| 84955 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میں مسماۃ جمیلہ خاتون بنت مقبول احمداپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ ایک عرصے سے زندگی گزاررہی ہوں، میرے
شوہر کے انتقال کے بعد سے ساری دیکھ بھال میرے چھوٹے بیٹے نے اپنے ذمہ لی ہوئی تھی، جبکہ بڑے بیٹے کو جائیداد سےاس کا حصہ دے کر فارغ کردیا تھا، اور مجھ سے اس کے تعلقات بھی اچھے نہیں ہیں، میں نے اپنا حصہ تقسیمِ حکمی (قیمت لگانے)کے بعد اپنے چھوٹے بیٹے کو دےدیا تھاکہ وہ میرا خیال رکھ رہا ہےاور میں اسی کے ساتھ رہ رہی ہوں۔
کچھ عرصہ پہلے میرے چھوٹے بیٹے کا بھی انتقال ہوگیا، جس کے وراثوں میں ایک نابالغ بیٹا ،چار بیٹیاں،ایک بیوہ ، میت کی والدہ اور ان کے علاوہ میت کا ایک بھائی اور ایک بہن ہیں،جبکہ بیٹے کی جائیداد میں دومکان اور کچھ نقد رقم ہے،اب میں اپنے چھوٹے بیٹے کی جائیداد سے /200,000 دولاکھ روپے لے کر اس کے عوض میراث میں باقی جو میرا حصہ بنتاہے ،اس سے دستبردار ہوگئی ،جبکہ باقی ورثہ میں ان کا حصہ ابھی تک تقسیم نہیں کیا گیا ،اورمیں نے یہ صرف اس لیے کیا ہے تاکہ وارثوں کے لیے بڑےہوکر کوئی چھت باقی رہے،کیا میرے لیے ایسا کرنا درست ہے؟
تنقیح:استفسار پر سائلہ نے وضاحت کی کہ نابالغ بیٹے کے والد مرحوم نے صراحتا اپناکوئی وصی مقرر نہیں کیا تھا،البتہ انہوں نے مرضِ موت میں اپنے دو دامادوں کو عمومی الفاظ میں گھر کا خیال رکھنے کا کہا تھا،جس پر انہوں نے کہا : جی ہاں، ہم خیال رکھیں گے ،جبکہ بیٹا اب اپنی والدہ کی نگرانی و کفالت میں ہے،اور اس کی عمر گیارہ سال ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مذکورہ میں اصل مسئلہ سے پہلے تین باتوں کا سمجھنا ضرور ی ہے:
1-آپ کا اپنے شوہر کی میراث سے جو حصۂِ میراث تھا،اگر وہ غیر منقولی جائیداد کی صورت میں قابلِ تقسیم تھاتو اس کا حسی تقسیم سے پہلےاپنے بیٹے کو دینا درست نہیں تھا،لہٰذا اگرابھی تک اس کی باقاعدہ تقسیم نہیں ہوئی تووہ آپ ہی کی ملکیت شمار ہوگا،اسے اپنے مرحوم بیٹے کے ترکہ میں شمار نہ کریں۔
2- میت کے بیٹے کی موجودگی میں میت کے بہن بھائی شرعا میراث کے حق دار نہیں ہوں گے،لہٰذا میت کے ورثہ سات افراد یعنی ایک نابالغ بیٹا ،چار بیٹیاں،ایک بیوہ اور میت کی والدہ ہیں۔
3- صورتِ مسئولہ میں مسماۃ جمیلہ خاتون کا میت کے ترکہ یعنی نقد رقم اور دو مکانوں سے دولاکھ روپے لےکر اس کے عوض اپنے حصۂِ میراث سے دستبردار ہونا فقہی لحاظ سے تخارج ہے،جو صلح کی ایک صورت ہےاورخرید و فروخت کے حکم میں ہے، لہٰذااس کے درست ہونےکے لیے دیگر تمام ورثہ کا اس پر راضی ہوناضروری ہے،نیز ترکہ میں نقد رقم کی وجہ سےتخارج کےدو لاکھ روپے کا مرحوم کی والدہ کے حصے میں آنے والی نقدی سے زیادہ ہونا بھی ضروری ہےتاکہ سود لازم نہ آئے۔
ان تین باتوں کے بعدصورتِ مسئولہ میں چونکہ میت کے ورثہ میں ایک نابالغ، مگر عاقل بچہ بھی ہے،اس لیے اگر دیگر تمام ورثہ بشمول نابالغ بچے کے اس کی اجازت بھی دے دیں تو یہ تخارج بیع کے حکم میں ہونے کی وجہ سے اس
بچے کے مالی امورکےنگران، یا بوقتِ بلوغ دوبارہ اس بچے کی اپنی اجازت پرموقوف ہوگا،اور مذکورہ صورت میں چونکہ بچے کے والد نے مرضِ موت میں اپنے دو دامادوں کو عمومی الفاظ میں گھر کا خیال رکھنے کا کہہ دیا تھا،جس پر انہوں نے یہ ذمہ داری قبول کی ،اس لیے تخارج کی صورت میں اگر بچے کا فائدہ ہو اورمیت کے یہ دونوں داماد بحیثیتِ وصی بچے کی اجازت پر رضامندی کا اظہار کریں تویہ تخارج درست ہوگا،اور باقی ترکہ دیگر ورثہ میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا،جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
سب سے پہلےمرحوم نے جو کچھ رقم، چھوٹابڑا سازوسامان اور جائیداد چھوڑی،اس میں سے مرحوم کی تجہیز وتکفین کےمعتدل اخراجات (اگركسی وارث نے یہ بطورتبرع اپنے ذمے نہ لیے ہوں( نکالےجائیں ،پھر اگر مرحوم کے ذمہ کسی کاقرض ہو (بیوی کا مہرادا نہ کیا ہوتو وہ بھی دَین یعنی قرض میں شامل ہے) تووہ ادا کیا جائے ،پھر اگرمرحوم نے کسی غیروارث کے لئےکوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کے مطابق عمل کیا جائے،اس کے بعد جو ترکہ بچ جائے اس کومرحوم کےانتقال کےوقت موجودورثہ( نابالغ بیٹے ،چار بیٹیوں،ایک بیوہ اور میت کی والدہ)میں تقسیم کیاجائےگا،اور والدہ اپنے حصے سےصرف تخارج کی حدتک یعنی دولاکھ روپے لے گی۔
لہٰذاتقسیم کاطریقہ یہ ہوگاکہ پہلے مرحوم کےکل ترکہ یعنی رقم اور دومکانوں کی قیمت کو ملا کرسب کے 144 حصے بنائیں جائیں گے،ان میں سے 24حصےیا 16.6666فیصدحصہ میت کی والدہ مسماۃ جمیلہ خاتون کا ہوگا،لیکن تخارج کی وجہ سے اسے دیگر ورثہ کی رضامندی سےصرف دولاکھ روپے دیےجائیں گے،اور اس کل ترکہ کے 16.6666فیصد میں سےدولاکھ کے بعد جو کچھ بچ جائے وہ ترکہ میں شامل کرکےدوبارہ اس موجودہ ترکہ کے 120حصے بنائے جائیں گے،ان میں سے بیوہ کو 18 حصے، چاربیٹیوںمیں سے ہر بیٹی کو17حصےاور بیٹے کو 34حصے ملیں گے،جبکہ فیصدی اعتبار سے بیوہ کا 15%،ہربیٹی کا 14.1666%اور بیٹے کا 28.3333% حصہ ہوگا۔ذیل میں تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ ہو:
|
نمبرشمار |
وارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
والدہ |
2416.6666%/ (تخارج کےدولاکھ روپے اس حصے سے نکالےجائیں گے، جن کا ترکہ میں موجود صرف نقدی کے ٪16.6666 سے زیادہ ہونا ضروری ہے۔) |
|
|
2 |
بیوہ |
18 |
15% |
|
3 |
بیٹی |
17 |
14.1666% |
|
4 |
بیٹی |
17 |
14.1666% |
|
5 |
بیٹی |
17 |
14.1666% |
|
6 |
بیٹی |
17 |
14.1666% |
|
7 |
بیٹا |
34 |
28.3333% |
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 223):
قال: "ولا تجوز الهبة فيما يقسم إلا محوزة مقسومة، وهبة المشاع فيما لا يقسم جائزة" .
ایضا (3/ 198):
قال: "وإذا كانت الشركة بين ورثة فأخرجوا أحدهم منها بمال أعطوه إياه والتركة عقار أو عروض جاز قليلا كان ما أعطوه إياه أو كثيرا" ؛لأنه أمكن تصحيحه بيعا. وفيه أثر عثمان...وإن كانت التركة ذهبا وفضة وغير ذلك فصالحوه على ذهب أو فضة فلا بد أن يكون ما أعطوه أكثر من نصيبه من ذلك الجنس حتى يكون نصيبه بمثله والزيادة بحقه من بقية التركة؛ احترازا عن الربا، ولا بد من التقابض فيما يقابل نصيبه من الذهب والفضة لأنه صرف في هذا القدر.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 135):
(أما) الذي يرجع إلى العاقد فنوعان: أحدهما أن يكون عاقلا، فلا ينعقد بيع المجنون والصبي الذي لا يعقل؛ لأن أهلية المتصرف شرط انعقاد التصرف، والأهلية لا تثبت بدون العقل فلا يثبت الانعقاد بدونه، فأما البلوغ فليس بشرط لانعقاد البيع عندنا، حتى لو باع الصبي العاقل مال نفسه؛ ينعقد عندنا موقوفا على إجازة وليه، وعلى إجازة نفسه بعد البلوغ، وعند الشافعي شرط فلا تنعقد تصرفات الصبي عنده أصلا ،وكذا ليس بشرط النفاذ في الجملة، حتى لو توكل عن غيره بالبيع و
الشراء ينفذ تصرفه، وعنده لا ينفذ.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:4/ 505):
الولاية إما بإنابة المالك كالوكالة، والشارع كولاية الأب ثم وصيه ثم الجد ثم وصيه ثم القاضي ثم وصيه.
الموسوعة الفقهية الكويتية (7/ 205،206):
أما في اصطلاح الفقهاء، فالإيصاء بمعنى الوصية، وعند بعضهم هو أخص من ذلك، فهو إقامة الإنسان غيره مقامه بعد وفاته في تصرف من التصرفات، أو في تدبير شئون أولاده الصغار و رعايتهم، وذلك الشخص المقام يسمى الوصي... يتحقق عقد الإيصاء بإيجاب من الموصي، وقبول من الموصى إليه، ولا يشترط في الإيجاب أن يكون بألفاظ مخصوصة، بل يصح بكل لفظ يدل على تفويض الأمر إلى الموصى إليه بعد موت الموصي، مثل: جعلت فلانا وصيا، أو عهدت إليه بمال أولادي بعد وفاتي، وما أشبه ذلك. وكذلك القبول، فإنه يصح بكل ما يدل على الموافقة والرضى بما صدر من الموصي، سواء أكان بالقول كقبلت أو رضيت، أو أجزت، ونحو ذلك، أم بالفعل الدال على الرضى، كبيع شيء من التركة بعد موت الموصي، أو شرائه شيئا يصلح للورثة، أو قضائه لدين أو اقتضائه له. ولا يشترط في القبول أن يكون في مجلس الإيجاب، بل يمتد زمنه إلى ما بعد موت الموصی
لأن أثر عقد الإيصاء لا يظهر إلا بعد موت الموصي، فكان القبول ممتدا إلى ما بعده.
ایضا (7/ 211،213):
اختلف الفقهاء في الوقت المعتبر لتوافر الشروط المطلوبة (ای:العقل والتمييز ،الإسلام ،قدرة الموصى إليه على القيام بما أوصي إليه فيه وحسن التصرف فيه)في الموصى إليه، فذهب الشافعية في الأصح عندهم، وهو أحد وجهين عند الحنابلة إلى أن الوقت المعتبر لتحقق الشروط في الموصى إليه أو عدم تحققها هو وقت وفاة الموصي؛ لأن هذا الوقت هو وقت اعتبار القبول وتنفيذ الإيصاء ... وهذا الرأي أيضا هو رأي الحنفية والمالكية، وإن لم نجده منصوصا عليه في كتبهم التي رجعنا إليها، وذلك بناء على ما قالوه في اشتراط ألا يكون الموصى له بالمال وارثا للموصي، فإنهم نصوا على أن الوقت المعتبر لتحقق هذا الشرط أو عدم تحققه هو وقت وفاة الموصي، لا وقت الوصية، وهذا يدل دلالة واضحة على أن وقت الموت هو أيضا المعتبر عندهم في الشروط الواجب توافرها في الوصي إليه لصحة الإيصاء.
القاعدة العامة في عقود الوصي وتصرفاته: أن الوصي مقيد في تصرفه بالنظر والمصلحة لمن في وصايته، وعلى هذا لا يكون للوصي سلطة مباشرة التصرفات الضارة ضررا محضا كالهبة، أو التصدق، أو البيع والشراء بغبن فاحش، فإذا باشر الوصي تصرفا من هذه التصرفات كان تصرفه باطلا، لا يقبل الإجازة من أحد، ويكون له سلطة مباشرة التصرفات النافعة نفعا محضا، كقبول الهبة والصدقة والوصية والوقف، والكفالة للمال. ومثل هذا: التصرفات الدائرة بين النفع والضرر كالبيع والشراء والإجارة والاستئجار والقسمة والشركة، فإن للوصي أن يباشرها، إلا إذا ترتب عليها ضرر ظاهر، فإنها لا تكون صحيحة.
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
13/ربیع الثانی/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


