| 85628 | خرید و فروخت اور دیگر معاملات میں پابندی لگانے کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علمائےکرام اس مسئلےکےبارےمیں کہ زیدکےپاس زمین ہے، عمرونےاسےدس لاکھ کی قیمت کاسولرسسٹم لگوایااوراس سےکہاکہ ایک تیسرےآدمی کومزدوررکھیں گے، جو ہمارےلیےاس زمین میں کاشتکاری کا کام کرےگا، باقی تخم اورکھاد وغیرہ کا خرچہ ہم دونوں کےذمےہوگا۔ پھرجب پیداوار حاصل ہوجائےتو اس میں سے آدھا حصہ میرا ہوگا اورآدھاآپ کاہوگا، لیکن آپ اپنا حصہ بھی سولرمیں مجھے لگائےہوئےدس لاکھ رقم کےعوض میں دیں گے، جب مجھےاپنادس لاکھ پوراکروائیں گے، اس کےبعدسولرآپ کاہوجائےگا، پھر آپ جانےاورآپ کا کاروبارجانے۔
1۔ کیا مزارعت کی مذکورہ صورت جائز ہےیانہیں؟ اگر ناجائز ہے تواس کی جائز صورت کیا بنے گی؟
2۔ دوسراسوال یہ ہےکہ کاشت کارحضرات زمین کاشت کرنےکےبعدکبھی کبھارفصل کی بہتری کی غرض سےایک دودفعہ کسی مزدورسےزمین کونرم کرواتےہیں یافصل کوکھاددیتےہیں توان کاخرچہ مالکِ زمین اورکاشتکارمیں سےکس کےذمے ہوگا؟ اسی طرح کبھی کبھارپانی نکالنےکی مشین،شمسی یاانجن وغیرہ خراب ہوجاتےہیں، جس پرکافی رقم خرچ کرنی پڑتی ہےتواس کاخرچہ کس کےذمےہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔ زیداورعمرو کامذکورہ طریقے سے کاروبارکرناایک ہی عقدمیں دومعاملات جمع کرنا ہے، یعنی ایک طرف تو وہ زمین اورسولرکوبنیادبناکرشرکت کامعاملہ کرناچاہتےہیں، جبکہ دوسری طرف ایک شریک سولرکواپنےشریک پربیچنےکی شرط لگاتاہے،جوناجائزہے، لہذااس سےاحترازکرناضروری ہے۔ البتہ اس کی جائز صورت یہ بن سکتی ہےکہ سولرکامالک دوسرےسےزمین کرایہ پرلےلےتیسرےآدمی کومزدوررکھ کراس سےکام کروائےیااس کےساتھ مستقل عقدمزارعت کرے۔ اگریہ صورت بھی ممکن نہ ہوتوکسی مستندمفتی سےمشورہ کرکےآپس میں باقاعدہ مزارعت یاشرکت یا مضاربت وغیرہ کا عقدکریں اوران کےاصولوں کالحاظ رکھ کرمذکورہ زمین پرکاروبارشروع کریں۔
2۔فصل پرخرچ ہونےوالےتمام اخراجات،مثلًا:کھاد،گوبروغیرہ کاخرچہ یافصل سےگھاس نکالنےاورزمین کونرم کروانےکاخرچہ، یہ دونوں قسم کےاخراجات بقدرِحصص مالک ِزمین اورکاشتکاردونوں کےذمےہوتے ہیں، تاہم اگرکسی عرف میں زمین کونرم کرواناکاشتکارکےذمےہوتو اس کی بھی گنجائش ہےیااگربیج ڈالناکاشتکارکی طرف سےہوتو اس صورت میں اگرکھاداس کےذمےلگائی جائےتویہ بھی جائزہے۔ باقی پانی نکانےکاآلہ(سولرانرجی سسٹم یاانجن وغیرہ) جب خراب ہوجائےتواس پرجوخرچہ آئےگا تووہ کاشتکار کےذمےہے، البتہ اگر کسی علاقےکےعرف میں مذکورہ خرچہ دونوں کےذمے ہوتویہ بھی جائزہے۔
حوالہ جات
أخرج الإمام ابن حبان في "صحيحه"من حديث ابن مسعود رضي الله عنه قال: صفقتان في صفقة ربا. (2/ 296، الحديث رقم 1355)
وأخرج الإمام البخاري في "صحيحه" من حديث رافع بن خديج قال: حدثني عماي : «أنهم كانوا يكرون الأرض على عهد النبي صلى الله عليه وسلم بما ينبت على الأربعاء، أو شيء يستثنيه صاحب الأرض، فنهى النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك»، فقلت لرافع: فكيف هي بالدينار والدرهم؟ فقال رافع: ليس بها بأس بالدينار والدرهم وقال الليث: وكان الذي نهي عن ذلك، ما لو نظر فيه ذوو الفهم بالحلال والحرام لم يجيزوه، لما فيه من المخاطرة. (3/ 108، الحديث رقم: 2346 - 2347)
وقال العلامة ابن حجرالعسقلاني رحمه الله تعالى:وحديث الباب دال على ما ذهب إليه الجمهور، وقد أطلق ابن المنذر أن الصحابة أجمعوا على جواز كراء الأرض بالذهب والفضة، ونقل ابن بطال اتفاق فقهاء الأمصار عليه. (فتح الباري: 5/ 25 )
وقال العلامة الكاساني رحمه الله تعالى: (ومنها): أن كل ما كان من باب النفقة على الزرع من السرقين وقلع الحشاوة، ونحو ذلك فعليهما على قدر حقهما.( بدائع الصنائع: 6/ 182)
وقال جمع من العلماءرحمهم الله تعالى: إذا شرط رب الأرض والبذر من المزارع أن يسرقنها قيل: تفسد المزارعة عند المتقدمين ولا تفسد عند المتأخرين، والفتوى على قول المتأخرين، قال الخجندي وعزيز بن أبي سعيد: كذا في جواهر الأخلاطي. (الفتاوى الهندية: 5/ 244)
وقال العلامة الكاساني رحمه الله تعالى: والأصل أن كل عمل يحتاج إليه الزرع قبل تناهيه وإدراكه وجفافه مما يرجع إلى إصلاحه من السقي والحفظ وقلع الحشاوة وحفر الأنهار وتسوية المسناة ونحوها فعلى المزارع؛ لأن ما هو المقصود من الزرع، وهو النماء لا يحصل بدونه عادة، فكان من توابع المعقود عليه، فكان من عمل المزارعة فيكون على المزارع.(بدائع الصنائع: 6/ 180)
وقال العلامة السرخسي رحمه الله تعالى: وروى بشر وابن سماعة عن أبي يوسف أن العقد لا يفسد بهذا الشرط، ولكن إن لم يشترطا فهو عليهما، وإن شرطا فهو على المزارع؛ لأن العرف الظاهر أن المزارع يباشر هذه الأعمال، فهذا شرط يوافق المتعارف فلا يفسد به العقد ولكن بمطلق العقد لا يستحق عليه إلا ما يقتضيه العقد، فإن شرط ذلك عليه صار مستحقا بالعرف، كما لو اشترى حطبا في المصر بشرط أن يوفيه في منزله. وفي المعاملة قال: هذا الشرط يفسد المعاملة؛ لأنه ليس فيه عرف ظاهر وكان نصر بن يحيى ومحمد بن سلمة - رحمهما الله - يقولان: هذا كله على العامل شرط عليه أو لم يشرط؛ لأن فيه عرفا ظاهرا يتناوله والمعروف كالمشروط فقد جوزنا بعض العقود للعرف. (المبسوط: 23/ 36)
وقال العلامة ابن قاسم الحنبلي رحمه الله تعالى: ويلزم العامل كل ما فيه صلاح الثمرة. وصاحب الملك ما يصلحه. والمرجع إلى العرف في هذه الأشياء. (الإحكام شرح أصول الأحكام: 3/ 266)
راز محمدبن اخترمحمد
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
29 جمادی الاولی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رازمحمدولداخترمحمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


