| 85003 | وصیت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارےمیں کہ
ایک لڑکی کو میراث میں ایک ایسی جگہ (مکان) ملتا ہے، جس کی قیمت مثال کے طور پر 10 لاکھ روپے ہے۔ لیکن لڑکی کو دھوکہ دیا گیا اور اسے ایک ایسی جگہ دی گئی جس کی قیمت مثلاً 5 لاکھ روپے ہے۔ اُس وقت لڑکی نے اپنے بڑوں کا، جنہوں نے فیصلہ کیا تھا، حکم مان لیا تھا۔ اب یہ لڑکی اپنے دس لاکھ والے مکان کا دعویٰ کرتی ہے کہ مجھے اپنی میراث میں ملنے والا حصہ چاہیے۔کیا اس لڑکی کا یہ دعویٰ درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میراث میں ہر وارث کا حق اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ہے، لہذا کسی بھی وارث کا حصہ کم کرنا ظلم ہے، اور دھوکہ دے کر اس کے حصے سے کم مالیت کی جائیداد اسےدینا ناجائز عمل ہے۔
کسی وارث کا ترکہ میں سے کچھ لے کر اپنے حصے کا باقی ترکہ ورثاء کو معاف کر دینے کو شریعت کی اصطلاح میں "تخارج" کہتے ہیں، اور اس کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں جن میں سے بعض جائز اور بعض شرائط پوری نہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوتی ہیں۔
مذکورہ مسئلہ میں لڑکی کو دھوکہ دے کر اسے کم مالیت کی جائیداد دینا تو ناجائز عمل تھا، تاہم اگر مذکورہ لڑکی نے باوجود علم ہونے کے، بغیر کسی دباؤ کے اسے قبول کر لیا تھا اور باقی میراث بقیہ ورثہ کوعطیہ کر دی تھی، تو پھر اب وہ اس کا مطالبہ نہیں کر سکتی، اس لیے کہ یہ تخارج تھا اور صحیح تھا۔ اور اگر بوقتِ قبول لڑکی کو دھوکے کا علم نہیں تھا اور بعد میں اسے پتہ چلا، یا دباؤ کے تحت اس نے بڑوں کا فیصلہ مانتے ہوئے اسے قبول کیا تھا، تو پھر اس کا مطالبہ کرنا جائز ہے،البتہ اس کواپنادعوی گواہوں کےذریعےثابت کرناہوگا،اورگواہ نہ ہونے کی صورت میں باقی ورثہ سےقسم لینے کا اس کو حق حاصل ہوگا، اس لیے کہ شرعی اعتبارسے مدعی پر اپنے دعوی پر گواہ پیش کرناضروری ہوتاہےاگراس کے پاس گواہ نہ ہو تو پھرمدعی علیہ سے قاضی مدعی کے مطالبہ پر قسم لیتاہے ،لہذا مسئولہ صورت میں مذکورہ لڑکی اپنی بات پر گواہ پیش کرےگی ورنہ پھر قسم کے ساتھ دیگرورثہ کا قول معتبرہوگا۔
حوالہ جات
وفی الدر المختار للحصفكي - (ج 5 / ص 203)
فصل في التخارج (أخرجت الورثة أحدهم عن) التركة وهي (عرض أو) هي (عقار بمال) أعطاه له (أو) أخرجوه (عن) تركة هي (ذهب بفضة) دفعوها له (أو) على العكس أو عن نقدين بهما (صح) في الكل صرفا للجنس بخلاف نسبه (قل) ما أعطوه (أو كثر) لكن بشرط التقابض فيما هو صرف (وفي) إخراجه عن (نقدين) وغيرها بأحد النقدين لا يصح (إلا أن يكون ما أعطى له أكثر من حصته من ذلك الجنس) تحرزا عن الربا، ولا بد من حضور النقدين عند الصلح وعلمه بقدر نصيبه.شرنبلالية وجلالية.ولو بعرض جاز مطلقا لعدم الربا، كذا لو أنكروا إرثه لانه حينئذ..... (وبطل الصلح إن أخرج أحد الورثة وفي التركة ديون بشرط أن تكون الديون لبقيتهم) لان تمليك الدين من غير من عليه الدين باطل.ثم ذكر لصحته حيلا فقال (وصح لو شرطوا إبراء الغرماء منه) أي من حصته لانه تمليك الدين ممن عليه فيسقط قدر نصيبه عن الغرماء (أو قضوا نصيب المصالح منه) أي الذين (تبرعا) منهم (وأحالهم بحصته أو أقرضوه قدر حصته منه مصالحوه عن غيرهم) بما يصلح بدلا (وأحالهم بالقرض على الغرماء) وقبلوا الحوالة، وهذه أحسن الحيل.
وفی البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي - (ج 15 / ص 225)
ولو كان بدل الصلح عرضا جاز مطلقا.
مجمع الضمانات (ص: 417)
دفع الوصي جميع تركة الميت إلى وارثه وأشهد الوارث على نفسه أنه قبض جميع تركة، والده ولم يبق من تركته قليل ولا كثير إلا استوفاه، ثم ادعى دارا في يد الوصي أنها من تركة، والدي ولم أقبضها قال في المنتقى أقبل بينته أقضي بها له أرأيت أن لو قال استوفيت جميع ما ترك والدي من دين على الناس وقبضت كله، ثم ادعى على رجل دينا لأبيه ألم أقبل بينته وأقضي له بالدين.
وفی المبسوط - (ج 19 / ص 443)
وأصل معرفة المدعي من المدعى عليه أن ينظر إلى المنكر منهما فهو المدعى عليه والآخر المدعي وهذا أهم ما يحتاج إلى معرفته في هذا الكتاب وما ذكره في الكتاب كلام صحيح فإن النبي صلى الله عليه وسلم جعل المدعى عليه المنكر بقوله صلى الله عليه وسلم { واليمين على من أنكر }.
وفی السنن الکبری للبیھقي:
عن ابن أبي ملیکۃ قال: کنت قاضیا لابن الزبیر علی الطائف، فذکر قصۃ المرأتین، قال: فکتبت إلی ابن عباسؓ، فکتب ابن عباس رضی اﷲ عنہما إن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال: لو یعطی الناس بدعواهم لادعی رجال أموال قوم ودماء ہم، ولکن البینۃ علی المدعي، والیمین علی من أنکر۔ (السنن الکبری للبیھقي، مکتبہ دارالفکر بیروت ۱۵/ ۳۹۳، رقم: ۲۱۸۰۵)
"الدر المختار " (5/ 465):
"(و) نصابها (لغيرها من الحقوق سواء كان) الحق (مالا أو غيره كنكاح وطلاق ووكالة ووصية واستهلال صبي) ولو (للإرث رجلان) إلا في حوادث صبيان المكتب فإنه يقبل فيها شهادة المعلم منفردا قهستاني عن التجنيس (أو رجل وامرأتان) ولا يفرق بينهما {فتذكر إحداهما الأخرى} [البقرة: 282] ولا تقبل شهادة أربع بلا رجل".
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
15/4/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


