| 83077 | سنت کا بیان (بدعات اور رسومات کا بیان) | متفرّق مسائل |
سوال
اکثرلوگ یہ کہتے ہیں چھری خالص لوہے کی نہیں ہونی چاہیے، اگر چھری میں لکڑی کا دستہ نہ ہو تو اس سے ذبح کرنا جائز نہیں ہے، کیا یہ بات شرعا درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعی طور پر ذبح کرنے کے لئے چھری میں لکڑی کا دستہ ہونا ضروری نہیں،لیکن انتظامی طور پر دستہ(کسی بھی چیز کا،لکڑی کا ہونا ضروری نہیں) ہو تو بہتر ہے،کیونکہ بغیر دستے والی چھری سے ذبح کرنے کی صورت میں چھری پر گرفت مضبوط نہ ہونے کی وجہ سے ذبح کا عمل سست روی کا شکار ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے جانور کو تکلیف ہوگی،جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح سے پہلے چھری تیز کرنے کا حکم فرمایا ہے،تاکہ جانور کو کم سے کم تکلیف ہو۔
حوالہ جات
"صحيح مسلم "(3/ 1548):
"عن شداد بن أوس، قال: ثنتان حفظتهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «إن الله كتب الإحسان على كل شيء، فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة، وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح، وليحد أحدكم شفرته، فليرح ذبيحته»".
قال الملا علی القاری رحمہ اللہ:" وقد قال علماؤنا: وكره السلخ قبل أن تبرد وكل تعذيب بلا فائدة لهذا الحديث، ولما أخرج الحاكم في المستدرك وقال: صحيح على شرط الشيخين، عن ابن عباس رضي الله عنهما: «أن رجلا أضجع شاة يريد أن يذبحها وهو يحد شفرته، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: أتريد أن تميتها موتتين؟ هلا حددت شفرتك قبل أن تضجعها؟» .
"البحر الرائق " (8/ 194):
قال - رحمه الله -: (وندب حد شفرته) لقوله - عليه الصلاة والسلام - «إن الله كتب الإحسان على كل شيء فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة، وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبحة وليحد أحدكم شفرته وليرح ذبيحته» رواه مسلم وغيره ويكره أن يضجعها، ثم يحد الشفرة لقوله - عليه الصلاة والسلام - «لمن أضجع الشاة وهو يحد شفرته لقد أردت أن تميتها موتتين هلا حددتها قبل أن تضجعها» الحديث، والآلة على ضربين؛ قاطعة وغير قاطعة، والقاطعة على ضربين؛ حادة وكليلة، فالحادة اختيارية وضرورية فالحادة يجوز الذبح بها من غير كراهة والكليلة يجوز الذبح بها ويكره لما مر من الإبطاء في الإراقة كذا في المحيط.
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
29/رجب1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


