03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشت زنی کے نقصان کا ازالہ
84969جائز و ناجائزامور کا بیانعلاج کابیان

سوال

آپ کے سوال کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کو ماضی میں مشت زنی کی عادت تھی، اور یہ عمل آپ گزشتہ سات سالوں سے مسلسل کرتے رہے ہیں۔ لیکن الحمدللہ، مدرسے میں داخل ہونے کے بعد آپ نے اس گناہ کو ترک کر دیا۔ اب آپ کو یہ فکر لاحق ہے کہ کہیں شادی کے بعد جماع کے معاملے میں کمزوری یا ناکامی کا سامنا نہ کرنا پڑے، جس کی وجہ سےاب  آپ بہت پریشان ہے۔ اس حوالے سے آپ رہنمائی چاہتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مشت زنی کرنا سخت گناہ ہے اور احادیث میں ایسے شخص پر لعنت وارد ہوئی ہے لہذا اس فعل سے مکمل پرہیز اور اجتناب ضروری ہے، باقی اس کے طبی نقصانات  اور اس کے علاج کے لیے کسی مستند اور اچھے معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

(الاستمناء حرام) أي بالكف إذا كان لاستجلاب الشهوة، أما إذا غلبته الشهوة وليس له زوجة ولا أمة، ففعل ذلك لتسكينها، فالرجاء أنه لا وبال عليه ، كما قاله أبو الليث، ويجب لو خاف الزنا.

(الرد المحتار:4/27)

الاستمناء باليد إن كان لمجرد استدعاء الشهوة فهو حرام في الجملة؛لقوله تعالى فی سورۃ المؤمنون: {والذين هم لفروجهم حافظون ،إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم فإنهم غير ملومين ، فمن ابتغى وراء ذلك فأولئك هم العادون} والعادون هم الظالمون المتجاوزون، فلم يبح اللہ سبحانه وتعالى الاستمتاع إلا بالزوجة والأمة، ويحرم بغير ذلك. وفي قول للحنفية والشافعية والإمام أحمد: أنه مكروه تنزيها. وإن كان الاستمناء باليد لتسكين الشهوة المفرطة الغالبة التي يخشى معها الزنى فهو جائز في الجملة، بل قيل : بوجوبہ؛ لأن فعله حينئذ يكون من قبيل المحظور الذي تبيحه الضرورة، ومن قبيل ارتكاب أخف الضررين.

(الموسوعۃ الفقہیہ: الکویتیۃ:4/98)

محمد ادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

11  ٖربیع الثانی1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب