| 86076 | کفالت (ضمانت) کے احکام | متفرّق مسائل |
سوال
میرے اور احمد بھائی کے درمیان کپڑے کےعلاوہ بھی کچھ کام ہوئے تھے، اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ میں نے بھائی احمد کے لئے ایک بندہ کی 6 لاکھ روپے کی ذمہ داری اٹھائی تھی اور میری زبان پر بھائی احمد نے اس بندے کو 6 لاکھ روپے دیئے تھے اور اتفاق سے وہ بندہ ایکسیڈنٹ میں مارا گیا ۔ اب یہ مطالبہ بھی وہ مجھ سے کرتا ہے، جبکہ میری کنڈ یشن ایک ہزار روپے دینے کی بھی نہیں ہے اور میں خود خیرات وزکوۃ لے کر گزارا کر رہا ہوں تو ایسی صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟ کیا چھ لاکھ کا ضمان مجھ پر ہو گا یا نہیں؟ براہ کرم راہنمائی فرما دیں۔
وضاحت: سائل نے بتایا کہ احمد بھائی نے کسی شخص سے چھ لاکھ روپیہ کا سونا خریدنا تھا، وہ شخص میرا واقف تھا، کیونکہ میری رقم اس کے پاس انویسٹمنٹ کے طور پر لگی ہوئی تھی، احمد بھائی نے مجھے کہا کہ میں آپ کی ضمانت پر اس کو رقم دوں گا، مطلب یہ تھا اگر بالفرض اس نے مجھے چھ لاکھ روپے کا سونا نہ دیا تو آپ ضامن ہوں گے۔
دوسرے فریق سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ سونا خریدنے کا مقصد انویسٹمنٹ کے لیے لوگوں سے لی گئی رقم اتارنا تھا اور یہ رقم چونکہ عزیز کے پاس انویسٹ کی گئی تھی، اس لیے عزیز نے مشورہ دیا کہ آپ سونا خرید لیں، اس کو بیچ کر جو نفع ہو گا وہ آپ لوگوں کو دے دیں تو میں عزیز کی ترغیب اور اس کی ضمانت پر اس کو سونا خریدنے کے لیے پیسے دیے اور عزیز نے وہ پیسےآگےاس شخص کو دیے، پھر تین سال تک میں اس شخص کو فون کرتا رہا، مگر اس آدمی نے سونا نہ دیا، یہاں تک کہ تین سال بعد اس کا انتقال ہو گیا، اب سوال یہ ہے کہ کیا عزیز اس سونے کا ضامن ہو گا یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعی اعتبار سے خریدی گئی چیز کی ضمانت دینا درست نہیں، کیونکہ شرعا اس چیز کی ضمانت دینا درست ہوتا ہے جس کے ضائع ہونے کی صورت میں اس کی قیمت کی ادائیگی واجب ہو، جبکہ خریدی جانے والی چیز کے ضائع ہونے کی صورت میں اس کی قیمت واجب نہیں ہوتی، بلکہ قبضہ سے پہلے بیچی جانے والی چیز کے ضائع ہونے کی صورت میں خریدار کے ذمہ سے ثمن (خریدار اور فروخت کنندہ کے ذمہ طے شدہ قیمت کو ثمن کہتے ہیں، خواہ وہ مارکیٹ میں رائج قیمت سے کم ہوں یا زیادہ) ساقط ہو جاتا ہے اور فروخت کنندہ کے ذمہ اس چیز کی سپردگی واجب نہیں رہتی۔ البتہ خریدی گئی چیز کی محض سپردگی کی ضمانت لینا درست ہے، کیونکہ اس میں چیز کی بجائے صرف فعلِ تسلیم (سپردگی اور ادائیگی) کی ضمانت لی جاتی ہے۔
لہذا مذکورہ صورت میں آپ کا خریدے جانے والے سونے کی ضمانت دینا تو شرعاً معتبر نہیں تھا، البتہ سونے کی سپردگی کی ضمانت لینا جائز اور درست تھا اور آپ کے ذمہ لازم تھا کہ فروخت کنندہ کی زندگی میں چھ لاکھ روپے کے عوض طے شدہ سونا اس سے لے کر آپ احمد بھائی کے سپرد کرتے، اور اب فروخت کنندہ کے فوت ہوجانے کےبعد آپ کی ذمہ داری ہے کہ اگر اس شخص نے ترکہ میں مال چھوڑا ہے تو آپ اس کے ورثاء سے رابطہ کر کے ان سے طے شدہ سونا یا بصورتِ دیگر دی گئی رقم لے کر احمد بھائی کے سپرد کریں اور احمد بھائی کا آپ سے اور اس شخص کے ورثاء سے اپنے حق کا مطالبہ کرنا جائز اور درست ہے۔ کیونکہ یہ فوت ہونے والے شخص کے ذمہ بطورِ دَین واجب تھا، جس کی ادائیگی اس کے مال سے کرنا ورثاء کے ذمہ لازم ہے اور اگر اس کے ورثاء سونا یا رقم نہیں دیتے تو آپ کے ذمہ اپنے مال سے رقم کی ادائیگی کرنا لازم ہے۔[1]
[1] کیونکہ اس میں"کفالة بالدرک" کا معنی بھی پایا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص خریدار سے کہے کہ آپ فلاں شخص سے یہ چیز خرید لو، اگر اس چیزکا کوئی اور مستحق نکل آیا تو میں ثمن کا ضامن ہوں گا اور ایسی ضمانت کو فقہائے کرام رحمہم اللہ نے جائز قرار دیا ہے، نیز مالکیہ کے مسلک میں استحقاق کے مبیع میں عیب نکلنے کا ذکر بھی موجود ہے، مذکورہ صورت کو بھی اس پر قیاس کیا جا سکتا ہے، کیونکہ "کفالةبالدرک" میں اصل علت مبیع کا نہ ملنا ہے اور وہ یہاں بھی موجود ہے، اس لیے مذکورہ صورت میں سائل کو ثمن کا ضامن ٹھہرانا درست ہے۔
حوالہ جات
مجلة الأحكام العدلية (ص: 118) الناشر: نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، كراتشي:
(المادة 631) يشترط في الكفالة بالمال أن يكون المكفول به مضمونا على الأصيل يعني أن إيفاءه يلزم الأصيل فتصح الكفالة بثمن المبيع وبدل الإجارة وسائر الديون الصحيحة كذلك تصح الكفالة بالمال المغصوب وعند المطالبة يكون الكفيل مجبورا على إيفائه عينا أو بدلا وكذلك تصح الكفالة بالمال المقبول على سوم الشراء إن كان قد سمى ثمنه وأما الكفالة بعين المبيع قبل القبض فلا تصح لأن البيع لما كان ينفسخ بتلف المبيع في يد البائع لا تكون عين المبيع مضمونة عليه بل إنما يلزم عليه رد ثمنه إن كان قد قبضه.
تبيين الحقائق وحاشية الشلبي (4/ 158) الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة:
(قوله: في المتن والكفالة بحد وقود ومبيع) يعني إذا تكفل عن البائع بالمبيع لم يصح لأنه عين لا يمكن أداؤه من الكفيل إذا هلك والمراد الكفالة بعين المبيع لأنه إذا كفل بتسليم المبيع جاز اھ.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 7) الناشر: دار الكتب العلمية:
(وأما) الفعل فهو فعل التسليم في الجملة فتجوز الكفالة بتسليم المبيع والرهن لأن المبيع مضمون التسليم على البائع والرهن مضمون التسليم على المرتهن في الجملة بعد قضاء الدين فكان المكفول به مضمونا على الأصيل وهو فعل التسليم فصحت الكفالة به لكنه إذا هلك لا شيء على الكفيل لأنه لم يبق مضمونا على الأصيل فلا يبقى على الكفيل.
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر(2/ 138) الناشر: دار إحياء التراث العربي:
(و) تجوز الكفالة (بتسليم المبيع إلى المشتري والمرهون إلى الراهن والمستأجر) بفتح الجيم (إلى المستأجر) بكسر الجيم لأن تسليم العين واجب على الأصيل فأمكن التزامه
فصار نظير الكفيل بالنفس لأنه ما دام قائما يجب عليه تسليمه وإن هلك يبرأ، وقيل: إن كان تسليمه واجبا على الأصيل كالعارية جازت الكفالة بتسليمه، وإن كان غير واجب على الأصيل كالوديعة ومال المضاربة والشركة لا تجوز الكفالة بتسليمه كما في التبيين.
المبسوط للسرخسي (20/ 98) البابي الحلبي – القاهرة:
ولو كان المال إلى أجل وبه كفيل فإن مات الأصيل؛ فقد حل المال عليه ولا يحل على الكفيل حتى يمضي الأجل؛ لأن الأصيل استغنى بموته عن الأجل. والكفيل محتاج إليه. وحلوله على الأصيل لا يمنع كونه مؤجلا على الكفيل؛ كما لو كفل الكفيل بمال هو حال على الأصيل مؤجلا إلى سنة ولو كان الميت هو الكفيل؛ فقد حل المال عليه لوقوع الاستغناء عن الأجل ويؤخذ من تركته في الحال ثم لا يرجع ورثته على الأصيل قبل أن يحل الأجل عندنا.
الفتاوى الهندية (3/ 286) الناشر: دار الفكر:
الكفالة بالدرك جائزة وهي التزام تسليم الثمن عند استحقاق المبيع ولو كفل بالدرك فاستحق المبيع لم يؤاخذ الكفيل حتى يقضي به على البائع كذا في محيط السرخسي.
مجلة الأحكام العدلية (ص: 115) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:
(المادة 616) الكفالة بالدرك هي الكفالة بأداء ثمن المبيع وتسليمه أو بنفس البائع إن استحق المبيع.
محمد نعمان خالد
دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی
28/جمادی الاخرى 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


