| 85711 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم پانچ ساتھی ہر مہینےکو فیملی پیکج لگاتے ہیں،کبھی ایسا ہوتاہے کہ ہم میں سے کوئی ساتھی کسی دوسرےشخص، جو شرکاء کےعلاوہ ہےکو Hotspot کھلواتا ہےاور وہ اس پیکج سے نیٹ استعمال کرتاہےتو کیا اس طرح شرکاء سے صریح اجازت لیےبغیر کسی کو Hotspotکھلواکرنیٹ شیئرکروانا جائز ہے؟ یا Hotspot کھولے بغیر اگرکوئی اپناموبائل کسی کو دےدےاوروہ اس میں مذکورہ پیکج سےاستفادہ کرےتو اس کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں پیکج میں شریک تمام افراد کی صراحۃً یادلالۃًاجازت کےبغیر کسی شریک کادوسرےشحص کواپناموبائل دےکر یا Hotspotکھلواکر نیٹ استعمال کروانا جائز نہیں۔ بہت معمولی استعمال ہوتوعرفًا اس کی اجازت ہوتی ہے۔ بہتر ہے کہ اس حولے سےکوئی اصول طےکرلیاجائے، مثلًا: 100ایم بیز (MBS)یومیہ تک استعمال کروانے کی اجازت ہوگی، پھرطےکردہ حدود موبائل میں سیٹ کرکےاستعمال کی اجازت دی جائے۔
حوالہ جات
أخرج الإمام أحمد بن حنبل رحمه الله تعالى من حديث أبي حميد الساعدي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا يحل لامرئ أن يأخذ مال أخيه بغير حقه وذلك لما حرم الله مال المسلم على المسلم».(مسند أحمد : 39/ 19: 23605)
وقال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى: لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته إلا في مسائل مذكورة في الأشباه. (الدر المختار: 6/ 200)
وقال رحمه الله تعالى: (وكل) من شركاء الملك (أجنبي) في الامتناع عن تصرف مضر (في مال صاحبه) لعدم تضمنها الوكالة (فصح له بيع حصته ولو من غير شريكه بلا إذن إلا في صورة الخلط) لماليهما بفعلهما كحنطة بشعير وكبناء وشجر وزرع مشترك قهستاني. (الدر المختار: 4/ 300)
راز محمد بن اخترمحمد
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
25جمادی الاولی1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رازمحمدولداخترمحمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


