03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا مہر شرعی کا مصداق دس درھم ہے؟
83079نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

ہمارےعرف میں جب نکاح پڑھایاجاتاہےاورمہرمقررکرنےکاوقت آتاہےتوکہتےہیں کہ جومہرشرعی ہے وہی رکھ لو اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جو دس درہم  مہر بیان کیا جاتا ہے، یہ شرعی مہر ہے،تو شریعت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ شرعی مہر کتنا ہے اور یہ دس درہم کی مقدار شرعی ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شرعی لحاظ سے دس درھم مہر کی کم از کم مقدار ہے،جبکہ زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے،لہذا دس درھم کے مہر پر بھی شرعی مہر کا اطلاق ہوسکتا ہے اور اس سے زیادہ پر بھی۔

حوالہ جات

"البحر الرائق " (3/ 152):

"(قوله: وأقله عشرة دراهم) أي أقل المهر شرعا للحديث «لا مهر أقل من عشرة دراهم» وهو وإن كان ضعيفا فقد تعددت طرقه والمنقول في الأصول أن الضعيف إذا تعددت طرقه فإنه يصير حسنا إذا كان ضعفه بغير الفسق ولأنه حق الشرع وجوبا إظهارا لشرف المحل فيقدر بما له خطر وهو العشرة استدلالا بنصاب السرقة".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

29/رجب1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب