| 85055 | طلاق کے احکام | ظہار )بیوی کو ماں یا بہن کے ساتھ تشبیہ دینے( کے احکام |
سوال
ایک دفعہ میں نے نکاح کے بارے میں ایک مفتی صاحب کو استفتاء بھیجا تھا ۔ جب اس کا جواب آیا تواس میں لکھا تھا کہ نکاح کو بچانے کے لیےآپ نے ایسا کرنا ہے۔پھر بغیر سمجھے میں ڈر گیا کہ یہ تو شاید نکاح ختم ہو گیا ہے ، مسئلہ کو صحیح سمجھا نہیں تھا،کافی پریشانی کے عالم میں تھا،پھر کمرے سے باہر نکلا اور بیوی کی فکرتھی ، میں نے ویسے کہا کہ اچھا ہے تھوڑی سمجھ آجائے گی بیوی کو۔ ابھی خیال آیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس جملہ کے ساتھ نکاح میں فرق آیا ہو۔ استفتاء جو بھیجا تھا وہ کچھ یوں ہے:
استفتاء : ایک دفعہ بیوی کے ساتھ موبائل پر بات چیت کر رہا تھا کہ اچانک بات کرتے کرتے دونوں غصے میں ہوگئے تو میں نے کہا کہ اس دفعہ چھٹی پرآجاؤں تو موبائل توڑوں گا ،اگر نہیں توڑا تو آپ میری ماں بن گئی ۔یہ جملہ کہتے وقت طلاق میرے ذہن میں نہیں تھی، ویسے بات کی پختگی کے لیے ایسا کہا تھا۔
یہ مسئلہ پھر دوبارہ بنوری ٹاؤن کو بھیجا تھا ان حضرات نے جواب میں کہا تھا کہ واقعی اگر طلاق کی نیت سے نہیں کہا تھا تو یہ عبث جملہ ہے موبائل کو نہیں توڑنا ہے۔لیکن اس مفتی صاحب کا جواب نیچے درج ہے :
جواب: نکاح کو بچانے کے لیے موبائل کو توڑنا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ الفاظ( اس دفعہ چھٹی پرآجاؤں تو موبائل توڑوں گا ،اگر نہیں توڑا تو آپ میری ماں بن گئی) کہنے سےنکاح میں کچھ فرق نہیں آیاکیونکہ ان الفاظ سےقسم منعقد نہیں ہوئی، چاہے طلاق ذہن میں تھی یا نہیں۔ آپ کا نکاح برقرار ہے ۔ موبائل توڑنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن ایسا کہنا اچھی بات نہیں، لہذا آئندہ ایسے الفاظ ادا کرنے سے گریز کریں۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ: فاليمين في القسمة الأولى ينقسم إلى قسمين: يمين بالله سبحانه وهو المسمى بالقسم في عرف اللغة والشرع، ويمين بغير الله تعالى وهذا قول عامة العلماء..... فأما الحلف بغير الله عز وجل فليس بيمين حقيقة، وإنما سمي بها مجازا.(بدائع الصنائع :3/ 2)
وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: قوله:( وشرعا: تشبيه المسلم إلخ) شمل التشبيه الصريح والضمني …….واحترز به عن نحو: "أنت أمي" بلا تشبيه، فإنه باطل وإن نوى. (رد المحتار:3/ 466)
وقال جمع من العلماء: لو قال لها: "أنت أمي" لا يكون مظاهرا ،وينبغي أن يكون مكروها ،ومثله أن يقول: يا ابنتي ،ويا أختي ،ونحوه .( الفتاوى الهندية:1/507)
وقال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ: وقيد بالتشبيه؛ لأنه لو خلا عنه بأن قال: أنت أمي لا يكون مظاهرا ،لكنه مكروه لقربه من التشبيه ،وقياسا على قوله :يا أخية ،المنهي عنه في حديث أبي داود المصرح بالكراهة ،ولولا التصريح بها لأمكن القول بالظهار، فعلم أنه لا بد في كونه ظهارا من التصريح بأداة التشبيه شرعا، ومثله:قوله: يا بنتي، يا أختي ،ونحوه. (البحر الرائق :4/ 107)
وقال الإمام ابن الھمام رحمہ اللہ: وقوله: (ولو قال: أنت علي مثل أمي) هنا ألفاظ: أنت أمي، مثل أمي،كأمي، حرام كظهر أمي: ففي "أنت أمي "لا يكون مظاهرا ، وينبغي أن يكون مكروها.
(فتح القدير :4/ 252)
سعد امین بن میر محمد اکبر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
16/ربیع الثانی1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سعد امین بن میر محمد اکبر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


