| 85444 | نکاح کا بیان | حرمت مصاہرت کے احکام |
سوال
سوال :کیا فرماتے ہے مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ جب میری عمر 11 سال تھی تو میرے خالو میرے سونے کی حالت میں شروع شروع میں تو قمیص کے اوپر سے لیکن بعد میں قمیص کے نیچے سے میرے پستان چھوتے تھے لیکن میری طرف سے کوئی رغبت نہیں تھی ، اب میری ان کے بیٹے سے شادی ہو گئی ہے ، تو کیا میر انکاح درست ہے یا فاسد ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں آپ کےخالو کے اس طرح کی نازیبا حرکات سے حرمت مصاہرت ثابت ہوگئی ہے۔ حرمت مصاہرت ثابت ہونے میں جانبین سے شہوت کا ہونا ضروری نہیں ہوتا ،بلکہ اگر ایک طرف سے بھی شہوت موجود ہوتو حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے ۔حرمت مصاہرت ثابت ہونے سے ایک دوسرے کے اصول و فروع ایک دوسرے پر حرام ہو جاتے ہیں۔ لہذا آپ کا ان کے بیٹے کے ساتھ نکاح کرنا درست نہیں ،لہذا آپ ان سے فورا علیحدگی اختیار کر لیں۔
حوالہ جات
و في الهندية : ثم المس إنما يوجب حرمة المصاهرة: إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب ، فإن كان صفيقا لا يجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك ، وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت كذا في الذخيرة :(الفتاوى الهندية (1/275)
قال الحصكفي رحمه الله تعالى : (و) حرم أيضا بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنا في الوطء الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة (الدر المختار:(3/32)
قال الشامي رحمه الله تعالى : قوله: (و) حرم أيضا بالصهرية (أصل مزنيته): قال في البحرة :أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع : حرمة للمرأة على أصول الزاني وفروعه نسيا ورضاعا، وحرمة أصولها و فروعها على الزاني نسيا ورضاعا كما في الوطء الحلال، ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها كما في الوطئ الحلال :(رد المحتار3/32)
قال الحصكفي رحمه الله تعالى:وتكفي الشهوة من أحدهما، ومراهق، ومجنون و سكران كبالغ بزازيه:(الدر المختار36/3)
ووجود الشهوة من احدهما يكفى وشرطه ان لا ينزل حتى لو أنزل عن المس أو النظر لم تثبت به حرمة المصاهرة .(موسوعة الفقه الإسلامي - الأوقاف المصرية : 24 / 73)
وفي الدر المختار:وبنت إحدى عشرة مشتهاة اتفاقا. زيلعي .
)قولہ: مشتهاة اتفاقا) بل في محرمات المنح: بنت تسع فصاعدا مشتهاة اتفاقا .سائحاني .
( رد المحتار: 3/ 567)
وفي الدر المختار: (لكل واحد منهما فسخه ولو بغير محضر عن صاحبه دخل بها أو لا) في الأصح خروجا عن المعصية. فلا ينافي وجوبه بل يجب على القاضي التفريق بينهما:(الدر المختار3/132)
فتاوی دارالعلوم دیوبند: 7/300
اگر لڑکی نو برس کی ہے یا زیادہ کی اور اس کو مس بالشہوت کیا تو اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہوگئی ہے ۔اور اگر لڑکی نو برس کی عمر سے کم ہے تو پھر حرمت مصاہرت ثابت نہیںہوئی۔
عبد الوحید طاہر
دار الافتاء جامعہ الرشید کراچی
13 جمادی الاولی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالوحید بن محمد طاہر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


