03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جہری اور سری نمازیں
81341نماز کا بیاننماز کےمتفرق مسائل

سوال

السلام عليكم، میرا مفتی صاحب سے سوال یہ ہے کہ کیا جب ہم اکیلے فرض نماز پڑھیں گے تو کیا اس میں بھی ہمیں " جہری یا سری" کا خیال رکھنا ہوگا یا نہیں؟ اور اگر کسی نے اس کا خیال نہ رکا تو پھر کیا اس کی نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ اور یہ بھی بتا دیں کہ کن فرض نمازوں میں جہری ہوگی اور کن میں سری۔ نیز کیا نفل میں بھی جہری اور سری کا خیال رکھنا ہوگا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  1. سر اور جہر کا وجوبی حکم جماعت کے لیے ہے، منفرد کےلیے یہ حکم وجوبی نہیں ۔البتہ بہتر یہ ہے کہ منفرد سری نمازوں میں آہستہ آواز میں قراءت کرے،   اگر اس نے جہر کر لیا تو بھی اس پر سجدہ سہو لازم نہیں ہو گا ۔ جبکہ جہری نمازوں میں اس کو اختیار ہے  چاہے   بلند آواز میں قراءت کرے یا   آہستہ آواز میں ، البتہ جہر کرنا افضل ہے۔   
  2. پانچ نمازوں میں سے دو نمازیں ظہر اور عصر سری قراءت والی ہیں اور بقیہ تین نمازیں فجر، مغرب اور عشاء جہری قراءت والی ہیں۔
  3. نفل نمازوں میں اگر کوئی شخص دن کے وقت نوافل ادا کر رہا ہے تو اسے آہستہ آواز میں قراءت کرنا   چاہیے اوراگر رات کے وقت نوافل ادا کر رہا ہے تو سر اور جہر دونوں کا اختیار ہے۔البتہ جہر افضل ہے۔
حوالہ جات

قال العلامة ابن عابدين رحمہ اللہ تعالى : (ويخير المنفرد في الجهر) وهو أفضل، و يكتفي بأدناه(إن أدي) وفي السرية يخافت حتما على المذهب، كمتنفل بالليل منفردا. (رد المحتار:251/2)

قال جمع من العلماء رحمہم اللہ تعالى : وإن كان منفردا إن كانت صلاة يخافت فيها يخافت حتما ،هو الصحيح ،وإن كانت صلاة يجهر فيها فهو بالخيار . والجهر أفضل ولكن لا يبالغ مثل الإمام؛ لأنه لا يسمع غيره. كذا في التبيين ولا يجهد الإمام نفسه بالجهر. كذا في البحر الرائق. (الفتاوى الهندية:79/1)

قال العلامۃ النسفی رحمہ اللہ تعالى : وقد أفاد أن المتنفل بالنهار يجب عليه الإخفاء مطلقا، والمتنفل بالليل مخير بين الجهر والإخفاء إن كان منفردا. (البحر الرائق:586/1)

قال جمع من اللعلماء رحمہم اللہ تعالى : والمنفرد لا يجب عليه السهو بالجهر و الإخفاء ؛لأنهما من خصائص الجماعة، هكذا في التبيين. (الفتاوى الهندية:142/1)

قال العلامة السرخسي رحمه الله تعالى : قال: (وإن كان منفردا فليس عليه سجود السهو بهذا) أما في صلاة الجهر هو مخير بين الجهر والمخافتة، فلا يتمكن النقصان في صلاته جهر أو خافت، وأما في صلاة المخافتة، فجهر المنفرد بقدر إسماعه نفسه ،وهو غير منهي عن ذلك، فلهذا لا يلزمه السهو. (المبسوط للسرخسي:222/1)

قال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ تعالي : ولأن الإمام مع حاجته إلى إسماع غيره يخافت فالمنفرد أولى ولو جهر فيها بالقراءة فإن كان عامدا يكون مسيئا، كذا ذكر الكرخي في صلاته وإن كان ساهيا لا سهوعليه  نص عليه في باب السهو بخلاف الإمام.(بدائع الصنائع:161/1)

احسن الفتاوی میں مذکور ہے: منفرد کو جس طرح  جہری نماز میں جہر و اخفاء دونوں کا  اختیار ہے ، اسی طرح جہری نمازوں کی قضا میں بھی اختیار ہے۔ (احسن الفتاوی :(79/3

 ہارون عبداللہ

 دارالافتاء ،جامعۃ الرشید،كراچی

25/ صفر 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ہارون عبداللہ بن عزیز الحق

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب