03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جائیداد کی تقسیم کے بعد حکومت کی جانب سے ٹیوب ویلوں پر سولر لگانے کے لئے ملنے والی رقم کا حکم
87431میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہم پانج بھائی اور دو بہنیں ہیں ،ہم نے 2021 میں اپنی مکمل جائیداد ٹیوب ویلوں سمیت تقسیم کردی تھی،اس طور پر کہ زمین کے کل چھ حصے کئے اور ٹیوب ویلوں کو پانچ حصوں پر تقسیم کیا،ٹیوب ویلوں میں چارکاغذ والے (رجسٹرڈ)ہیں،جبکہ ایک بغیر کاغذ والا(غیررجسٹرڈ)ہے۔

فریق اول (دو بھائیوں سیف اللہ جوکہ سب سے بڑا ہےاور حیات اللہ جو سب سے چھوٹا ہے) کو مکمل حصہ دیا،جس میں انہیں 6ایکڑ زمین اور2ٹیوب ویل ملے، ایک ٹیوب ویل کاغذ والا(رجسٹرڈ) تھا،میرے والد حاجی دوست محمد کے نام پر،جبکہ دوسرا بغیر کاغذ والا (غیررجسٹرڈ)ان کے حصے میں آیا۔

فریق دوئم ( تین بھائیوں  سردار محمد، عبداللہ، عبیداللہ  اور دو بہنوں) کو ان کا مکمل حصہ دیا،جس میں ان کے حصے میں 11 ایکڑ زمین اورتین ٹیوب ویل آئے ،ہم تینوں بھائی کو  تین ٹیوب ویل کاغذ والے(رجسٹرڈ) ملے جو سردار عبداللہ اور عبیداللہ کے اپنے نام پر ہیں،یہاں تک جائیداد کی تقسیم مکمل ہوگئی۔

اب جبکہ جائیداد کی تقسیم کو چار سال مکمل ہوچکے ہیں،  گورنمنٹ نےیہ اعلان کیا  کہ پاکستان میں بجلی کابحران زیادہ ہے،اس لئے ہم بلوچستان کےزمینداروں کو بجلی فراہم نہیں کرسکتے ہیں ،بلکہ اس کے عوض جو ٹیوب ویل زمینداروں کے نام رجسٹرڈ ہیں ،انہیں سولر سسٹم لگانے کے لئے فی ٹیوب ویل بیس لاکھ روپے دیں گے۔

اب فریق اول کا مطالبہ ہے کہ چار رجسٹرڈ ٹیوب ویلوں کے لئے ملنے والی رقم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے اور اس میں ہمیں بھی حصہ دیا جائے،جبکہ دوسرے فریق کا کہنا ہے کہ ہم نے تو چار سال پہلے جائیدادتقسیم کردی تھی،لہذا جس فریق کے حصے میں جتنے ٹیوب ویل ہیں  اسی کے حساب سے رقم تقسیم ہوگی۔

               تیسرا فریق جس نے ہمارے درمیان جائیداد تقسیم کی تھی، اس کا کہنا ہے کہ چونکہ ہم نے آپ کےدرمیان کی جانے والی تقسیم کو اسٹامپ پیپر پر نہیں لکھا تھا،اس لئے حکومت کی جانب سے ملنے والی رقم میں سب شریک ہوں گے۔

اس تمہید کی روشنی میں آپ سے سوال یہ ہے کہ شریعت کے لحاظ سے فریقین میں سے کس کی بات ٹھیک ہے اور حکومت کی جانب سے ملنے والی رقم کامستحق کون ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جائیداد وغیرہ کی تقسیم کے عمل کے نفاذ کے لئے شرعا اس کا اسٹامپ پیپر وغیرہ پر لکھنا ضروری نہیں،البتہ بہتر ضرور ہے،اس لئے مذکورہ صورت میں دوسرے فریق کی بات درست ہے،یعنی  جب ٹیوب ویلوں سمیت جائیداد تقسیم کردی گئی تھی تو اب سولر لگانے کے لئے حکومت کی جانب سے ملنے والی رقم بھی اسی حساب سے تقسیم ہوگی،یعنی جس کے حصے میں جتنے رجسٹرڈ ٹیوب ویل ہیں اسے اس کے حساب سے رقم ملے گی،چونکہ فریق اول کے حصے میں ایک رجسٹرڈ ٹیوب ویل آیا تھا،اس لئے اسے صرف اسی ٹیوب ویل کی رقم ملے گی،بقیہ ٹیوب ویلوں کے لئے ملنے والی رقم میں اس فریق کا حصہ نہیں ہوگا،کیونکہ یہ رقم حکومت کی طرف سے بطور امداد مل رہی ہے اور حکومتی امداد انہی ٹیوب ویلزکے لئے آتی ہےجو کاغذی ہوں،جن کا انداراج حکومتی کھاتوں میں نہیں ان کے نام رقم نہیں آتی۔

حوالہ جات

" الدر المختار " (6/ 254):

"(وحكمها: تعيين نصيب كل) من الشركاء (على حدة وتشتمل) مطلقا (على) معنى (الإفراز) وهو أخذ عين حقه (و) على معنى (المبادلة) وهو أخذ عوض حقه (و) الإفراز (هو للغالب في المثلي) وما في حكمه وهو العددي المتقارب، فإن معنى الإفراز غالب فيه أيضا .ابن كمال عن الكافي (والمبادلة) غالبة (في غيره) أي غير المثلي وهو القيمي".

"الفتاوى الهندية "(5/ 222):

"وإذا كانت الدار بين قوم فاقتسموها على قدر من ميراثهم من أبيهم ثم ادعى أحدهم أن أخا له من أبيه وأمه قد ورث أباه معهم وأنه مات بعد أبيه فورثه هو وأراد ميراثه منه وقال: إنما قسمتم لي ميراثي من أبي ولم يكتبوا في القسمة أنه لا حق لبعضهم فيما أصاب البعض وأقام البينة على ذلك ،لم تقبل بينته ولم تنقض القسمة وإن كانوا كتبوا في القسمة أنه لا حق لبعضهم فيما أصاب البعض فهو نفي لدعواه ومراده من قوله " ولم يكتبوا " إزالة الإشكال وبيان التسوية في الفصلين في الجواب".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

13/ذی قعدہ1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب