03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گورنمنٹ ملازم کوملنےوالےمختلف فنڈزمیں وراثت کاحکم
86132میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

 سوال:السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !مفتی صاحب آپ سے ایک مسئلہ میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔

حال ہی میں میرے والد کا انتقال ہوا ہے جوکہ ایک سرکاری ملازم تھے۔ اب ہمیں مسئلہ جو پیش آرہا ہے وہ محکمہ سے ملنے والی رقم کی تقسیم کے حوالے سے ہے، جس میں:

 LPR, Group Insurance, G.P Fund, Gratuity   اور Pension   شامل ہے۔

اضافی تفصیل: اولاد ایک کرائے کے گھر میں ابھی فی الحال مقیم ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب کوئی ملازم کسی کمپنی سےریٹائرہوتاہےیامخصوص مدت کےبعدملازمت سےاستعفاء دیتاہے،یادوران سروس اس کاانتقال ہوجاتاہےتوکمپنی کی طرف سےکچھ رقم گریجویٹی فند Gratuity کےنام سےملازم کویااس کی فیملی میں سےکسی فردکو(ملازم کےوفات کی صورت میں )دی جاتی ہے،یہ  رقم دینےکامقصدملازم کی خدمت کااعتراف اوراس کےساتھ مالی تعاون کرناہوتاہے۔

اس فنڈمیں وراثت جاری ہونےکی تفصیل یہ ہےکہ اگرملازم اس رقم کولینےکازندگی میں کمپنی کی طرف سےحق داڑٹھہرگیاتھاتواس میں میراث کےاحکام جاری ہوں گے،اوراگرمرنےکےبعداس رقم کےلینےکاحق داربناہےتوسرکارکی طرف سےجس کےنام پررقم جاری ہوگی،وہی اس کامالک ہوگا،اس صورت میں وراثت کےاحکام جاری نہیں ہوں گے۔اس میں کمپنی کےقوانین کااعتبارہوگا۔(ماخوذازسابقہ فتوی 54972/55)

جی پی فنڈ G.P Fund کی رقم کی ملازم کی تنخواہ سے کٹوتی کی جاتی ہے،اس لیے ملازم اس رقم کا زندگی میں ہی مالک بن جاتا ہے،اگرچہ وصولی بعد میں ہوتی ہے،اس لیے جی پی فنڈ کی مد میں ملنے والی رقم میں میراث جاری ہوگی۔

گروپ انشورنس Group Insurance کےنام سےکمپنی کی طرف سےجتنی رقم کی کٹوتی کی جائے،ملازم کی وفات کی صورت میں اس کےترکہ میں شامل ہوگی  اوراس میں وراثت کےاحکام جاری ہوں گے،البتہ اگرکسی انشورنس کمپنی  کی طرف سےکچھ اضافی رقم مرحوم کےنام سےدی جائے،توچونکہ کنونشنل انشورنس کی مذکورہ رقم کی وصولی(جوااوروسودپرمشتمل ہونےکی وجہ سے)شرعاجائزنہیں ہوگی،اس لیےاس اضافی رقم کابغیرنیت ثواب صدقہ کرناضروری ہوگا۔(ماخوذازسابقہ فتوی 54972/55)

Leave preparatory to retirement (LPR)قانونی طور پر ان بامعاوضہ چھٹیو ں کو کہا جا تا ہے جو عموماً کسی ملازم کو اسکی ریٹائرمنٹ retirement سے ایک سال قبل ملتی ہیں-ملازم اس رقم کاچونکہ زندگی میں ہی مستحق ہوجاتاہے،لہذااس میں بھی وراثت جاری ہوگی ۔

اسی طرح پنشن کی رقم جوریٹائرمنٹ کےبعدملازم کےزندہ ہونےکی صورت میں ملازم کوملتی ہےاوراس کی ملکیت سمجھی جاتی ہےتومرحوم نےاپنی زندگی میں جتنی رقم وصول کرلی یا ملنےکااستحقاق ہوچکاتھا،وصول نہیں کرسکا،تواس رقم میں وراثت جاری ہوگی اوراس میں  تمام ورثہ کااپنےاپنےشرعی حصےکےمطابق حق ہوگا،البتہ وفات کےبعد فیملی کےمخصو ص افراد کوجوپنشن دی جاتی ہےوہ مرحوم کی میراث شمار نہ  ہوگی ،بلکہ حکومتی یاکمپنی کےقوانین کےمطابق جوبھی حقدار ہو،اس کی ملکیت شمارہوگی ،لہذا مرحوم کی میراث کےساتھ اس کی تقسیم نہ ہوگی ۔

خلاصہ یہ کہ  جی پی فنڈ ،گروپ انشورنس میں ملنےوالی اصل رقم اورLPRکی رقم  کووراثت میں شامل کیاجائےگا۔

 گریجویٹی اورپنشن  کی وہ رقم جوملازم کو اس کی زندگی میں مل گئی ہویاملنےکااستحقاق ہوچکاتھا(زندگی میں وصول نہ کرسکا ہو) اس کوبھی وراثت میں شامل کیاجائےگا،اوراگرزندگی  میں نہیں ملی  یااس کااستحقاق ہی نہیں ہواتھا،وفات کےبعدفیملی کےکسی نامزدفردکودی جائےتواس کی خاص ملکیت شمارہوگی،مرحوم کی میراث شمارنہ ہوگی۔

حوالہ جات

"البحر الرائق  شرح كنزالدقائق "7/300:

(قوله والأجرة لا تملك بالعقد) لأن العقد ينعقد شيئا فشيئا على حسب حدوث المنفعة على ما بينا والعقد معاوضة (إلى قوله) (قوله ‌بل ‌بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري في مختصره لأنها لو كانت دينا لا يقال أنه ملكه المؤجر قبل قبضه وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر كذا في المحيط لكن ليس له بيعها قبل قبضها ۔

"الهندية" 4/413:

ثم الأجرة تستحق ‌بأحد ‌معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي. وكما يجب الأجر باستيفاء المنافع يجب بالتمكن من استيفاء المنافع إذا كانت الإجارة صحيحة حتى إن المستأجر دارا أو حانوتا مدة معلومة ولم يسكن فيها في تلك المدة مع تمكنه من ذلك تجب الأجرة، كذا في المحيط۔

شرح المجلة"3/55 :

 "المادة (2 9 0 1)كما تكون أعيان المتوفى المتروكة مشتركة بين وارثيه على حسب حصصهم كذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخر مشتركا بين وارثيه على حسب حصصهم)."

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

27/جمادی الثانیہ 1446ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب