| 85489 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
شوہر نے اپنے شوق کی خاطر 4 یا 5 مرغیاں پالی تھیں۔ ان کا جو بھی چھوٹا موٹا کام ہوتا تھا، دونوں مل کر کر دیا کرتے تھے، جیسے پانی کا برتن دھونا، نیا پانی رکھنا، دانہ ڈالنا، مرغیوں کو کھولنا اور بند کرنا۔ ان کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہوتا تھا۔ایک دن شوہر اپنے کام کے لیے گھر سے نکلنے لگا تو بیوی نے بدتمیزی کی اور یہ بھی کہا کہ اب میں مرغیوں کا کوئی کام نہیں کروں گی۔ اس بدتمیزی کی وجہ سے شوہر اور بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا لیکن بچوں نے جھگڑا ختم کروا دیا۔ شوہر نے بیوی سے کہا کہ اپنے بھائی کو فون کرو اور بلاؤ، میں خود ان کو دکھاتا اور بتاتا ہوں کہ تم کیا کرتی ہو (کیونکہ بھائی نے کہا تھا کہ اگر بدتمیزی کرے تو مجھے بتانا)۔ لیکن بیوی نے کہا کہ میرا گھر ہے، میرا مسئلہ ہے، میں خود ٹھیک کروں گی، میں نہیں بلاؤں گی بھائی کو۔ پھر اپنی غلطی کی معافی بھی مانگی، لیکن شوہر کو یقین تھا کہ بیوی اپنے بھائی کو فون ضرور کرے گی اور آدھا سچ اور آدھا جھوٹ بتائے گی، کیونکہ دو تین بار پہلے بھی ایسا کر چکی ہے، جس سے جھگڑا بڑھ جائے گا۔ اس لیے شوہر نے کہا، اگر ایسا ہے تو آج کے بعد تم مرغیوں کا کوئی کام نہیں کرو گی اور اگر تم نے میری اجازت کے بغیر بھائیوں سے بات کی تو میری طرف سے تینوں طلاقیں ہوں گی۔یہاں طلاق بھائی سے بات کرنے کے حوالے سے تھی، جس کی اجازت کچھ ہی عرصے میں دے دی گئی تھی۔ اس کا گواہ شوہر کا بھتیجا بھی تھا، جو کہ بالغ اور حافظِ قرآن بھی ہے۔ وہ گواہی دیتا ہے کہ شوہر نے بھائی سے رابطہ کرنے پر طلاق کی بات کی تھی کیونکہ مرغیوں کو ایک یا دو دن میں شوہر نے آزاد ہی کر دیا تھا۔ مرغیاں باہر کچی گلی میں ہی رہتی تھیں یا کبھی کبھار گھر کی گلی میں بھی ہوتی تھیں لیکن نہ تو ان کو دانہ دینا ہوتا تھا اور نہ ہی کھولنا یا بند کرنا ہوتا تھا، اور ان دو کاموں کے علاوہ اور کوئی بھی ذمہ داری نہیں تھی۔چند دنوں کے بعد بیوی نے شوہر سے کہا کہ ایک غلطی ہو گئی ہے۔ گھر کے زینے پر ایک مرغی آ گئی تھی، اسے لکڑی سے نیچے بھگا دیا تھا۔ آپ مسئلہ معلوم کر لیں۔ اس پر شوہر نے بیوی سے کہا، دیکھو، پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے بھائی سے رابطہ کرنے پر طلاق کی شرط لگائی تھی اور دوسری بات یہ ہے کہ تم نے مرغی کو گھر سے باہر نکالا ہے، اس کا کوئی کام نہیں کیا ہے۔یہ بات بیوی نے شوہر کی بہن اور بھائی سے بھی کی تھی، جو کہ شوہر کو بھی معلوم ہوئی۔ اس پر شوہر نے بیوی پر بہت غصہ کیا اور کہا کہ اگر تمہیں میری بات کا یقین نہیں ہے تو میرے بھتیجے کو بلا کر اس سے پوچھ لو۔ جب اسے بلایا گیا تو اس نے بھی حلفیہ گواہی دی کہ شوہر نے بھائی سے رابطہ کرنے پر طلاق کی شرط رکھی تھی اور آج بھی اسی پر قائم ہے۔
مفتی صاحب، تمام واقعات کو اچھی طرح سے پڑھنے کے بعد گزارش ہے کہ میرے درج ذیل سوالوں کے جوابات تفصیل سے بیان کر دیں۔ کچھ غلط فہمی ہو گئی ہے، جس کا دور ہونا ضروری ہے تاکہ گھر نہ ٹوٹے۔
1۔کیا مرغی کو زینے سے غیر ارادی طور پر لکڑی سے بھگا دینا اور اگر کتے مرغیوں پر حملہ کر دیں اور لاشعوری طور پر ان کو بچانا مرغیوں کے روزمرہ کے کاموں میں شامل ہو گا، جس سے طلاق واقع ہو جائے، جبکہ شوہر نے طلاق کی بات بھائیوں سے بات کرنے کی شکل میں کرنے کا کہا ہو؟
2۔کیا بیوی اور اس کے بھائیوں کی طرف سے لیا گیا فتویٰ قابل قبول ہو گا، جبکہ شوہر سے حقائق بیان نہ کیے گئے ہوں یا فتویٰ میں حقائق درج ہی نہ کیے گئے ہوں؟
3۔بیوی کو کسی حد تک یقین ہے کہ شوہر نے یہ بات مرغیوں کے لیے کی ہے، جبکہ شوہر نے طلاق والی بات بھائیوں سے رابطہ رکھنے پر کی ہے، جس پر گواہ بھی موجود ہے۔ کیا شوہر جس نے طلاق دی ہے، اس کی بات کا اعتبار کیا جائے گا یا بیوی کی بات کا، جو کہ جھگڑے کی وجہ سے ذہنی دباؤ میں ہو؟
4۔اگر شوہر اپنی بیوی کو پابند کرنے کے لیے کہے کہ فلاں کام کیا تو تینوں طلاقیں ایک ساتھ ہوں گی، اور بیوی وہ کام دانستہ یا نادانستہ طور پر کر لیتی ہے، تو کیا ایک طلاق ہو گی یا تینوں ہو جائیں گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(1)۔مسئلہ مذکورہ صورت میں، طلاق کو خاوند کی اجازت کے بغیر بھائیوں سے بات کرنے پر معلق کرنے پرتو میاں بیوی کا اتفاق ہے۔ لہٰذا اگر بیوی خاوند کی اجازت کے بغیر اپنے بھائیوں سے بات کرے گی تو طلاق واقع ہوگی۔ البتہ میاں اور بیوی کے درمیان طلاق کو مرغیوں کے کام کرنے پر معلق کرنے کے بارے میں اختلاف ہے۔
عورت طلاق کے معلق ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے اور شوہر اس کا انکار کررہاہے، ایسی صورت میں اگر بیوی کے پاس اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے کے لیے گواہ موجود ہوں اور وہ اس کے حق میں گواہی دیں، تو بیوی کا قول معتبر ہوگا۔ لیکن اگر گواہ موجود نہ ہوں، تو شوہر سے طلاق کو مرغیوں کے کام کرنے پر معلق نہ کرنے پر قسم لی جائے گی۔ اگر وہ قسم اٹھا لے تو اس کا قول معتبر ہوگا، اور اگر انکار کر دے تو بیوی کا قول معتبر ہوگا۔
البتہ، گھر کے زینے سے لکڑی کے ذریعے مرغی کو بھگا دینا،اچانک حملہ آورکتےسےمرغیوں کوبچانا عرفاً مرغیوں کے کام کرنے میں شمار نہیں کیا جاتا۔ لہٰذا، اگر طلاق مرغیوں کے کام کرنے پر معلق بھی تھی، توتب بھی صرف اس قدر عمل سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔
(2)۔متعلقہ فتویٰ دیکھے بغیر ہم اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے، البتہ عمومی بات یہ ہے کہ اگر واقعۃً غلط حقائق بیان کرکے کوئی فتویٰ کسی مفتی سے لیا جائے، تو وہ معتبر نہیں ہوتا۔ اس طرح کرنے میں بالعموم غلطی سائل کی ہوتی ہے، نہ کہ مفتی کی، کیونکہ مفتی تو سوال کے مطابق جواب دیتا ہے۔ سوال کے صحیح یا غلط ہونے کی ذمہ داری سائل پر عائد ہوتی ہے۔
(3)۔ اس کا جواب نمبر ایک میں آ گیا ہے کہ اگر بیوی کے پاس اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیےدو گواہ موجود ہوں اور وہ اس کے حق میں گواہی دیں، تو بیوی کا قول معتبر ہوگا، ورنہ شوہر کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا۔
(4)۔ تینوں طلاق واقع ہو جائیں گی، اس لیے کہ تینوں ہی اس شرط پر معلق تھیں۔
حوالہ جات
وفی الدر المختار (۳۵۶/۳):
( فإن اختلفا في وجود الشرط ) ۔۔۔ ( فالقول له مع اليمين ) لإنكاره الطلاق۔۔۔ ( إلا إذا برهنت )۔وفی الرد تحتہ: قوله ( إلا إذا برهنت ) وكذا لو برهن غيرها.
وفی الشامیۃ (۳۵۶/۳):
( قوله في وجود الشرط ) أي أصلا أو تحققا كما في شرح المجمع : أي اختلفا في وجود أصل التعليق بالشرط أو في تحقق الشرط بعد التعليق وفي البزازية : ادعى الاستثناء أو الشرط فالقول له ۔۔۔ قوله ( قالقول له ).
وفی جامع الترمذی (ص۵۱۲):
(1257)- [1341] حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَغَيْرُهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ: " الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ ".
وفی الدرالمختارعلی صدر رد المحتار(ج:8،ص178):
(و) نصابها (لغيرها من الحقوق سواء كان) الحق (مالا أو غيره كنكاح وطلاق ووكالة ووصية واستهلال صبي) ولو (للإرث رجلان).
وفی الفتاوى الهندية (1 / 420):
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك والإضافة إلى سبب الملك كالتزوج كالإضافة إلى الملك.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
15/۴/۱۴۴٦ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


