03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تقسیم ِ میراث کی ایک صورت ، کیامحض اپنی منشأسے میراث تقسیم کرناجائزہے؟( بیوہ، دو بیٹے، تین بیٹیوں میں تقسیم میراث)
85103میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

   کسی شخص کی وفات کے بعد اس کے چھوڑے ہوئے مال و اسباب، نقدی، جائیداد وغیرہ کو ورثہ میں تقسیم کا شرعی طریقہ و خاکہ کیا ہوگا؟ ورثہ میں بیوہ، دو بیٹے، تین بیٹیاں ہیں۔ اولاد بالغ ہے،کیا ورثہ اپنے ارادے اور منشاء سے بھی وراثت تقسیم کرنے کے مجاز ہیں؟

    تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ اپنے ارادے اور منشاء سے تقسیم کا مطلب یہ ہے کہ اگر بعض ورثہ ترکہ میں سے متعین  چیزیں لینے کے لیےاصرارکررہےہوں، تو کیا ایسا کرنا درست ہوگا کہ انہیں حصہ میں سے متعین چیزیں بھی مل جائیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

     اصل تو یہ ہے کہ ترکہ میں اگر مختلف اقسام کی چیزیں ہوں تو ہر چیز کوتقسیم کرکےاس میں سے ہروارث کو اس کا حصہ دیا جائےگا،البتہ اگر بعض ورثہ متعین چیزیں  لینے کے لیے اصرار کررہے ہوں  تو اس صورت میں اگر باقی ورثہ کی رضامندی ہو تو وہ اپنے حصہ میں  متعین چیزیں قیمت کے حساب سےلے سکتے ہیں اور  اگرکسی ایک وارث کی رضامندی نہ ہو تو پھر وہ متعین چیزیں نہیں لےسکتے، وہ  اس میں سےصرف اپنے حصہ کے حقدار ہوں گے۔

     صورت مسؤلہ میں تقسیمِ میراث کا طریقہ یہ ہوگا:

     مرحوم نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو مال و اسباب، نقدی، جائیداد وغیرہ  چھوڑاہے،  اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کی تجہیزوتکفین کی متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اس کے بعد مرحوم کے ذمہ اگر کسی کا قرض ہو تو وہ اداکیاجائےگا،پھر اگر اس نے کسی غیر وارث کے حق میں جائز وصیت کی ہوتواسے اس کے ترکہ کے ایک تہائی سے اداکیا جائے گا،اس کے بعد جو ترکہ باقی بچے وہ موجود  ورثہ کے درمیان حسب ذیل طریقہ کے مطابق تقسیم ہوگا:

کل ترکہ کے آٹھ حصے کرکے ایک حصہ مرحوم کی بیوہ کو، دو دو حصے مرحوم کے ہر بیٹے کو اور ایک ایک حصہ مرحوم کی ہربیٹی کو دیاجائے گا۔فیصدی لحاظ سے مرحوم کے بیوہ کو 12.5%،ہر بیٹے کو 25% جبکہ ہر بیٹی کو 12.5%ملےگا۔آسانی کےلیے نقشہ ملاحظہ ہو۔

نمبرشمار

ورثہ

8   حصے

100فیصد

1

بیوہ

1

%12.5

2

پہلا بیٹا

2

%25

3

دوسرا  بیٹا

2

%25

4

پہلی بیٹی

1

%12.5

5

دوسری بیٹی

1

%12.5

6

تیسری بیٹی

1

%12.5

 

 

 

 

حوالہ جات

قال اللہ تعالی:  يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ  [النساء: 11] 

وقال اللہ تعالی: فَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدٞ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۚ مِّنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ تُوصُونَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۗ [النساء: 12] 

قال العلامۃ المرغینانی رحمہ اللہ: وإن كانت دار وضيعة أو دار وحانوت،قسم كل واحد منهما على حدة؛لاختلاف الجنس. (الهداية:4/ 329)

وفي الهندية:   وإن كانت دار وضيعة أو دار وحانوت ،قسم كل واحدة منهما على حدة ؛لاختلاف الجنس، كذا في الهداية ‌. وإذا ‌كانت ‌في ‌التركة دار وحانوت،والورثة كلهم كبار،وتراضوا على أن يدفعوا الدار والحانوت إلى واحد منهم عن جميع نصيبه من التركة جاز؛ لأن عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - إنما لا يجمع نصيب واحد من الورثة بطريق الجبر من القاضي وأما عند التراضي فذلك جائز. ولو دفع أحد الورثة الدار إلى واحد من الورثة من غير رضا الباقين عن جميع نصيبه من التركة، لم يجز،يعني لا ينفذ على الباقين إلا بإجازتهم ،ويكون لهم استرداد الدار، وأن يجعلوها في القسمة إن شاءوا، وهذا ظاهر.( الفتاوى الهندية:5/ 205)

وقال العلامۃ السرخسی رحمہ اللہ:وإذا اصطلح الرجلان في القسمة على أن أخذ أحدهما دارا والآخر منزلا في دار أخرى أو على أن أخذ أحدهما دارا والآخر نصف دار أخرى أو على أن أجر كل واحد منهما سهاما معلومة من دار على حدة أو على أن أخذ أحدهما دارا والآخر عبدا أو ما أشبه ذلك من الاصطلاح في الأجناس المختلفة فذلك جائز؛ لأن هذه معاوضة تجري بينهما بالتراضي. (المبسوط للسرخسي: 15/ 8)

وقال  رحمہ اللہ فی موضع آخر:داران بين ثلاثة نفر، اقتسموها على أن يأخذ أحدهما إحدى الدارين والثاني الدار الأخرى على أن يرد الذي أخذ الدار الكبرى على الذي لم يأخذ شيئا دراهم مسماة، فهو جائز؛ لأنه اشترى نصيب الشريك الثالث بما أعطاه من الدراهم ولو اشترى نصيب الشريكين جميعا بالدراهم جاز.        (المبسوط للسرخسي:15/ 26)

وقال  رحمہ اللہ فی موضع آخر:وكذلك دار بين شريكين... وكذلك لو اقتسماها على أن يأخذ أحدهما البناء وأخذ آخر الخراب على أن يرد صاحب البناء على الآخر دراهم مسماة فذلك جائز؛ لأن بعض ما أخذ من البناء عوض مستحق له بالقسمة وبعضه مبيع له بما نقد من الدراهم. (المبسوط للسرخسي:15/ 26)

محمدشوکت بن محمدوہاب

دارالافتاءجامعۃ الرشید،کراچی

15/ربیع الثانی 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدشوکت بن محمدوہاب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب