03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“میرے گھر میرے ساتھ نہ رہی تو تجھے طلاق” کہنے کا حکم
81294طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

سائلہ عرصہ پانچ سال سے ناراض ہو کر والدین کے گھر رہائش پذیر ہے۔اور اس دوران شوہر کا میرے پاس والدین کے ہاں آنا جانا ہے۔سائلہ کے شوہر نے سائلہ کو درج ذیل میسج کیا"اگر تو ہفتہ 8 اکتوبر کو میرے گھر میرے ساتھ میرے پاس نہ ہوئی تو تجھے میری طرف سے طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے۔"سائلہ واپس شوہر کے گھر تونہیں گئی، البتہ 8 اکتوبر کا پورا دن اور رات دیر تک اپنے والدین کے ہی گھر شوہر کے پاس اور ساتھ ہی رہی۔۔ جب سائلہ نے شوہر سے اس بابت دریافت کیا کے میرے گھر واپس نہ جانے سے طلاق ہو گئی۔ تو شوہر کہتا ہے کہ میں نے یہ الفاظ گھر واپس آنے کے لئے نہیں بولے تھے بلکہ کہا تھا "اگر پاس اور ساتھ نہ ہوئی۔"سائلہ اس کے پاس بھی اور ساتھ بھی موجود رہی مگر اپنے والدین کے گھر نہ کہ شوہرکے گھر۔ شوہر حلفا کہتا ہے کہ میں نے پاسہونے اور ساتھ ہونے کے حوالے سے کہاتھا۔ گھر آنے کے لئے یہ الفاظ نہیں کہے تھے ۔ برائےمہربای جتنا جلد ممکن ہو سکے تحریری جواب سےرہنمائی فرمائیں کہ ہمارا رشتہ ہے یا نہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ تعلیق کی صورت میں بولے گئے الفاظ کا اعتبار ہوتا ہےیعنی عرف میں جو ان کا معنی سمجھا جا تا ہے وہی مراد لیا جاتا ہے۔بولنے والے کی مراد کااعتبار نہیں کیا جاتا۔

سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق  اگر شوہر میسج میں بھیجے ہوئے الفاظ کو تسلیم کرتا ہے لیکن ان سے  اپنے پاس اور ساتھ ہونا مراد لے رہا ہے تو ایسی صورت میں شوہر کی بات کا اعتبار نہیں اور صراحتا تین طلاق کو گھر میں رہنے کے ساتھ معلق کرنے کی وجہ سے تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔

البتہ اگر شوہر مذکورہ الفاظ کے ساتھ میسج بھیجنے سے ہی انکار کرتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ میں نے صرف میرے ساتھ اور پاس ہونے کے الفاظ سے میسج بھیجا تھا  تو اگر بیوی کے پاس دو گواہ موجود ہیں جو سوال میں مذکور الفاظ والے میسج کی گواہی دے سکیں تو اس  صورت میں بھی تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔ اگر بیوی کے پاس گواہ نہیں ہیں اور شوہر اپنی بات پر قسم اٹھا لیتا ہے تو پھر  شوہر کی بات کا اعتبار کرتے ہوئے قضاءطلاق واقع نہیں ہوگی۔اس آخری صورت میں بھی اگر بیوی کو یہ یقین ہے کہ شوہر نےگھر آنے کا کہا تھا اورتین طلاقیں ہوچکی ہیں تو اس کے لیے شوہر کے پاس جانا اور اس کو خود پر قدرت دینا جائز نہیں ہوگا۔ بلکہ اسے چاہیے کہ کسی بھی طرح کچھ مال دے کرخلع یا عدالت وغیرہ کے ذریعے کوئی طریقہ اختیا ر کرکے شوہر سے علیحدہ ہوجائے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 743)

(قوله الأيمان مبنية على الألفاظ إلخ) أي الألفاظ العرفية بقرينة ما قبله واحترز به عن القول ببنائها على عرف اللغة أو عرف القرآن ففي حلفه لا يركب دابة ولا يجلس على وتد، لا يحنث بركوبه إنسانا وجلوسه على جبل وإن كان الأول في عرف اللغة دابة، والثاني في القرآن وتدا كما سيأتي وقوله: لا على الأغراض أي المقاصد والنيات، احترز به عن القول ببنائها على النية. فصار الحاصل أن المعتبر إنما هو اللفظ العرفي المسمى، وأما غرض الحالف فإن كان مدلول اللفظ المسمى اعتبر وإن كان زائدا على اللفظ فلا يعتبر،

الفتاوى الهندية (9/ 213)

الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما إذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح نحو أن يقول لامرأة : إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق وكذا إذا قال : إذا أو متى وسواء خص مصرا أو قبيلة أو وقتا أو لم يخص وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته : إن دخلت الدار فأنت طالق

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 286)

(قوله وإن فرق بوصف) نحو أنت طالق واحدة وواحدة وواحدة، أو خبر نحو: أنت طالق طالق طالق، أو أجمل نحو: أنت طالق أنت طالق أنت طالق ح، ومثله في شرح الملتقى.

(قوله بعطف) أي في الثلاثة سواء كان بالواو أو الفاء أو ثم أو بل ح وسيذكر المصنف مسألة العطف منجزة ومعلقة مع تفصيل في المعلقة (قوله أو غيره) الأولى أو دونه ط (قوله بانت بالأولى) أي قبل الفراغ من الكلام الثاني عند أبي يوسف وعند محمد بعده لجواز أن يلحق بكلامه شرطا أو استثناء ورجح السرخسي الأول والخلاف عند العطف بالواو وثمرته فيمن ماتت قبل فراغه من الثاني وقع عند أبي يوسف لا عند محمد وتمامه في البحر والنهر (قوله ولذا) أي لكونها بانت لا إلى عدة ح (قوله لم تقع الثانية) المراد بها ما بعد الأولى، فيشمل الثالثة (قوله بخلاف الموطوءة) أي ولو حكما كالمختلى بها فإنها كالموطوءة في لزوم العدة، وكذا في وقوع طلاق بائن آخر في عدتها، وقيل لا يقع والصواب الأول كما مر في باب المهر نظما وأوضحناه هناك

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 251)

والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله.

عبدالقیوم   

دارالافتاء جامعۃ الرشید

25/صفر الخیر/1445

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالقیوم بن عبداللطیف اشرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب