| 84991 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
والد صاحب کی ایک دکان تھی،ان کا بڑا بیٹا بھی ان کے ساتھ اسی دکان پر کام کرتا تھا،کچھ عرصہ بعد والد صاحب کا انتقال ہوگیا،ورثا میں ایک بیوہ اور بڑے بھائی کے علاوہ پانچ چھوٹے بھائی مزید تھے جو ناسمجھ تھے۔
والد صاحب کی وراثت تقسیم کی گئی،لیکن رقم سب کی مشترکہ اسی دکان میں لگی ہوئی تھی،سب کا گزر بسر اسی دکان کی آمدن سے ہوتا تھا،والد صاحب کے انتقال کے بعد بڑے بھائی نے اسی طرح ذمہ داری نبھائی جس طرح والد صاحب کے ساتھ نبھاتے تھے۔
اب جبکہ بقیہ بھائی بھی بالغ اور سمجھ دار ہوگئے ہیں تو انہیں ان کا حصہ کس طرح دیا جائے گا؟
یعنی والدہ اور بھائیوں کو ترکہ کی جو رقم دی جائے گی وہ آج سے بیس سال پہلے جتنی رقم سب کے حصے میں آئی تھی وہی دی جائے گی؟ یا سکہ رائج الوقت کے حساب سے رقم بڑھاکر دی جائے گی؟
تنقیح:والد کے انتقال کے بعد بقیہ بھائیوں کے ناسمجھ ہونے کی وجہ سے بڑے بھائی نے دکان کو سنبھالا اور چھوٹے بھائیوں کی اچھی طرح کفالت کی،دکان کو بھی خوب محنت سے چلایا،جس کے نتیجے میں دکان ترقی کرتی گئی،نقصان نہیں ہوا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ اس دکان میں تمام ورثا کا مشترکہ سرمایہ لگاہوا ہے،اس لئے اس کے نفع و نقصان میں بھی ہر وارث اپنے سرمایہ کے تناسب سے حصہ دار ہوگا،لہذا دکان کی تقسیم کے وقت حساب و کتاب کیا جائے اور ہر وارث کو اس کے اصل حصے کے ساتھ نفع میں سے بھی اس کے تناسب سے حصہ دیا جائے۔
تاہم بڑا بھائی جس نے اتنے طویل عرصے تک اس دکان کو محنت کرکے سنبھالا اسےمیراث میں اپنے حصے کے علاوہ اتنے عرصے کی محنت کا معاوضہ اجرت مثل کی صورت میں لینے کا حق بھی حاصل ہے،جسے درج ذیل باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کیا جائے گا:
ا۔یہ اندازہ لگایا جائے کہ اگر کوئی ملازم اس قسم کا کام کرتا تو اس کی ماہانہ یا سالانہ تنخواہ کتنی ہوتی۔
۲۔یہ اندازہ کم از کم دو ایسے غیر جانبدار لوگوں سے لگوایا جائے،جنہیں اس کاروبار کی نوعیت کا علم ہو،مارکیٹ سے وابستہ لوگ ہوں تو زیادہ بہتر رہے گا۔
۳۔یہ بھی مدنظر رہے کہ بھائی اس کاروبار سے اپنے ذاتی اور گھریلو اخراجات بھی وصول کرتے رہے ہیں،اس لیے انہیں بھی اس مجموعی تنخواہ سے منہا کیا جائے گا۔
۴۔اتنی تنخواہ مقرر کرنا درست نہیں ہوگا، جس کی وجہ سے دیگر ورثہ کا اکثر حصہ ختم ہوجائے اور ان کے حصے میں کچھ باقی نہ رہے،یا نہ ہونے کے برابر رہ جائے۔
حوالہ جات
"درر الحكام في شرح مجلة الأحكام" (3/ 26):
"تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما".
"رد المحتار" (4/ 313):
"(قوله: والربح على ما شرطا) أي من كونه بقدر رأس المال أو لا لكنه محمول على ما علمته من التفصيل المار، وأعاده مع قوله مع التفاصيل في المال دون الربح للتصريح بأن هذا الشرط صحيح فافهم، نعم ذكره بين المتعاطفات غير مناسب، وقيد بالربح؛ لأن الوضيعة على قدر المال وإن شرطا غير ذلك كما في الملتقى وغيره".
"الأشباه والنظائر " (ص: 230):
"استعان برجل في السوق ليبيع متاعه فطلب منه أجرا فالعبرة لعادتهم وكذا لو أدخل رجلا في حانوته ليعمل له".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
15/ربیع الثانی1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


