03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراث اور والد کی چھوڑی ہوئی کمپنی میں چیف ایگزیکٹو کے استحقاق کا حکم
84986میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میرے والد محترم، صبغت اللہ بن عبد الغنی (رحمہما الله تعالیٰ) 11 مئی 2023 بروز جمعرات کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اُن کی وفات کے بعد ہمارے سامنے جائیداد اور کاروبار کی تقسیم کا معاملہ پیش آیا ہے۔

میرے والد کا ایک بھائی (میرا چچا)، عزت اللہ بن عبد الغنی، اور ایک کاروباری پارٹنر، عبد الصمد بن محمد عمر، نیو سلیم ٹورز اینڈ ٹریول (پرائیویٹ لمیٹڈ) میں شریک ہیں۔ اس کمپنی کے سرکاری دستاویزات کے مطابق، میرے والد اس کاروبار میں 50 فیصد حصے کے مالک اور چیف ایگزیکٹیو کے عہدے پر فائز تھے، جبکہ عزت اللہ 25 فیصد اور عبد الصمد 25 فیصد حصص کے ساتھ ڈائریکٹر کے عہدے پر تھے۔

میرے بہن بھائیوں اور والدہ سب نے مجھے عدالت میں اختیار نامہ (پاور آف اٹارنی) دیا ہے کہ میں ان کی طرف سے مختار ہوں ان تمام فیصلوں میں، اور چیف ایگزیکٹیو کے عہدے کے لیے بھی مجھ پر متفق ہیں۔والد صاحب کی وفات کے بعد ہم سب کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ:

  1. میراث میں جائیداد اور بینک بیلنس کا کیا حکم ہے؟وفات کے وقت درج ذیل ورثہ حیات تھے:بیویاں 2 ،بیٹے چاراوربیٹیاں تین ۔
  2. کاروبار میں والد صاحب کا 50 فیصد حصہ اور چیف ایگزیکٹیو کا عہدہ کس کو ملے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(١) جائیداد، بینک بیلنس، مذکورہ کاروبار کا 50 فیصد حصہ سمیت آپ کے والد نے بوقت وفات جو کچھ منقولہ اور غیرمنقولہ مال و دولت چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، جس سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات، قرض اور وصیت کی علی الترتیب ادائیگی کی جائے گی۔ اس کے بعد جو بھی ترکہ بچے گا، وہ مرحوم کے ورثہ میں تقسیم ہوگا۔ اگر مرحوم کے انتقال کے وقت صرف وہی لوگ ہوں جو سوال میں اور اس کے ساتھ لف مختار نامہ میں مذکور ہیں، تو مذکورہ حقوق کی ادائیگی کے بعد بچ جانے والے ترکہ میں سے مرحوم کی ہر بیوی کو %6.25، ہر بیٹے کو %15.909 اور ہر بیٹی کو %7.954 دیا  جائے گا۔

(۲)۔ کاروبار میں والد صاحب کا 50 فیصد حصہ بھی مرحوم کے مذکورہ بالا ورثہ میں مذکور نسبت کے ساتھ تقسیم ہوگا۔

چیف ایگزیکٹو کا عہدہ کمپنی کے کام کے لیے ایک انتظامی عہدہ ہے، جس کے لیے کوئی شرعی حکم مقرر نہیں ہے کہ کون اس عہدے پر فائز ہوگا۔ چونکہ تمام ورثا نے آپ کو اپنا اختیار دیا ہے، تو آپ ان کے 50فیصد حصے کی نمائندگی کریں گے اور شرکاء (جن کا حصہ 25-25 فیصد ہے)اپنے اپنے حصوں کی نمائندگی کریں گے۔سب کے باہمی اتفاق سے چیف ایگزیکٹو کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ شریعت اس پر کوئی پابندی عائد نہیں کرتی کہ کون اس عہدے پر فائز ہو سکتا ہے؛ یہ ورثا اور شرکاء کی باہمی رضا مندی پر منحصر ہوگا۔ لیکن اگر باہمی گفت و شنید سے اتفاق نہ ہو سکے اور شرکاء میں اختلاف ہو تو، اگر کمپنی کا کوئی معاہدہ اس حوالے سے ہو تو اس کے معاہدے کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ اور اگر اس حوالے سے کوئی معاہدہ نہ ہو تو شریک مالکان کے حصوں کی بنیاد پر ووٹنگ کروائی جائے۔ اگر اس سے بھی بات نہ بنے تو عدالت میں درخواست دائر کرکے اس کے ذریعے معاملہ حل کیا جائے۔ پاکستانی قانون کے مطابق، چیف ایگزیکٹو کی تقرری عام طور پر بورڈ آف ڈائریکٹرز یا شریک مالکان کی باہمی رضامندی سے ہوتی ہے۔ اگر اختلاف پیدا ہو جائے تو فیصلے کے لیے بورڈ میٹنگ بلائی جا سکتی ہے اور ووٹ کے ذریعے فیصلہ کیا جا سکتا ہے([1]

 


([1] ) کمپنیز ایکٹ 2017 (Companies Act, 2017)

حوالہ جات

قال اللہ تعالی :

يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ... وَلَهُنَّ الرُّبُعُ

مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْن   [النساء/11]

وفی البحر الرائق (8/ 567)

 والعصبة أربعة أصناف: عصبة بنفسه وهو جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده الأقرب.

الفتاوى الهندية (6/ 447)

التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف۔۔۔۔۔ ويكفن في مثل ما كان يلبس من الثياب الحلال حال حياته على قدر التركة من غير تقتير ولا تبذير، كذا في الاختيار شرح المختار ثم بالدين ۔۔۔۔۔ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن تجيز الورثة أكثر من الثلث ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث۔

وفی تکملہ فتح الملہم:

إن الأصل الأول في نظام المیراث الإسلامي: أن جمیع ماترک المیت من أملاکہ میراث للورثۃ ۔ (کتاب الفرائض، جمیع ماترک المیت میراث، مکتبۃ اشرفیۃ دیوبند ۲/)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

15/4/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب