03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایمازون کے ساتھ دکان کی خریدوفروخت کےمعاہدہ کا حکم
81225خرید و فروخت کے احکام دین )معاوضہ جو کسی عقدکے نتیجے میں لازم ہوا(کی خرید و فروخت

سوال

یہ  امازون مال  کا  فروختگی معاہدہ مکمل ادائیگی کا آج بمقام اسلام آباد تحریر ہوا(جس کو اقرار نامہ کہا جائے گا)    

1. فریق اول امازون مال واقع ڈی ایچ اے 2، بالمقابل بار بی کیو ٹونائٹ اسلام آباد کا مال۔

2. فریق دوئم امازون مال سے یونٹ خریدنے والا۔    

فریق دوئم امازون مال میں فریق اول سے کمرشل یونٹ خریدنے میں خواہش رکھتا ہے اور اقرار نامہ کی شرائط و ضوابط ذیل ہیں:

تعریف و تشریح:

اطلاقی قوانین:جن کا اطلاق اور پابند ی دونوں فریقین کی ہوگی ۔

اس سے مراد پاکستان کے تمام وفاقی، صوبائی اور مقامی قوانین ہوں گے، اور تمام احکامات، قواعد، ضوابط، قانونی ضابطے کے احکامات، ایگزیکٹو آرڈرز، حکمنامے، عدالتی فیصلے، نوٹیفیکیشن، یا اس کے مطابق کسی بھی عوامی اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ اسی طرح کی دیگر ہدایات بھی شامل ہیں۔

بائی لاز: اس کامطلب یہ ہے جو اصول و ضوابط فریق اول نے امازون مال کی انتظامیہ طے کرے گی جس میں  فریق   او ل کی انتظامیہ ، سٹاف، (بشمول فریق دوئم )مینجمنٹ اور تعمیر و مرمت کا سٹاف بھی شامل ہے ۔

بکنگ کی تاریخ:

اس سے مراد وہ تاریخ ہوگی جس پر فریق دوئم یونٹ کے لیے کل رقم جمع کروائے گا اور دستخط کرنے کی تاریخ سے پہلے بکنگ کی تمام رسمی کاروائیاں مکمل کرے گا۔

عام جگہ: امازون مال  کے وہ حصے ہوں گے جو کسی دوسرے یونٹ اور پروجیکٹ کے تمام مکینوں کے مشترکہ استعمال کے لیے بنائے گئے ہیں۔

فورس میجر ایونٹ:

اس کی تفصیل پیرا گراف نمبر8میں دی گئی ہے ۔

ماہانہ کرایہ: اس کی تفصیل پیرانمبر2.3میں دی گئی ہے ۔

قریبی رشتہ دار:Nominee: فریق دوئم کا قانونی وارث یااس کا نامزدکر دہ شخص ۔

استعمال کی اجازت: اس کا مطلب ہے یونٹ کا استعمال جیسا کہ اس معاہدے کی ضابطوں اور شرائط کی تعمیل میں منظور شدہ ہے۔

یونٹ: اس کا مطلب پیرا2.1میں بیان کیا گیا ہے  ۔

مکمل فروختگی کی رقم:

اس کا مطلب کہ فریق دوئم نے کل رقم یونٹ خریدنے کے لیے فریق اول کو ادا کی ہے ۔

ناخوشگوار واقعہ:وفات، یا نااہلی، اس کا مطلب کوئی بھی ایسا واقعہ ہوگا جس کے نتیجے میں فریق دوئم کی موت واقع ہو یا نااہلی ہو۔فریقین سمجھتے ہیں کہ اس معاہدے کی کسی شق کی تشریح کے حوالے سے کسی ابہام، الجھن یا تنازعہ کی صورت میں قوانین کے تحت اس کی تشریح کو صحیح اور حقیقی تشریح سمجھا جائے گا۔فریق دوئم اس بات پر رضامند ہے کہ فریق اول وقتاً فوقتاً  (انتظامی) قوانین میں ترمیم کر سکتا ہے۔

اقرار نامہ معاہدہ بیع اورمعاہدہ کی رقم :

فریق اول فروخت کرنے اور فریق دوئم خریدنے پر رضامند ہے جوکہ یونٹ نمبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی مکمل رقم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روپے مقرر کی گئی ہے۔

بکنگ کی تاریخ سے فریق دوئم ماہانہ کرایہ۔۔۔۔۔۔ کے حساب سے وصول کرے گا جوکہ اس معاہدہ کی سیکشن 2کے مطابق ہے ۔

کسی بھی غلط فہمی سے بچنے کےلیے اس پوری رقم میں بجلی کے کنکشن، جنریٹر بیک اپ، فائبر آپٹکس اور گیس سے متعلق کوئی بھی انسٹالیشن چارجزبھی  شامل ہیں۔اس کے علاوہ یوٹیلیٹی فریق دوئم کیٍ درخواست پر نصب کی جائے گی جس کا خرچہ فریق دوئم برادشت کر ے گا۔

یونٹ کی انتظامیہ /انتظام:فریقین امازون مال  کمرشل پروجیکٹ کےدرج ذیل نکات پر رضامندہیں:

یونٹ کا انتظام فریق اول كے پاس رہے گا اور اس لیےیونٹ کا قبضہ بھی فریق اول  کے پاس رہے گا۔

یونٹ کا انتظام فریق دوئم کے ذریعہ سے فریق اول کر ے گا،  جوکہ ایک سال کے لیے ہو گا اور اگلی مدت کے لیےخود ہی رینیو بھی ہوجائے گا ۔(البتہ اگر مالک اس پر راضی نہ ہو تو اس کو دکان بیچنے کا اختیار ہوگا)

فریق اول کو یونٹ کے انتظام کے لیے مکمل اختیارات حاصل ہیں، جس میں فریق دوئم کی مداخلت نہیں ہو گی۔

فریق دوئم، فرق اول کو کسی بھی تیسرے فریق برانڈز کو یونٹ کرایہ پریا لائسنس دینے کا مکمل حق دیتا ہے جو اپنی مصنوعات کی فروخت/فروغ کے مقاصد کے لیے یونٹ کو لیز/لائسنس دینے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

پيمنٹ اور ٹیکس کی ادائیگی:

فریق دوئم تمام وفاقی یا صوبائی ٹیکس ، چارجز، ڈیوٹیز جو لگائی جائیں گی(بشمول اسٹام ڈیوٹی) یہ تمام فریق دوئم ادا کرے گا ۔

فریق دوئم یونٹ سے متعلق کسی بھی ٹیکس ،جرمانے کے سلسلے میں کسی بھی اتھارٹی کی طرف سےجو  لگائے گئے ہیں یا لگائے جائیں گے ،اس پر اتفاق کرتا ہے۔

معاہدہ اور گارنٹی:

فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ فریقِ اول  فلور پلان میں ترمیم کرنے اور امازون مال میں کسی بھی نوعیت کی کوئی دوسری اہم یا معمولی تبدیلیاں کرنے کا مکمل حق رکھتا ہے ، لیکن یونٹ کا مقام تبدیل نہ کیا جائے گا ۔

فریق دوئم ہر وقت فریق اول  کے ضمنی قوانین کی تعمیل کرے گا۔

فریق اول سےیونٹ کا NOC لینے کے بعد ہی فریق دوئم کسی دوسری پارٹی کو فروخت کرےگا، یہ سب کچھ  طے شدہ قوانین کے مطابق ہو گا ۔

فریق اول ہر وقت پاکستان کے قابل اطلاق قوانین کی تعمیل کرے گا اور ایسی کوئی سرگرمی یا اجازت نہیں دے گا جس سے یونٹ کو نقصان پہنچے۔

فریق اول نے کمپنی کو یونٹ کرایہ پر دیا ہے،  اس لیے فریق اول ہی یونٹ کیRepair،فٹنگ یا فکسچر کا یا بجلی کی تنصیبات کا ذمہ دار ہوگا ۔

کرایہ کی مدت کے دوران فریق اول کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ پر امن طور پر فریق دوئم کی مداخلت کے بغیر یونٹ کو استعمال کرے ۔

فریق اول یہ تسلیم کرتا ہے کہ جتنے بل پانی ، بلی ، گیس، ٹیلیفون ہوں گے وہ ادا کر ےگا۔فريقين ایک دوسرے کی نمائندگی اور ضمانت دیتے ہیں۔

وضاحت: سائل نے بتایا کہ نمائندگی اور ضمانت کا مطلب یہ ہے کہ فریقِ اول کرایہ پر دینے میں فریقِ ثانی کی نمائندگی کرے گا اور فریقِ ثانی اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ پانچ دس سال سے پہلے دکان واپس نہیں لے گا، البتہ آگے بیچنے کا اس کو اختیار ہو گا۔

یہ معاہدہ ان کے بااختیار نمائندے کے ذریعے تکمیل کیا  گیا ہے،اس معاہدے کی تکمیل کے لیے تمام کارپوریٹ اقدامات درست طریقے سے کیے گئے ہیں ۔

اس معاہدے کی تکمیل اور ترسیل میں قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہےاور نہ ہی یہ اس معاہدے یا دیگر معاہدوں کی کسی شق کی خلاف ورزی کرتی ہے، جس کا یہ ایک حصہ ہے یا جس کے ذریعے اسے پابند کیا جا سکتا ہے۔

واپسی(Returning):

  1. اس معاہد ہ کے دوران اگر فریق دوئم مکمل رقم واپس لینا چاہتا ہے تو وہ ایک درخواست فارم فریق اول کو دے گا فریق اول اس درخواست کو دیکھے گا ۔
  2. اگر بکنگ کی تاریخ سے ایک (01) سال کی مدت کے اندرفریق اول  سے رقم کی واپسی کی درخواست کی جائےتوفریق اول ،فریق دوئم کو ادا کیے گئے ماہانہ کرایہ کی کٹوتی کے بعد فریقِ اول کی طرف سے رقم کی واپسی کے درخواست فارم کی منظوری کی تاریخ تک ادا کی گئی رقم واپس کرے گا۔یہ واپسی 90دن کے اندر ہو گی جب درخواست منظور ہو جاتی ہے۔
  3. فریق دوئم ایک سال کے بعد رقم کی واپسی کی درخواست کرتا ہے ، فریق اول، فریق دوئم کو کسی بھی قابل قبول اضافی رقم کے ساتھ ادا کرے گا جس پردونوں فریقین نے معاہد ہ پر دستخط کے وقت اتقاق کیا تھا ۔ یہ واپسی 90دن کے اندر ہو گی جب درخواست منظور ہو جاتی ہے۔

وضاحت: سائل نے مذکورہ بالا شق کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ شروع میں مال کی انتظامیہ کسٹمر کو اختیار دیتی ہے کہ آپ چاہیں تو مارکیٹ کے حساب سے اپنی دکان کا کرایہ لے لیں، اس صورت میں جب آپ بیچیں گے تو آپ کو اتنے فیصد (یہ فیصد نارمل حالات میں پراپرٹی کی قیمت کے بڑھنے کی شرح کا اندازہ لگا کر شروع میں طے کر لیتے ہیں، مثلا پانچ فیصد اضافہ یا اس سے کم وبیش) نفع دے کر خرید لیں گے یا کسی اور کو بکوا دیں گے۔ دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ کمپنی کہتی ہے کہ آپ مارکیٹ سے زیادہ کرایہ لے لیں، مثلا ایک چھوٹی دکان کا کرایہ 75000 روپے ماہانہ، مگر اس صورت میں دکان بیچنے پر اضافی رقم نہیں دیں گے، بلکہ جتنے کی دکان خریدی تھی اتنی رقم ہی میں واپس خریدیں گے۔

رقم واپسی کی صورت تمام ٹیکسز جو حکومت کی طرف سے لاگو ہیں کی کٹوتی ہو گی ۔

تمام رقم کی واپسی اور دوبارہ فروخت اس معاہدے میں موجود شرائط کے ساتھ مشروط ہوگی۔

فریق اول اس معاہدے کے تحت پرفارمنس کی ناکامی کا ذمہ دار نہیں ہوگا،اگر یہ ناکامی فریق اول کی دسترس سے باہر ہوئی ہےجیسے بجلی گرنے، آگ لگنے، زلزلہ ہونے، سیلاب آنے، طوفا ن ہونے، سائیکلون ہونے ، جنگی حالات، یا بیرونی دشمنی یا دہشت گردی، سیاسی معاملات یا کسی قانونی پیچیدگی ، عدالتی ہےاس سب کی فریق اول جتنی جلدی ممکن ہو ا فریق دوئم کو اطلا ع کرے گا۔

درج بالا وجوہات کی بناپر تکمیل میں دیر ہوئی تو فریق دوئم ، فریق اول ایک نئی تاریخ دے گا جس کے دوران اس کی تکمیل کی جائے گی ۔

گورننگ قانون اور تنازعہ کا حل :

یہ معاہدہ پاکستان کے قوانین کے مطابق کیا جائےگا، معاہدہ میں کسی بھی طرح سے پیدا ہونے والا کوئی بھی تنازعہ، تنازعہ یا دعوی، تعمیر سے متعلق کوئی تنازعہ یااس معاہدے کی توثیق، تشریح، نفاذ یا خلاف ورزی، خصوصی طور پر کسی فریق کی جانب سے ثالثی کے لیے تنازعہ ہونے پر ثالث کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ کسی تنازعہ یا دعوے سے پیدا ہونے یا کسی بھی طرح سے معاہدے سے متعلق ہونے کی صورت میں، شکایت کرنے والا فریق پہلے دوسرے فریق کو اس کی تحریری اطلاع دے گا۔ اس طرح نوٹس کے تیس (30) دنوں کے اندر، دونوں فریقوں کے مجاز نمائندے ایک باہمی رضامندی سے ملاقات کرکے نیک نیتی سے تنازعہ کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ثالثی کا مطالبہ دعوی، تنازعہ یا دیگر زیر بحث معاملہ پیدا ہونے کے بعد ایک معقول وقت کے اندر حل کیا جائے گا، اور کسی بھی صورت میں اسے دو (2) سال کے بعد نہیں کیا جائے گا جب سے متاثرہ فریق کو معلوم تھا یا اسے معلوم ہونا چاہیے تھا۔

ثالثی کا معاہدہ قابل نفاذ ہوگا۔کوئی بھی فریق کسی بھی عدالت میں عبوری یا کنزرویٹری ریلیف کے لیے دائرہ اختیار کے ساتھ درخواست دے سکتا ہے۔

ثالثی مندرجہ ذیل طریقے سے تین (3) ثالثوں کے ذریعے کی جائے گی۔

ہر فریق دس دن کے اندر ایک ثالث مقرر کرے گا جوکہ غیر جانبدار ثالث ہوگا اور دو نامزد ثالث فریقین کے انتخاب کے بیس (20) دنوں کے اندر تیسرے غیر جانبدار ثالث کا انتخاب کریں گے۔

جہاں فریقین ثالث کے انتخاب پر متفق نہ ہوں اور ثالثی کی کارروائی شروع ہونے کے بیس (20) دنوں کے اندریہ ثالث معاملہ بھی متعلقہ کورٹ میں ریفر کرے گا ۔

ثالثی بمطابق قانون1940کے تحت عمل ميں لائی جاے گی ۔ثالثی اسلام آباد میں ہو گی ۔

ثالثی کے لیے پاکستان کے رائج قوانین پر عمل کیا جائے گا ۔ثالثی انگلش زبان میں ہو گی ۔

تفویض کرنا:

فریق اول کی صوابدید پر اس معاہدے کو تفویض کرنے اور/یا منتقل کرنے کا حق حاصل ہوگاچاہے مکمل طور پر یا جزوی طور پر امارت گروپ آف کمپنیز کا حصہ بننے والے کسی بھی ادارے کے لیے ۔امارت گروپ آف کمپنیز کا حصہ بننے والی کسی دوسرے ادارے کے حق میں تفویض یا منتقلی کے لیے فریق دوئم کی تحریری رضامندی کی ضرورت نہیں ہوگی ۔

فریق دوئم ،فریق اول کو یہ معاہدہ تفویض کرنے سے نہیں روکے گا اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے اگر ضرورت ہو تو فریق دوئم کی طرف سے اس تفویض کے سلسلے میں متعلقہ دستاویز پر عمل کیا جائےگا۔ مذکورہ بالا معاہدوں سے وابستہ کوئی بھی اسٹامپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن فیس فریق اول کے ذمہ ہوگی۔

مشترکہ درخواست:

مشترکہ درخواست دہندگان کے حقوق قوانین کے مطابق ہوں گے۔

اس معاہدے کی ہر ایک شق دوسری شق سے الگ ہیں۔ اس معاہدے کی کوئی شق قانونی نہ ہو یا وہ شق نافذالعمل نہ ہو تو پھر بھی یہ اس معاہدہ کو متاثر نہیں کرے گی۔

متفرق:

معاہدہ میں سرخیاں صرف سہولت اور آسانی کے لیے ہیں۔  ان سرخیوں کو کسی بھی طرح سے اس معاہدے کے اضافے یا حدود کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ فریق دوئم کی طرف سے اس معاہدے کی کسی بھی شق کی خلاف ورزی یا نادہندہ، یا فریق اول کی طرف سے کوئی چھوٹ کو خلاف ورزی نہیں سمجھاجائے گا اور نہ ہی فریق اول کی جانب سے کسی حق، طاقت یا استحقاق کو استعمال کرنے یا اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے کسی بھی حق یا علاج یا کوتاہی کا کوئی تاخیر یا جزوی استعمال اس معاہدے کے تحت فریق دوئم کے پاس ہے۔

ذمہ داری کا تعین:

اس معاہدہ کے تحت فریق اول کی مجموعی ذمہ داری  یونٹ کی خریداری کے سلسلے میں فریق اول ماہانہ کرایہ فریق دوئم کو ادا کرنا اور اصل رقم وصول بحق فریق اول ہو نے تک ہے ۔

پورا معاہدہ:

معاہدے میں بیان کردہ تمام شرائط و ضوابط اس کا لازمی حصہ ہیں جس کے مطابق فریق اول نے نے یونٹ کو فروخت اور فریق دوئم کو الاٹ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

اس معاہدے میں طے شدہ شرائط و ضوابط(اس کے ساتھ منسلک شیڈول سمیت، اگر کوئی ہے)اس کے موضوع کے سلسلے میں فریقین کے درمیان معاہدے کی مکمل، حتمی، اور پوری شرائط و ضوابط کی تشکیل کریں، اور اس معاہدے میں خاص طور پر شامل نہ کی گئی کوئی بھی چیز (بشمول اس کے ساتھ منسلک شیڈول) کو کسی بھی طرح سے اس معاہدہ کا حصہ یا منسوب نہیں کیا جائے گا۔

فریقین نے گواہوں کی موجودگی میں اس معاہدے پر دستخط کردیے ہیں ۔

فریق اول :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فریق دوئم :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاہدہ شریعت کی رو سے درست ہے؟ اگر درست نہیں تو اس میں کون سی ایسی تبدیلی کی جائے کہ جس سے یہ معاہدہ شرعاً درست ہو جائے؟

 وضاحت:

سائل نے فون پر بتایا کہ پاکستان کے بڑے بڑے برانڈز تیار کرنے والی کمپنیاں ہمارے ساتھ سرمایہ کاری کرتے ہیں، پہلے کمپنی والے  مالکان سے دکانیں خود کرایہ پر لیتے تھے، لیکن جب تین چار سال گزرتے تو مالکان میں سے بعض نے اپنی دکانیں خالی کرانے کا نوٹس دیا، جس سے برانڈ والی کمپنیز کو کافی دھچکا لگا، ان کا کاروبار متاثر ہوا، جب یہ صورتِ حال زیادہ پیش آنے لگی تو برانڈز والوں نے مال کی انتظامیہ سے رابطہ کیا کہ ہم آپ کے ساتھ ایگریمنٹ کریں گے اور یہ ایگریمنٹ کم از کم پانچ سے دس سال پر مشتمل ہو گا، کیونکہ آج کی دنیا میں اچھے کاروبار کو چلنے میں اتنے سال لگ جاتے ہیں، چنانچہ ایمازون کی انتظامیہ نے مالکان سے رابطہ کر کے یہ پالیسی بنائی کہ آپ کی دکانیں ہم کرایہ پر لے کر آگے کمپنیز کو کرایہ پر دیں گے، جس کا دورانیہ پانچ سے دس سال کا ہو گا، دکانداروں سے کرایہ ہم وصول کریں گے اورآپ کو ہم خود کرایہ  ادا کریں گے، نیز اگر کوئی مالک بیچنا چاہے تو ہمیں تین ماہ پہلے درخواست دے گا، ہم اس کی دکان آگے فروخت کر دیں گے، اگر اس عرصہ میں فروخت نہ ہوئی تو ہم اس کی دکان خود خرید لیں گے، نیز ایسی صورت میں پینتالیس دن کا کرایہ اس کو دیا جائے گا، بقیہ پینتالیس دنوں کا کرایہ نہیں ملے گا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کیے گئے معاہدے کا جائزہ لیا گیا،  یہ معاملہ درحقیقت اجارہ من الباطن/اجارة المستاجر کا ہے، جس کا مطلب یہ ہےکہ کوئی چیز کرایہ پر لے کر آگے کرایہ پر دینا۔ منسلکہ معاہدے سے قطع نظر فی نفسہ یہ معاملہ جائز ہے، البتہ اگرکوئی شخص دکان کرایہ پر لے کر آگے زیادہ کرایہ پر دینا چاہے تو حنفیہ کے نزدیک اس معاملہ کے درست ہونے کے لیے درج ذیل دو شرطوں میں سے کسی ایک شرط کا پایا جانا ضروری ہے:

پہلی شرط: کرایہ کی جنس تبدیل کر دی جائے، مثلاً: پہلا معاملہ روپیہ کے عوض ہوتو دوسر ےشخص کے ساتھ معاملہ ریال یا درہم وغیرہ کے ذریعہ کیا جائے۔

دوسری شرط: دکان میں کوئی خاطرخواہ کام کروا دیا جائے، مثلا فرنیچر یا خوبصورتی کے لیے رنگ وغیرہ کروا جائے۔

مذکورہ بالا تفصیل حنفیہ کے نزدیک ہے، البتہ حنفیہ علاوہ دیگر مذاہب میں مطلقاً خواہ کم اجرت پر دی جائے یا زیادہ اجرت پر بہر صورت کرایہ پر لی گئی چیز آگے کرایہ پر دینا درست ہے، لہذ جہاں تاجروں کے ہاں اس کا عرف اور ضرورت ہو، وہاں ائمہ ثلاثہ کے مذہب پر بھی عمل کرنے کی گنجائش ہے، البتہ بلاضرورت حنفی مسلک کو چھوڑنا درست نہیں، اس کے علاوہ جہاں تک آپ کے دکانوں کے مالکان کے ساتھ یہ معاہدہ کرنے کا تعلق ہے کہ پانچ یا دس سال تک دکان واپس نہیں لی جائے گی تواس کا حکم یہ ہے کہ اگر یہ شرط مارکیٹ میں رائج ہو اور اس کی وجہ سے فریقین کے درمیان کسی قسم کا نزاع ور جھگڑا واقع نہ ہو تو تجارتی مقاصد کے پیشِ نظر اس طرح کی شرط لگانے کی گنجائش ہے اور باہمی رضامندی سے معاہدہ ہو جانے کےبعدفریقین پر اس کی پاسداری لازم ہے، تاکہ خلاف ورزی کی صورت میں کسی فریق کو نقصان نہ پہنچے۔

البتہ اس معاہدے میں درج ذیل دو شقیں خلافِ شرع ہیں:

نمبر1: واپسی(Returning) کے عنوان کے تحت شق نمبر3 میں یہ لکھا گیا ہے کہ ایمازون کی انتظامیہ یونٹ یعنی دکان کے مالک کو دو صورتوں ميں  اختیار دیتی ہے اور مالک کی اختیار کردہ صورت  کے مطابق معاہدہ  کیا جاتا ہے:

 پہلی صورت یہ کہ مالک ماہانہ کرایہ مارکیٹ ریٹ کے حساب سے لے۔ اس صورت میں جب وہ بیچے گا تو اس کو ایک متعین  فیصد (یہ فیصد نارمل حالات میں پراپرٹی کی قیمت کے بڑھنے کی شرح کا اندازہ لگا کر شروع میں طے کر لیتے ہیں، مثلااصل قیمت کا  پانچ فیصد اضافہ یا اس سے کم وبیش) نفع دے کر مال کی انتظامیہ خرید لے گی یا کسی اور کو بکوا دے گی۔ یہ صورت شرعاً درست نہیں، کیونکہ دکان کی قیمت کی شرح پہلے سے طے کرنا درست نہیں،  اس کی وجہ یہ ہے کہ پراپرٹی کی قیمت کے بڑھنے میں خارجی عناصر کا بھی دخل ہوتا ہے، لہذا ممکن ہے کہ دکان کی قیمت میں اضافے کی جو شرح معاہدہ کے وقت طے کی جائے خارجی اور ملکی حالات کے پیشِ نظر اضافہ اس سے کم ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے زیادہ اضافہ ہو۔ دوسری بات یہ کہ دکان مالک کی ملکیت ہے وہ جس قیمت پر چاہے اپنی دکان فروخت کرے، اس کو کسی ایک قیمت کا پابند بنانا درست نہیں، لہذا اس شرط کو ختم کرنا ضروری ہے، پھر دکان بیچتے وقت فریقین کا جس قیمت پر باہمی رضامندی سے اتفاق ہو جائے اس پر فروخت کر دی جائے۔

دوسری صورت یہ کہ دکان کا مالک  ماہانہ کرایہ مارکیٹ ریٹ سے زیادہ لینا طے کرے، اس صورت میں بیچتے وقت اسی قیمت پر دکان بیچنا ہو گی جس قیمت پر خریدی گئی تھی، اس پر اضافی نفع نہیں دیا جائے گا۔ یہ صورت بھی شرعاً درست نہیں، کیونکہ دکان  کی قیمتِ خرید پر نفع نہ لینے کی شرط کے ساتھ اضافی کرایہ وصول  کرنےمیں قمار اور جوئے عنصر پایا جاتا ہے، وہ اس طرح کہ ممکن ہے دکان کی مارکیٹ ویلیو کافی زیادہ بڑھ جائے اور مالک کو قیمتِ خرید کے مطابق ہی  دکان بیچنا پڑے تو اس کو نقصان ہو گا اور اگر دکان کی قیمت نہ بڑھی اور مالک عرصہ دراز تک کرایہ کی مد میں بھاری رقم وصول کرتا رہا تو اس میں مال کی انتظامیہ کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اسی کو جوا کہتے ہیں۔

نمبر2: واپسی(Returning): کے عنوان کے تحت شق نمبر3 میں لکھا ہے کہ جو شخص  یونٹ واپس بیچنا چاہے گا اس کو تین ماہ پہلے بتانا ہو گا، پھراگر ان تین ماہ کے دوران دکان فروخت نہ ہوئی تو ایمازون کی انتظامیہ خود  دکان خرید لےگی اور ایسی صورت میں مالک کو تین ماہ (90)  کا پورا  کرایہ نہیں دیا جائے گا، بلکہ پینتالیس دن کا کرایہ دیا جائےگا۔ یہ شق بھی خلافِ شرع ہے، کیونکہ دکان فروخت ہونے سے پہلے مالک کی ملکیت ہےاوروہ اس کے مکمل کرایہ کا حق رکھتا ہے، لہذا ایمازون کی انتظامیہ کا نصف کرایہ ادا کرنا  اور باقی نصف نہ ادا کرنا خلافِ شرع اور ناجائز  ہے۔ اس لیے اس شق کو بھی ختم کرنا اور دکان فروخت ہونے تک مالک کو مکمل کرایہ ادا کرنا ضروری ہے۔

لہذا مذکورہ بالا دونوں شرطوں کو ختم کردیا جائےتو یہ معاہدہ درست ہے اور اس معاہدے کے مطابق مال کی انتظامیہ سے دکان خریدنا جائز ہے۔  

حوالہ جات

الھداية  فی شرح البداية (ج:3،ص:48) دار احياء التراث العربي – بيروت:

قال: "ومن باع عبدا على أن يعتقه المشتري أو يدبره أو يكاتبه أو أمة على أن يستولدها فالبيع فاسد"؛ لأن هذا بيع وشرط وقد نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن بيع وشرط. ثم جملة المذهب فيه أن يقال: كل شرط يقتضيه العقد كشرط الملك للمشتري لا يفسد العقد لثبوته بدون الشرط، وكل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق يفسده كشرط أن لا يبيع المشتري العبد المبيع؛ لأن فيه زيادة عارية عن العوض فيؤدي إلى الربا، أو؛ لأنه يقع بسببه المنازعة فيعرى العقد عن مقصوده إلا أن يكون متعارفا؛ لأن العرف قاض على القياس، ولو كان لا يقتضيه العقد ولا منفعة فيه لأحد لا يفسده وهو الظاهر من المذهب كشرط أن لا يبيع المشتري الدابة المبيعة لأنه انعدمت المطالبة فلا يؤدي إلى الربا، ولا إلى المنازعة.

فقہ البیوع للشیخ محمد تقی العثمانی (487/1) مكتبة معارف القرآن، بكراتشي:

خلاصة مذهب الحنفية أنه إن كان المشروط في البيع شرطا يقتضيه العقد، أو يلائم العقد، أو شرطا جرى به العرف فيما بين  الناس، فهو جائز، ولا يفسد به البيع ومثال الشرط الذي يقتضيه العقد : ما إذا باع بشرط أن يحبس المبيع إلى قبض الثمن أو اشترى دابة  بشرط أن يركبها المشتري۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ومثال الشرط الذي يلائم العقد ، كما في البدائع، ما إذا باع على أن يعطيه المشتري بالثمن رهنا أوكفيلا والرهن معلوم، والكفيل حاضر، فقبل ، فإنه جائز ، وكذلك شرط الحوالة شرط يلائم  العقد فيجوز. ولعل من الشروط الملائمة في عصرنا أن البائع يسجّل ملك المشتري للمبيع في الجهات الرسمية.

ومثال الشرط الذي جرى به العرف ما إذا اشترى نعلا على أن يحذوه البائع، أو جرابا على أن يخزره له خُفّا.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (7/ 429) دار الكتب العلمية، بيروت:

الفصل السابع: في إجارة المستأجر:

قال محمد رحمه الله: وللمستأجر أن يؤاجر البيت المستأجر من غيره، فالأصل عندنا: أن المستأجر يملك الإجارة فيما لا يتفاوت الناس في الانتفاع به؛ وهذا لأن الإجارة لتمليك المنفعة والمستأجر في حق المنفعة قام مقام الآجر، وكما صحت الإجارة من الآجر تصح من المستأجر أيضا فإن أجره بأكثر مما استأجره به من جنس ذلك ولم يزد في الدار شيء ولا أجر معه شيئا آخر من ماله مما يجوز عند الإجارة عليه، لا تطيب له الزيادة عند علمائنا رحمهم الله وعند الشافعي تطيب له الزيادة.

المعايير الشرعية  (ص:113):

3/3: يجوز لمن استأجرأن يؤجرها لغير المالك بمثل الأجرة أو بأقل أوبأكثر بأجرة حالة أو مؤجلة  (وهو ما يسمى بالتأجير من الباطن)  ما لم يشترط عليه المالك عن  الامتناع عن الإيجار للغير أو الحصول  على موافقة منه.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

8/صفرالمظفر 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب