03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نذر ماننے پر روزوں کو ترتیب سےرکھنا ضروری ہے یا نہیں؟ (کیا منت کے روزے لگاتار رکھنا ضروری ہیں؟)
86216قسم منت اور نذر کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

السلام علیکم !ایک مسئلہ کے بارے میں دریافت کرنا ہے کہ میں کرکٹ بہت کھیلتا تھا۔ ایک دن دوستوں سے کچھ ناراضگی کی وجہ سے میں نے یہ کہا کہ میں آج  کے بعد کرکٹ نہیں کھیلوں گا ، اگر میں نے دوبارہ کرکٹ کھیلی تو میں تیس دن کے روزے رکھوں گا۔ اس کے بعد میں نے دوبارہ کرکٹ کھیلی اور کھیلتا رہا۔ پھر میں نے بغیر ترتیب  کے چھ روزےرکھےیعنی کبھی ایک اور کبھی دو روزے رکھے۔ اب میرے ذمہ چوبیس روزے باقی ہیں۔ اب بقیہ روزوں کو کس طرح پورا کروں ؟ ترتیب کےساتھ یا بغیر ترتیب کے؟ یا تیس روزوں کو ترتیب کے ساتھ ہی رکھنا ضروری تھا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نذر کے بارے میں اصول یہ ہے کہ اگر   کسی ایسی  شرط پر نذر کو معلق کیا  جائے جس سے مقصود اس شرط کا پایا جانا ہو تو اگر وہ کام ہوجائے تو اس پر وہی چیز واجب ہوگی جس کی اس نے نذر مانی ہے۔لیکن اگر کسی ایسی شرط  کے ساتھ نذر کو معلق کیا  جائے جس سے بچنا مقصود ہو تو  اگر وہ  شرط پائی جائے تو اس صورت میں اختیارہے چاہے نذر پوری  کرے یا قسم کا کفارہ ادا کرے۔

       صورت مسئولہ میں چونکہ کرکٹ چھوڑنا   ہی مقصود تھا ،اس لیے  آپ  کو اختیار ہے ،چاہے تو نذر کے تیس روزے پورے کریں اور چاہے تو قسم کا کفارہ ادا کریں۔

       قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلا دے یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقۃ الفطر کی مقدار  نصف صاع یعنی سواکلو گندم یا اس کی قیمت دے دے،  یا دس فقیروں میں سے ہر ایک کو ایک  ایک جوڑا کپڑا دے ۔ اور اگر کھانا کھلانے یا کپڑا دینے پر قدرت نہ ہو تو مسلسل  تین روزے رکھے ۔  

       البتہ نذر کے روزے رکھنے کی صورت میں اگر آپ نے ترتیب کے ساتھ تیس  روزے رکھنے کی نیت نہیں کی تھی تو پھر   آپ بغیر ترتیب کے بھی روزے رکھ سکتے ہیں اور جو چھ روزے آپ نے رکھ لیے وہ ادا ہوگئے،اب مزید چوبیس روزے رکھنے کا اہتمام کریں۔

حوالہ جات

        وقال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی: (ثم إن) المعلق فيه تفصيل :فإن (‌علقه ‌بشرط يريده كأن قدم غائبي) أو شفي مريضي (يوفي) وجوبا (إن وجد) الشرط،(و) إن علقه (بما لم يرده كإن زنيت بفلانة) مثلا فحنث (وفى) بنذره (أو كفر) ليمينه (على المذهب)؛لأنه نذر بظاهره يمين بمعناه فيخير ضرورة.

       وقال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی:قوله:(لأنه نذر بظاهره إلخ) لأنه قصد به المنع عن إيجاد الشرط فيميل إلى أي الجهتين شاء بخلاف ما إذا علق بشرط يريد ثبوته لأن معنى اليمين وهو قصد المنع غير موجود فيه لأن قصده إظهار الرغبة فيما جعل شرطا.(رد المحتار :3/ 739)

        وقال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی:(وكفارته) ... (تحرير رقبة أو إطعام عشرة مساكين)كما مر في الظهار(أو كسوتهم بما) يصلح للأوساط وينتفع به فوق ثلاثة أشهر،(وإن عجز عنها) كلها (وقت الأداء) عندنا...(صام ثلاثة أيام ولاء).( رد المحتار :3/ 725)

          وقال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی:وكذا الحكم لو نكر السنة،أو شرط التتابع فيفطرها لكنه يقضيها هنا متتابعة، ويعيد لو أفطر يوما بخلاف المعينة، ‌ولو ‌لم ‌يشترط ‌التتابع يقضي خمسة وثلاثين، ولا يجزيه صوم الخمسة في هذه الصورة.(رد المحتار:2/ 434)

        وقال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی:قوله:( متتابعا) أفاد لزوم التتابع إن صرح به وكذا إذا نواه، أما إذا لم يذكره ولم ينوه ‌إن ‌شاء ‌تابع وإن شاء فرق، وهذا في المطلق أما صوم شهر بعينه أو أيام  بعينها فيلزمه التتابع وإن لم يذكره .(رد المحتار:2/ 435)

        وقال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی: وأما إذا كان لشهر غير معين فإن شاء تابعه، وإن شاء فرقه إلا إذا ‌شرط ‌التتابع فيلزمه.(رد المحتار:3/ 741)

جنید صلاح الدین

دار الافتاءجامعۃ الرشید،کراچی

28/جمادی الثانیہ6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جنید صلاح الدین ولد صلاح الدین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب