03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میٹا فورس ایپلیکیشن میں موجود گیمز کے ذریعے پیسے کمانے کا حکم
85201خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میٹافورس ایپلیکیشن میں کچھ گیمز ہوتے ہیں،ان گیمز سے پوائنٹ حاصل کرنے پر ارننگ ہوتی ہے،کیا یہ ارننگ جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

گیمز کے شرعی طور پر جائز ہونے کی شرائط  درج ذیل ہیں:

  1. وہ کھیل/گیم بذاتِ خود جائز ہو،اوراس میں غیر شرعی امور و غیر اخلاقی حرکات کا ارتکاب نہ ہو۔
  2. اس کھیل میں کوئی دینی یا دنیوی منفعت ہو، بے مقصد محض لہو لعب اور وقت گزاری کے لیے نہ ہو۔
  3. کھیل یا گیم  میں اتنا غلو نہ کیا جائے کہ اس  سے شرعی فرائض و حقوق میں کوتاہی یا غفلت پیدا ہو۔

رہی بات گیم کے ذریعے کمائی کی تو اس حوالے سے گیم کی تفصیلات حتمی طور پر واضح ہونے کے بعد شرعی حکم طے کیا جاسکتا ہے،اب تک اس حوالے سےجو معلومات حاصل ہوئی ہیں اس کی روشنی میں عام طور پر اس طرح کی ایپلیکیشن میں جو طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے ،اس کی تفصیل درج ذیل ہے:

ایپلیکیشن میں اکاؤنٹ بنانے کے بعد گیم   کا حصہ  بننے کے لیےکچھ پیسے دینے پڑتے ہیں،جس کے بعد ایپلیکیشن میں ایک بٹن نما نظر آنے لگتا ہے ،جسے کلک کرتے رہنا ہوتا ہے،جتنی مرتبہ کلک کریں گے اتنے پوائنٹس ملتے رہیں گے،پھر ان پوائنٹس کو کرپٹو  کوائنز میں تبدیل کرکے گیم کھیلنے والے کے اکاؤنٹ میں منتقل کردیا جاتا ہے،جسے بعد میں کسی  رائج پیپر کرنسی میں بھی تبدیل کیا جاسکتا  ہے۔ہماری تحقیق کے مطابق اس وقت اس گیم میں کھیلنے کی کوئی چیز حقیقتاً نہیں ہےاور نہ ہی اس کے موجودہ کوائینز کا کوئی عمومی استعمال ہے،بلکہ فقط جعلی قبولیت کے اظہار (Hype creation)کے لیے مذکورہ ایپ کے آرگنائزر خود ہی یا کسی دوسرے ذرائع سے یہ کوائنز  کسی رائج کرنسی میں کنورٹ کرکے دیتے ہیں،جبکہ شرعاً کسی چیز کے جائز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا جائز استعمال ہو،اس لیے کہ بالکل بے فائدہ چیز نہ تو خریدی جا سکتی ہے اور نہ ہی بیچی جا سکتی ہے،لہٰذا مذکورہ ایپ کے کوائنز یا ٹوکن کی خرید وفروخت جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

تکملة فتح الملهم، قبیل کتاب الرؤیا، (4/435) ط:  دارالعلوم کراتشی:

فالضابط في هذا . . . أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته، وليس له غرض صحيح  مفيد في المعاش ولا المعاد حرام او مكروه تحريماً . . . وما كان فيه غرض  ومصلحة دينية أو دنيوية، فإن ورد النهي  عنه من الكتاب أو السنة . . . كان حراماً أو مكروهاً تحريماً ... وأما مالم يرد فيه النهي عن الشارع وفيه فائدة و مصلحة للناس، فهو بالنظر الفقهي علي نوعين ، الأول ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه ومفاسده أغلب علي منافعه، وأنه من اشتغل به الهاه عن ذكر الله  وحده وعن الصلاة و المساجد التحق ذلك بالمنهي عنه؛ لاشتراك العلة فكان حراماً أو مكروهاً، والثاني ماليس كذالك  فهو أيضاً إن اشتغل به بنية التلهي والتلاعب فهومكروه، وإن اشتغل به لتحصيل تلك المنفعة وبنية استجلاب المصلحة فهو مباح،  بل قد ير تقي إلى درجة الاستحباب أو أعظم منه . . . و علي هذا الأصل فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها مالم يشتمل علي معصية أخري، وما لم يؤد الانهماك فيها إلى الاخلال بواجب الإنسان في دينه و دنياہ.

(الدر المختار و حاشية ابن عابدين، 6/4، ط: دار الفكر)

قال الحصكفي ؒ: "وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية."

علق عليه ابن عابدين ؒ: "(قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية، وشمل ما يقصد ولو لغيره لما سيأتي عن البحر من جواز استئجار الأرض مقيلا ومراحا، فإن مقصوده الاستئجار للزراعة مثلا، ويذكر ذلك حيلة للزومها إذا لم يمكن زرعها تأمل."

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

     ۲۴.ربیع الثانی ۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب