| 84062 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
حضرات مفتیان کرام ایک مسئلہ درپیش ہے،میں نے میزان بینک سے گاڑی لینی ہے،ان لوگوں کی طرف سے کچھ شرائط ہوتی ہیں جیسے بیمہ، انشورنس کا ہونا،اس طرح کا معاملہ کرنے کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جو بینک ،اسلامی یا غیر سودی بینکاری کے نام سے کسی مستند عالم کی نگرانی میں مکمل طور پر تمام معاملات شریعت کے مطابق کر رہے ہوں، جیسے میزان بینک ،بینک اسلامی وغیرہ اور دیگر بہت سے وہ بینک جو جزوی طور پر مستند علماء کی نگرانی میں غیر سودی بینکاری کررہے ہیں ، ان کے ساتھ معاملا ت کیے جاسکتے ہیں ، جب تک یہ بینک مستند علماء کی نگرانی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے طے کردہ غیر سودی بینکاری کے معیارات کے مطابق کام کرتے رہیں،اس وقت تک ان سے معاملات کرنا جائز ہے۔
حکومتی قانون کےجبر کی وجہ سےانشورنس کروانے کی گنجائش ہے،لیکن کلیم کی صورت میں انشورنس کمپنی کی طرف سے ملنے والی رقم میں سے صرف جمع کردہ رقم کے بقدر رقم حلال ہوگی اور بقیہ رقم بلا نیت ثواب صدقہ کرنا ضروری ہوگا.
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
04/ذوالحجہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


