03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ٍٍ رضاعی بھتیجے سے نکاح کاحکم
81212نکاح کا بیانمحرمات کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ

       دوبھائی ہیں ایک کانام حضرت عمرہے جو بڑا ہےاوردوسرے کا نام حضرت علی ہے جوکہ چھوٹاہے، حضرت عمر  کاایک بیٹاہے (جان شیر) اورچاربیٹیاں ہیں اوربیٹا سب بیٹیوں سے بڑا ہے اورحضرت علی کا صرف ایک بیٹا ہے جس کا نام حسن ہے اورحضرت عمر کی سب سے چھوٹی بیٹی کانام صائمہ ہے حضرت علی اپنے بیٹے حسن کےلیے صائمہ کارشتہ مانگ رہا ہے لیکن مسئلہ یہ ہےکہ حضرت عمرکے بڑے بیٹے جان شیرنے اورسب سے چھوٹی بیٹی صائمہ نے اپنی دادی کا دودھ بچپن میں پیا ہوا ہے توپوچھنا یہ ہےکہ کیا حسن اورصائمہ کا نکاح آپس میں جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

        صورتِ مسئولہ میں صائمہ کا نکاح  حسن کےساتھ نہیں  ہوسکتا، اس لیےکہ صائمہ نے جب اپنی دادی کا دودھ پیا تووہ اس کی بیٹی بن گئی اور دادی کا بیٹا حضرت علی صائمہ کا رضاعی بھائی بن گیا اورحضرت علی کا بیٹا حسن صائمہ کےلیے رضاعی بھتیجا بن گیا اورجس طرح حقیقی بھتیجے سے نکاح ناجائز ہوتاہے اسی طرح رضاعی بھتیجے سے بھی نکاح ناجائز ہوتاہے،لہذا مذکورہ نکاح شرعاً جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

قال الله تعالى:

﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالاَتُكُمْ وَبَنَاتُ الأَخِ وَبَنَاتُ الأُخْتِ﴾ (النساء: 23)

فی الهداية - (ج 1 / ص 217)

 يحرم من الرضاع من يحرم من النسب.

رد المحتار - (ج 10 / ص 390)

 ( ولا ) حل ( بين الرضيعة وولد مرضعتها ) أي التي أرضعتها ( وولد ولدها ) لأنه ولد الأخ.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

 دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

9/2/ 1445ھ        

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب