03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فرض نماز کھڑی ہونے کی صورت میں سنتیں پڑھنا
86099نماز کا بیانسنتوں او رنوافل کا بیان

سوال

کیا جب فرض نمازکھڑی  ہو تو اس  دوران سنتیں پڑھی جا سکتی ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

فجر کےعلاوہ دوسری کوئی بھی فرض نماز شروع ہوچکی ہو تو سنت شروع کرنا درست نہیں ہے، اس لیے کہ آں حضرت ﷺ کا ارشاد ہے :"جب جماعت شروع ہوجائے تو سوائے فرض نماز کے کوئی اور نماز نہ پڑھی جائے "۔  ہاں اگر سنتیں شروع کردی ہوں، پھر فرض نماز شروع ہوجائے تو دو  رکعت مکمل کرکے سلا م پھیردے اور اگر چار رکعت والی سنت پڑھ رہا ہو اور تیسری رکعت شروع کردی تو جلدی سے چار مکمل کرکے جماعت میں شامل ہوجائے۔

البتہ فجر کی سنتوں کی چوں کہ  خصوصی تاکید آئی ہے ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد  فرمایا ہے : "فجر کی سنت دو گانہ کو نہ چھوڑو ، اگرچہ  گھوڑے تمہیں روند ڈالیں"۔ اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ  "فجر کی دو رکعت دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے ان سب سے بہتر ہے"۔

اسی لیے متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ انہوں نے فجر کی اقامت ہونے کے بعد بھی سنتِ فجر کو ادا فرمایا ہے، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے جماعتِ فجر شروع ہونے کے بعد یہ دو رکعتیں ادا کی ہیں ،حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی جماعت شروع ہونے کے بعد سنتِ فجر ادا کرنا ثابت ہے۔  حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہم سے بھی اسی طرح ثابت ہے۔ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ارشادات اور ان کا عمل در اصل سنتِ رسول کی تشریح و توضیح کا درجہ رکھتے ہیں ؛ کیوں کہ صحابہ کے بارے میں یہ بات ناقابلِ تصور ہے کہ وہ سنتِ رسول کی خلاف ورزی کریں، اسی پس منظر میں ائمہ اربعہ میں سے امام ابوحنیفہ  اور امام مالک رحمہما اللہ کے نزدیک فجر کی جماعت کھڑی ہونے کے بعد بھی یہ فجر کی دو سنتیں ادا کی جائیں گی ۔

حنفیہ کے مسلک کی تفصیل یہ ہے کہ اگر فجر کی سنتوں کی ادائیگی کے بعد امام کے ساتھ فرض نماز کا قعدہ اخیرہ مل سکتا ہے تو  بھی سنت نہ چھوڑے۔ اگر اس کی بھی  امید نہ ہو تو پھر سنت اس وقت نہ پڑھے .

حوالہ جات

(صحيح مسلم ۔1/ 493):

''عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة''

شرح مشكل الآثار (320,321/10):

'' عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ركعتا الفجر خير من الدنيا وما فيها۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا تتركوا ركعتي الفجر وإن طردتكم الخيل۔

شرح مشكل الآثار (10/ 322):

حدثنا مسعر بن كدام، عن الوليد بن أبي مالك، عن أبي عبد الله، قال: حدثنا أبو الدرداء، قال: " ‌إني ‌لأجيء ‌إلى ‌القوم وهم في الصلاة صلاة الفجر، فأصلي ركعتين، ثم أضطم إلى الصفوف " وذلك عندنا والله أعلم على ضرورة دعته إلى ذلك، لا على اختيار منه له، ولا على قصد قصد إليه، وهو يقدر على ضده، وهكذا ينبغي أن يمتثل في ركعتي الفجر في المكان الذي يصليان فيه ولا يتجاوز فيهما ما قد رويناه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم مما صححنا عليه هذه الآثار ، والله عز وجل نسأله التوفيق۔

البناية شرح الهداية (2/ 569):

ومن انتهى إلى الإمام في صلاة الفجر وهو لم يصل ركعتي الفجر) ش: أي والحال أن هذا المنتهي لم يكن صلى سنة الفجر فلا يخلو حاله عن أمرين الأول: م: (إن خشي أن تفوته ركعة) ش: من صلاة الفجر لاشتغاله بالسنة م: (ويدرك الأخرى) أي الركعة الأخرى وهي الثانية، وتخصيص الركعة لما أن النبي عليه السلام جعل أداء الركعة مع الإمام عند العذر بمنزلة أداء الكل في إدراك ثواب الجمعة حتى تتم صلاة الخوف ركعة ركعة م: (يصلي ركعتي الفجر عند باب المسجد ثم يدخل) ش: أي يدخل المسجد م: (لأنه أمكنه الجمع بين الفضيلتين) ش: فضيلة السنة وفضيلة الجماعة، وإنما قيد عند باب المسجد لأنه لو صلاهما في المسجد كان مشتغلا فيه مع اشتغال الإمام بالفرض وأنه مكروه لقوله عليه السلام :‌"إذا ‌أقيمت ‌الصلاة ‌فلا ‌صلاة ‌إلا ‌المكتوب" وخصت سنة الفجر بقوله عليه السلام"لا تدعوهما وإن طردتكم الخيل"، رواه أبو داود.

حضرت خُبیب بن حضرت عیسٰی

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

28 /جمادی الثانیہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب