| 85274 | نماز کا بیان | مسافر کی نماز کابیان |
سوال
مفتی صاحب! میرا سال پرتبلیغ کےلیے جانےکا ارادہ ہے، یہ ایک مسئلہ ہے، جس کےبارے میں ہمارےتبلیغ کےساتھی بہت زیادہ کنفیوژن میں رہتے ہیں، کئی علماءکرام سےمیں نےپوچھاہے، لیکن کسی سےکوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا، مسئلہ یہ ہےکہ تشکیل کےدوران کہاں ہم قصر کریں گےاور کہاں پوری نماز پڑھیں گے، اس کی اگر تفصیل کےساتھ تمام صورتیں بیان کریں تو بڑی مہربانی ہوگی۔ تشکیل میری اپنےعلاقےسےنہیں ہوگی، بلکہ رائیونڈجاکروہاں کےبڑےحضرات ہماری تشکیل کریں گے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب تشکیل اپنےعلاقےسے باہراڑتالیس میل سوا ستتر کلو میٹریا ا س سے زیادہ دور ہو، خواہ رائیونڈسےہو یا اپنے علاقےسےتومندرجہ ذیل صورتوں میں قصرکرنالازم ہے:
1۔تشکیل کسی شہرمیں ہواور شہرہی کی مساجدمیں پندرہ دن سےکم گزارنےکی نیت ہو۔
2۔کسی متعین گاؤں یا متعین قصبہ میں ہواوروہاں کےمساجدمیں پندرہ دن سےکم گزارنےکی نیت ہو۔
3۔شہراوردیہات دونوں میں تشکیل ہو، یعنی کچھ دن دیہات میں اورکچھ شہرمیں گزارنےہوں، لیکن دونوں میں سےکسی میں بھی پندرہ دن یااس سےزیادہ دن رہنےکی نیت نہ ہو۔
4۔ مختلف شہروں یا مختلف دیہاتوں میں تشکیل، یعنی کچھ دن ایک دیہات یاایک شہر میں اورکچھ کسی دوسرےدیہات یادوسرےشہر میں گزارنےہوں، لیکن دونوں میں سےکسی میں بھی پندرہ دن یااس سےزیادہ دن رہنےکی نیت نہ ہو۔
ان کےعلاوہ درج ذیل صورتوں میں بہرحال پوری نماز پڑھناضروری ہے:
1۔تشکیل کسی شہرمیں ہواور شہرہی کےمساجدمیں پندرہ یا زیادہ دن گزارنےکی نیت ہو۔
2۔ کسی متعین گاؤں یا قصبہ میں تشکیل ہواوروہاں کی مساجدمیں پندرہ یا زیادہ دن گزارنےکی نیت ہو۔
3۔ کسی ایک دیہات میں ہواوروہاں کی مساجدمیں پندرہ دن یازیادہ رہنےکی نیت ہو۔
اگروہاں کےمقیم امام کی اقتداءمیں نماز پڑھنی ہوتوپھرقصر والی تمام صورتوں میں بھی پوری نماز پڑھنا لازم ہے۔
نوٹ: اگرکہیں ایسی جگہ تشکیل ہوجائےجہاں مذکورہ بالاصورتوں کوعملی طورپرسمجھنےمیں دقت آرہی ہوتوبہتریہ ہےکہ اس علاقے کےکسی معتمد مفتی سےدرپیش مسئلہ پوچھ لیں۔
حوالہ جات
قال العلامة أبو الحسن المرغيناني رحمه الله تعالى: (ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر، وإن نوى أقل من ذلك قصر)؛ لأنه لا بد من اعتبار مدة.(الهداية: 1/ 80)
وقال العلامة الكاساني رحمه الله تعالى: (وأما) اتحاد المكان: فالشرط نية مدة الإقامة في مكان واحد؛ لأن الإقامة قرار والانتقال يضاده، ولا بد من الانتقال في مكانين، وإذا عرف هذا فنقول: إذا نوى المسافر الإقامة خمسة عشر يوما في موضعين، فإن كان مصرا واحدا أو قرية واحدة صار مقيما؛ لأنهما متحدان حكما، ألا يرى أنه لو خرج إليه مسافرا لم يقصر فقد وجد الشرط وهو نية كمال مدة الإقامة في مكان واحد فصار مقيما، وإن كانا مصرين نحو مكة ومنى أو الكوفة والحيرة أو قريتين، أو أحدهما مصر والآخر قرية لا يصير مقيما؛ لأنهما مكانان متباينان حقيقة وحكما، ألا ترى أنه لو خرج إليه المسافر يقصر فلم يوجد الشرط "وهو نية الإقامة في موضع واحد خمسة عشر يوما" فلغت نيته. (بدائع الصنائع: 1/ 98)
وقال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى: (صلى الفرض الرباعي ركعتين) وجوبا لقول ابن عباس: «إن الله فرض على لسان نبيكم صلاة المقيم أربعاوالمسافر ركعتين» . (الدر المختار: 2/ 123)
وقال رحمه الله تعالى أيضًا: وأما اقتداء المسافر بالمقيم فيصح في الوقت ويتم. (الدر المختار: 2/ 130)
راز محمد
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
2 جمادی الاولی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رازمحمدولداخترمحمد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


