| 84063 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
جب قسط شارٹ ہوجائے یعنی ایک مہینہ یا دومہینہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ان کی طرف سے اس میں اضافہ کرتے ہیں ،اب ان شرائط کی صورت میں ان کے ساتھ اس طرح کا معاملہ کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟اس طرح سود سے بچنے کے لیے مذکورہ مسئلہ کی کیا صورت ہوسکتی ہے کہ میں قسطوں پر گاڑی بھی لوں اور وہ معاملہ سود
سے بالکل پاک ہو،اور شرعی اصولوں کے عین مطابق ہو۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یہ سود نہیں ہے اور نہ قیمت میں اضافہ ہے،بلکہ خریدار کو بروقت قسط جمع نہ کرانے پر صدقہ کا پابند بنائے جانے کا معاہدہ ہوتاہے،چونکہ قسطیں بر وقت ادا نہ کرنے کی وجہ سے مالی جرمانہ لگانا درست نہیں ،اور نہ ہی تاخیر کرنے سے اس چیزکی قیمت میں اضافہ کیا جاسکتاہے،اس لیے بسا اوقات خریدار جا ن بوجھ کر بروقت ادائیگی نہیں کرتا،جس سےبیچنے والے کا نقصان ہوتاہے ،لہذا خریدار کو بروقت ادائیگی کا پابند بنانےکے لیے یہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ شروع ہی میں اس سے یہ التزام کرایاجاتاہے کہ اگر اس نے کسی معقول عذرکے بغیر بروقت ادائیگی نہیں کی تو اتنی رقم کسی خیراتی فنڈ میں جمع کرائے گا، جس کی وجہ سے اب وہ ادئیگی میں قصدا اور بلاعذر کو ئی تاخیر نہیں کرسکے گا، اور رقم چونکہ خود استعمال نہیں کی جاسکتی ،اس لیے مشتری کو خیراتی فنڈ میں جمع کرانے کا پابند بنایا جاتا ہے
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
04/ذوالحجہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


