03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سسرال والوں کی جانب سے قتل کی دھمکی پر طلاق نامے پر دستخط کرنا
84977طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

میری زوجہ نے کسی وجہ سے مجھ سے کا مطالبہ کیا، میرے سسر نے بھی مجھ سے طلاق دینے کا کہا اور مجھے جان سے  مار دینے کی دھمکیاں دیں، میرے سالے بھی دھمکیاں دے رہے تھے، عالم یہ تھا کہ طلاق نہ دینے کی صورت میں  میری عزت، جان، آبرو سب داؤ پر تھیں، والد صاحب نے وکیل کو پیپر بنانے کا کہا،رشتے میں رہنے کی صورت میں میرا جینا مشکل تھا،میری بالکل بھی خواہش نہیں تھی کہ طلاق دوں،میں سب کی منتیں کرتا رہا،پیر پکڑتا رہا کہ آگے مشکل ہوگی، میرا بچہ ہے اسے اور لازمی طور پر میاں بیوی کو بھی، مگر کوئی راستہ نظر نہ آیا تو آخر مجبورا گواہان کی موجودگی میں طلاق نامے پر دستخط کردیئے،جسے میں نے پڑھا بھی نہیں، نہ میں نے طلاق کی نیت کی اور نہ میں نے زبان سے طلاق کے الفاظ بولے، دھمکیاں دینے والے نقصان پہنچا سکتے تھے اور اب بھی ہیں، آیا اس صورت میں میرا نکاح ختم ہوچکا ہے یہ نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر سوال میں ذکر کی گئی تفصیل حقیقت پر مبنی ہے کہ طلاق نامے پر دستخط نہ کرنے کی صورت میں سسرال والوں کی جانب سے آپ کی جان کو خطرہ لاحق تھا تو پھر زبان سے طلاق کے الفاظ کہے بغیر اپنی جان بچانے کی خاطر مجبوراً طلاق نامے پر محض دستخط کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔

حوالہ جات

"بدائع الصنائع "(7/ 175):

"وأما بيان أنواع الإكراه فنقول: إنه نوعان: نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر، ومنهم من قدره بعدد ضربات الحد، وأنه غير سديد؛ لأن المعول عليه تحقق الضرورة فإذا تحققت فلا معنى لصورة العدد، وهذا النوع يسمى إكراها تاما، ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا".

"الدر المختار " (6/ 129):

"(وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى ".

"البحر الرائق " (3/ 264):

"وقيدنا بكونه على النطق لأنه لو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا كذا في الخانية، وفي البزازية أكره على طلاقها فكتب فلانة بنت فلان طالق لم يقع اهـ".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

12/ربیع الثانی1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب