| 85559 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | دلال اور ایجنٹ کے احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرا دوست زید لوگوں کو رینٹ پر گاڑیاں دیتا ہے، میں نے بھی اس کو ایک گاڑی کچھ سال پہلے متعین کرایہ مثلاً 15 سو فی دن کے حساب سے دی، جو اس نے میری اجازت سے آگے 18 سو کے حساب سے دےدی (درمیان میں 300 روپے زید کا کمیشن تھا) ۔ ایک عرصے تک اس طرح معاملہ چلتا رہا، بعد میں میں نے یہ گاڑی بیچ دی۔ کچھ عرصہ بعد میں نے زید کے مشورے سے ایک اور گاڑی خریدی، اس بار زید نے مجھے ڈائریکٹ ایک آدمی عمر سے ملوایا، جس کو زید اپنی گاڑیاں بھی کرائے پر دیتا ہے،عمر نے مجھ سے یہ گاڑی کرایہ پر لے لی (عمر مختلف لوگوں سے گاڑیاں کرائے پر لیتا ہے اور پھر آگے زیادہ کرائے پر چلواتا ہے، اس لیے اس کے پاس مختلف لوگوں کی گاڑیاں موجود ہیں) یہ معاملہ زید کی اجازت سے میرا اور عمر کا ڈائریکٹ تھا اور اس میں عمر کا کوئی کمیشن نہیں تھا۔ تاہم یہ گاڑی ٹھیک نہیں تھی، اس لیے میں نے اسےبیچ دی۔ اس کے بعد میں نے ابھی ایک اور گاڑی خریدی ہے، اس بار میں نے براہ راست عمر سے خود ہی رابطہ کرلیا اور اس کو اپنی گاڑی کرایہ پر دےدی، البتہ زید کو میں نے اطلاع ضرور دی کہ میں نے گاڑی عمر کو دی ہے، زید نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ یہ گاڑی مجھے دے دو، لیکن میں نے منع کردیا تو زید خاموش ہوگیا۔ اس کے کچھ عرصےبعد میری ایک دوسرے موضوع پر زید سے تلخی ہوئی تو زید نے کہا کہ آپ نے میرے کاروبار میں مداخلت کیوں کی اور میرے بندے کو براہ راست گاڑی کیوں دی ہے، لہذا آپ اس سے گاڑی واپس لواور اگر دینی ہے تو میرے توسط سے دو تاکہ میں آپ سے اس کا کمیشن بھی رکھ سکوں اور اگر مجھے گاڑی نہیں دینی ہے تو میرے بندے کو بھی نہیں دو؛ کیونکہ اس کا تعلق آپ سے میری وجہ سے بنا ہے۔
مذکورہ صورتحال میں دریافت طلب امور یہ ہیں:
١۔کیا میرے براہ راست عمر کو گاڑی دینے پر زید کا ناراض ہونا درست ہے؟
2۔ کیا زید کے اعتراض اور مطالبے کی وجہ سے مجھ پر عمر سے گاڑی واپس لینا ضروری ہے، جبکہ عمر اور بھی بیسیوں لوگوں سے اس طرح کے معاملات کرتا ہے اور اس کو کوئی اعتراض نہیں ہے ؟
3۔ کیا زید کا اپنے واسطے سے گاڑی دینے کا اورکمیشن لینےکا مطالبہ کرنا درست ہے؟
واضح رہے کہ اس ساری صورتحال میں میرے دوست زید کا کوئی نقصان نہیں ہے اور نہ ہی میری وجہ سے عمر نے زید کو کوئی نقصان پہنچایا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب آپ نےنئی گاڑی عمر کوکرایہ پردےدی اس معاملےمیں زیدنےکوئی کردارادانہیں کیا، لہذازیدکااس میں کمیشن کاحق نہیں بنتا، آپ عمرکےساتھ گاڑی کےاجارےکامعاملہ جاری رکھ سکتےہیں۔ اسی طرح اس سےپہلےزیدنےآپ کےساتھ جوتعاون کیاتھا، اُس کی بنیادپربھی اِس معاملےمیں اس کاکمیشن لینےکاحق نہیں بنتا۔ البتہ اگرآپ تعلق کوبرقراررکھنےکےلیےاوراس لیےکہ اس نےاس سےپہلےآپ کےساتھ تعاون کیاتھاتوآپ بھی اس کےساتھ تعاون کرسکتےہیں اور آپ کواس پرثواب بھی ملےگا۔
سوال میں مذکورآپ کایہ کہناکہ عمر مختلف لوگوں سے گاڑیاں کرائے پر لیتا ہے اور پھر آگے زیادہ کرائے پر چلواتا ہےتو عمر کااس طرح کرایہ بڑھاکرگاڑی آگے لوگوں کوکرائےپر دینا جائز نہیں، صرف ایک بار یہ معاملہ کی کمیشن لےسکتاہے، ہرماہ نہیں۔ ہاں اگر وہ گاڑی میں کوئی قابل ذکر کام کرواتاہے توپھر آگےزیادہ کرائے پر دینا جائز ہے، ورنہ نہیں۔
حوالہ جات
قال العلامة أبو الحسن المرغيناني رحمه الله تعالى: قال: الأجرة لا تجب بالعقد وتستحق بأحد معان ثلاثة: إما بشرط التعجيل، أو بالتعجيل من غير شرط، أو باستيفاء المعقود عليه. )الهداية: 3/ 231)
وقال العلامة السرخسي رحمه الله تعالى: وهل جزاء الإحسان إلا الإحسان، ولأنه منعم عليه، وقال صلى الله عليه وسلم: «من أُزِلَّت إليه نعمة فليشكرها» وذلك بالتعويض،وأدنى درجات الأمر الندب.(المبسوط: 11/10)
وقال العلامة المرغيناني رحمه الله تعالى: قال: ويجوز استئجار الدواب للركوب والحمل؛ لأنه منفعة معلومة معهودة، فإن أطلق الركوب جاز له أن يركب من شاء عملا بالإطلاق. ولكن إذا ركب بنفسه أو أركب واحدا ليس له أن يركب غيره؛ لأنه تعين مرادا من الأصل، والناس يتفاوتون في الركوب فصار كأنه نص على ركوبه. (الهداية: 3/ 234)
وقال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى: (وله السكنى بنفسه وإسكان غيره بإجارة وغيرها) وكذا كل ما لا يختلف بالمستعمل يبطل التقييد؛ لأنه غير مفيد، بخلاف ما يختلف به كما سيجيء، ولو آجر بأكثر تصدق بالفضل إلا في مسألتين: إذا آجرها بخلاف الجنس أو أصلح فيها شيئا. (الدر المختار: 6/ 28)
راز محمد
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
15جمادی الاولی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رازمحمدولداخترمحمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


