| 85467 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماءدین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر کسی ادارے کا مرتب شدہ دستور ہو ،جس کے تحت ادارہ تمام تر امور انجام دیتا آرہاہے،اس دستورکےتحت مجلس عاملہ وشوری ٰاپنے فرائض انجام دیتی آرہی ہے اوراس مجلس عاملہ وشوری ٰکودستور کے مطابق اساسی حیثیت حاصل ہے،جس میں تمام تر اختیارات مجلس عاملہ و شوری ٰکے پاس ہیں ،چونکہ دیگر اداروں کی طرح اس ادارے کا ایک اعزازی سرپرست ہے،لیکن اعزازی سرپرست کا تذکرہ دستور میں کہیں پر بھی موجود نہیں ہے ،کیاایسا اعزازی سرپرست مجلس عاملہ وشوری ٰکو تحلیل کرسکتاہے؟براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔بینواتوجروا.
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اعزازی سرپرست دو طرح کے ہوتے ہیں ،ایک وہ جو خود کسی تحریک یاادارے کابانی ،واقف یانگران ہوتاہے ،لیکن قانونی طور پر شوریٰ میں اپنانام پیش نہیں کرتااورسرپرستی کی حدتک محدود رہتاہے ،ایسے سرپرست کی بات عام طور پر مانی جاتی ہے،لہذا اگر شوریٰ کے اکثر حضرات اس کی بات کو مانتے ہوں تو ان کے فیصلے صرف اس قانونی نکتے کی وجہ سےرد نہیں کیے جاسکتے کہ وہ تو اعزازی سرپرست ہے۔
تاہم اگر کسی جگہ کسی شخص کو واقعۃ اعزازی سرپرست کے طور پر ہی عہدہ دیاگیا ہےجس کانہ عرفی اختیار ہے نہ قانونی تواسے شوری ٰکی تحلیل جیسے بڑے فیصلے کرنے کا اختیار نہ ہوگا۔
حوالہ جات
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ :قوله: (ليس للمشرف التصرف) بل له الحفظ ؛لأن التصرف في مال الوقف مفوض إلى المتولي خانية، والظاهر أن المراد بالحفظ حفظ مال الوقف عنده ،لكن قال في الفتح: وهذا يختلف بحسب العرف في معنى المشرف.(رد المحتار :458/4)
قال العلامۃبرھان الدین رحمہ اللہ :متول عليه مشرف ليس للمشرف أن يتصرف في الوقف؛ لأن المفوض إلى المشرف الحفظ لا غير.(المحیط البرھانی :215/6)
قال العلامۃ ابن الھمام رحمہ اللہ :وليس للمشرف أن يتصرف في مال الوقف بل وظيفته الحفظ لا غير، وهذا يختلف بحسب العرف في معنى المشرف.(فتح القدیر :241/6)
قال العلامۃابن نجیم رحمہ اللہ :قال في الخانية وقف له متول ومشرف ليس للمشرف أن يتصرف في مال الواقف لأن ذاك مفوض إلى المتولي والمشرف مأمور بالحفظ لا غير ،وهذا يختلف بحسب العرف في معنى المشرف كذا في فتح القدير.(البحر الرائق:263/5)
ارشاد احمدبن عبدالقیوم
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
جمادی الاولیٰ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ارشاد احمد بن عبدالقیوم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


