر ٹریڈنگ میں بہت زمین آسمان کا فرق ہے ۔میں چاہتا ہوں کہ مجھے اچھی طرح گائیڈنس دی جائے کہ اسپاٹ ٹریڈ حلال ہے یا حرام ،اس میں سے کچھ کوائن ایسے بھی ہیں جو سود کی بنا پر اپنی کمپنی کو چلاتے ہیں ، لیکن اس میں کچھ ایسے بھی ہیں جو سود کے بنا کام کرتے ہیں اور اپنی کمپنی کو چلاتے ہیں۔کیا وہ والے کوائن خرید سکتے ہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کرپٹو کرنسی کے متعلق علماء کی تین طرح کی آراء ملتی ہیں۔ پہلی رائے اس کے مطلقا ناجائز ہونے کی ہے۔ دوسری رائے توقف کی ہے یعنی جب تک اس کے متعلق تمام تر صورتحال واضح نہیں ہوجاتی اس کو جائز یا ناجائز نہیں کہا جاسکتا۔ اور تیسری رائے کے مطابق کرپٹو کرنسی کا استعمال اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ حکومتی قوانین کے تحت ہو۔
کرپٹو کرنسی کے ناجائز ہونے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ اس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ بہت تیزی سے ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ جوئے کی طرح ہے ۔ اسی طرح اب تک اس کے بارے میں یہ بھی واضح نہیں ہے کہ یہ مکان، گاڑی اور زمین وغیرہ کی طرح اثاثہ ہے یا روپے اور ڈالر کی طرح کرنسی/ زر ہے ۔اسی طرح کےاور بھی کئی تکنیکی اشکالات ہیں جن کی بنا پر اس کو ناجائز کہا گیا ہے۔
دار الافتاء جامعۃ الرشید کی رائے توقف کی ہے لہذا کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت سے گریز کرنا چاہیے۔
حوالہ جات
عبدالقیوم
دارالافتاء جامعۃ الرشید
25/ذوالقعدہ/1444
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالقیوم بن عبداللطیف اشرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


