| 87794 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
مجھے طلاق کے وسوسے بہت زیادہ آتے ہیں، ہر وقت میرے ذہن میں طلاق کے الفاظ اور جملے بےاختیار گزر رہے ہوتے ہیں، کبھی کبھی یہ الفاظ بےاختیار میری زبان سے بھی نکل جاتے ہیں،نماز پڑھتے ہوئے، کھانا کھاتے ہوئے یا کوئی بھی دوسرا کام کرتے وقت میرے ذہن میں بار بار طلاق کے خیالات آتے ہیں،کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں نے کچھ کہہ دیا ہو — مثلاً دھیمی یا ہلکی آواز میں۔ جیسے میں نے "اللہ" کہا، لیکن ایسا لگا کہ شاید "طلاق" کہہ دیا ہو۔میں اپنی زبان کو دانتوں میں دبا کر رکھتا ہوں، تاکہ کچھ غلط نہ نکل جائے، لیکن جب زبان دانتوں میں نہ ہو تو پھر شدید الجھن ہوتی ہے کہ شاید کچھ زبان سے نکل گیا ہو۔میں اس کیفیت کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان ہو چکا ہوں، بار بار سوچ سوچ کر ذہنی اذیت میں مبتلا ہو گیا ہوں۔میں اپنی بیوی کے ساتھ خوشی سے زندگی گزارنا چاہتا ہوں، لیکن یہ بار بار کا خیال اور وسوسہ کہ کہیں کچھ (یعنی طلاق) ہو تو نہیں گیا— مجھے شدید تکلیف دیتا ہے۔براہِ کرم، میری رہنمائی فرمائیں:
سوال 1: میں ایک پیراگراف پڑھ رہا تھا (کبھی آواز سے اور کبھی خاموشی سے)، جس کا جملہ یہ تھا: "جب تک شک ہو اور یقین نہ ہو کہ میں نے قصداً، بیوی کے لیے طلاق کا لفظ بولا یا لکھا، طلاق نہیں ہوتی"۔ اس میں "بیوی" اور "طلاق" کے الفاظ بھی تھے، جو میں نے ساتھ ساتھ پڑھ لیے۔ کیا اس پڑھنے سے کوئی طلاق واقع ہوئی؟ جب کہ طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، صرف پڑھنا مقصد تھا۔پھر چند منٹ بعد جب میں نے صرف "بیوی طلاق" کے الفاظ پڑھے تھے تو میں پریشان ہو گیا۔ میرے ذہن میں وہی دو الفاظ گردش کر رہے تھے،پھر میں تھوڑی دیر بعد چائے بنانے کے لیے آفس کے کچن میں گیا، چائے بنانے کےدوران میرے ذہن سے ایک جملہ اچانک اور بےاختیار گزرا، جو یہ تھا: "میری بیوی کو تین طلاق"۔ جس پر میں پریشان ہوا۔ لیکن مجھے صحیح سے یاد نہیں کہ یہ ذہن سے گزرا یا زبان سے ادا ہوا۔ میں نے کافی سوچا، لیکن زیادہ یقین یہی لگا کہ ذہن سے ہی گزرا، منہ سے آواز باہر نہیں نکلی اور شاید زبان نہیں ہلی اور معلوم نہیں کہ اس پریشانی میں زبان سے نکلے یا نہیں۔ اب یاد نہیں کہ زبان سے کہا یا محض خیال تھا ۔جب کہ اس وقت بیوی کا خیال بھی نہیں تھا، نہ ان سے مخاطب تھا، نہ طلاق دینے کا ارادہ تھا، نہ جھگڑا تھا، نہ مطالبہ۔ بس یہ خیال شاید اس لیے گزرا کہ کچھ دیر پہلے طلاق کے مسائل پڑھ رہا تھا،اس صورت میں کیا طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ اگر یہ پتا نہ ہو کہ زبان سے الفاظ نکلے یا نہیں، یا یہ صرف خیال ہی رہا۔
سوال2: میں نے سوالات میں "بیوی طلاق" لکھا ہے، تو کیا یہ لکھنے سے کچھ ہوا؟ جب کہ میرا مقصد آپ سے مسئلہ پوچھنا تھا۔ اس مسئلے کو پوچھنے کی غرض سے ہی یہ الفاظ لکھے اور لکھتے وقت ذہن زبردستی بیوی کی طرف جا رہا تھا، میں نے کوشش کی کہ ذہن ادھر نہ جائے۔
سوال3: میرے ذہن میں اکثر طلاق کے الفاظ آتے ہیں۔ جب منہ بند ہوتا ہے تو تسلی رہتی ہے کہ زبان سے کچھ نہیں نکلا، لیکن اگر منہ کھلا ہو (جیسے نزلے کی وجہ سے) تو پریشانی ہوتی ہے کہ شاید کچھ بول دیا ہو۔ کبھی دل میں 'اللہ' کہتا ہوں تو لگتا ہے 'طلاق' کہہ دیا۔ تو ایسی کیفیت میں، جب ارادہ نہ ہو اور یقین نہ ہو کہ زبان سے کچھ نکلا، کیا طلاق ہو جائے گی؟
سوال4: ایک بار دفتر میں بیٹھا تھا، اچانک ایسا لگا جیسے کوئی میرے منہ سے طلاق کا لفظ نکلوانا چاہ رہا ہو۔ میں نے فوراً 'لا حول ولاقوۃ الا باللہ' پڑھا اور خود کو روکا۔ لیکن ایسی کیفیت بار بار آتی ہے کہ 'کہا ہو گا'، 'یاد نہیں'، حالانکہ ارادہ بالکل نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں کیا حکم ہو گا؟
سوال 5: كبھی کبھی جب میں اکیلا ہوتا ہوں تو میرے منہ سے بےاختیار صرف "طلاق" کا لفظ نکل جاتا ہے، شاید وسوسوں کی حالت میں، اس وقت میری کوئی نیت نہیں ہوتی طلاق دینے کی۔ اور کبھی کبھار میری بیوی کے سامنے بھی ایسا ہو جاتا ہے، لیکن یاد نہیں رہتا کہ اُس وقت منہ سے یہ لفظ نکلا تھا یا صرف میرا وہم تھا۔ صرف لفظ نکلتا ہے، جس میں میری کوئی نیت نہیں ہوتی اور وہ بھی بےاختیار۔اس صورت میں کیا شرعی حکم ہوگا کہ اگر وسوسے کی حالت میں صرف "طلاق" کا لفظ بےارادہ نکل جائے، اور طلاق دینے کی نیت نہ ہو؟
سوال6: ایک مرتبہ میں نے آفس میں اپنے آپ سے کہا: 'تم اپنے گھر اور میں اپنے گھر'، جو کہ بس یوں ہی کہہ دیا۔ بعد میں شک پیدا ہوا کہ کہیں کچھ (یعنی طلاق) تو نہیں ہو گیا؟ اس وقت نہ میں بیوی سے مخاطب تھا، نہ ذہن میں بیوی کا خیال تھا، اور نہ ہی طلاق دینے کی کوئی نیت تھی۔ تو کیا اس صورت میں طلاق ہو جائے گی؟
سوال 7: ایک مرتبہ میں نے دفتر میں اپنے آپ سے کہا: "طلاق کا حکم"۔ یہ الفاظ کہتے وقت نہ میں بیوی سے مخاطب تھا، نہ ان کی طرف کوئی نسبت تھی، اور نہ ہی یہ الفاظ ان کے لیے کہے تھے۔ شاید یہ اس وجہ سے کہا کہ میرے ذہن میں طلاق کے وسوسے رہتے ہیں۔ تو کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوگی؟ حالانکہ طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
سوال 8: ایک مرتبہ میری صبح آنکھ کھلی، جو کہ نیم نیند (سوتی جاگتی حالت) میں تھی۔ اس دوران میرے ذہن سے طلاق سے متعلق کچھ باتیں گزریں، لیکن اب یاد نہیں کہ کیا باتیں گزریں، کیا کہا، اور یہ بھی یاد نہیں کہ وہ باتیں صرف ذہن میں گزریں یا زبان سے بھی ادا ہوئیں۔ اصل جملے اور الفاظ کیا تھے، یہ بھی یاد نہیں۔ یاد نہ رہنے کی ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ میں اُس وقت مکمل طور پر بیدار نہیں ہوا تھا۔ تو ایسی صورت میں طلاق کا کیا حکم ہوگا، جب اصل بات اور الفاظ یاد ہی نہ ہوں اور معاملہ الجھن میں ہو؟
سوال 9: ایک مرتبہ میں اپنا موبائل بند کر رہا تھا، تو موبائل کے وال پیپر پر میری بیوی کے ساتھ شادی کی ایک تصویر لگی ہوئی تھی۔ موبائل بند کرتے وقت میری نظر اس وال پیپر پر پڑی، اور اُس لمحے بےاختیار اکیلے میں میرے منہ سے صرف "طلاق" کا لفظ نکل گیا۔ پھر میں نے اُسی وقت پورا جملہ اس طرح مکمل کیا: "طلاق کے مسائل سب کو سیکھنے چاہئیں؛ تاکہ پتہ چلے کہ کیا کرنے سے طلاق ہوتی ہے اور کیا کرنے سے نہیں ہوتی"۔اب میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر صرف "طلاق" کا لفظ بے اختیار نکل جائے، نیت بھی نہ ہو، اور جملہ بھی اس طرح مکمل کیا جائے، تو ایسی صورت میں طلاق کا کیا حکم ہوگا؟
سوال10: جب میں آپ سے مسئلہ پوچھنے کی غرض سے طلاق کے الفاظ یا جملے لکھ رہا تھا تو میرا ذہن بیوی کی طرف جا رہا تھا، اور عجیب قسم کے خیالات آ رہے تھے جیسے میں طلاق دینے کی نیت سے لکھ رہا ہوں۔ پھر میں نے فوراً اپنا ذہن ہٹا لیا۔ تو میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر اس طرح مسئلہ پوچھتے وقت بیوی کا خیال آ جائے، لیکن خود طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہ ہو، تو کیا اس سے کوئی طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں؟
سوال11: ایک مرتبہ رات کے وقت میری آنکھ چند سیکنڈ کے لیے کھلی، تو دل میں یہ جملہ کہا: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"۔ پھر دوبارہ میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گیا۔ صبح جب بیدار ہوا تو مجھے صحیح سے یاد نہیں تھا کہ یہ جملہ دل ہی میں کہا تھا یا زبان سے بھی ادا ہوا تھا۔دل میں کہتے وقت میری نظر آئرن اسٹینڈ (استری رکھنے والی جگہ) کی طرف تھی، بیوی سے مخاطب نہیں تھا، نہ ہی وہ میرے ذہن میں تھیں، اور نہ ہی یہ جملہ ان کے لیے بولا تھا۔میں آئرن اسٹینڈ کی طرف دیکھ کر دل میں یہ بات کہہ رہا تھا۔ میری بیوی دوسری طرف منہ کر کے سو رہی تھیں اور میں بھی اُن سے اُلٹی سمت میں تھا۔ میری نظر بھی بیوی کی طرف نہیں تھی اور نہ ہی میں اُن سے مخاطب تھا، اور نہ ہی اُن کے لیے یہ جملہ کہا تھا۔مجھے زیادہ یقین اس بات پر ہے کہ میں نے یہ بات دل ہی میں کہی تھی، لیکن شک کبھی کبھی آ جاتا ہے کہ شاید زبان سے نہ نکل گیا ہو۔تو ایسی صورت میں کیا حکم ہوگا جب یقینی طور پر معلوم نہ ہو اور زیادہ یقین دل میں کہنے پر ہو؟
سوال11: ایک دن صبح میری آنکھ کھلی، اور میں سوتی جاگتی حالت میں تھاتو میرے ذہن سے بےاختیار یہ خیالات گزر رہے تھے: "تم آزاد ہو" اور "یہ حرام ہے"۔اس وقت میں گھر میں اکیلا تھا، کوئی بھی موجود نہیں تھا، اور یہ جملے گزرنے کے وقت میں نے کسی کو مخاطب نہیں کیا، بلکہ یہ صرف بےاختیار ذہن سے گزر گئے۔ یہ جملے میں نے اپنی بیوی کے لیے ہرگز نہیں کہے تھے، بلکہ کسی کے لیے بھی نہیں اور اگر میں اُس وقت مکمل طور پر بیدار ہوتا تو میں کبھی یہ الفاظ نہ کہتا۔اس لیے میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ایسی صورت میں کیا حکم ہوگا؟ جب یہ جملے نہ بیوی کے لیے ہوں، نہ کسی اور کے لیے، اور بغیر ارادے کے نکل گئے ہوں؟میری بیوی سے کوئی لڑائی بھی نہیں تھی، نہ ہی طلاق کا کوئی مطالبہ یا ارادہ تھا۔اور اگر بالفرض یہ الفاظ زبان سے ادا بھی ہو گئے ہوں، تو پھر اس صورت میں کیا شرعی حکم ہوگا؟
سوال 12: اگر بالفرض زبان سے یہ جملہ ادا ہو بھی گیا ہو، تو اس صورت میں کیا حکم ہوگا جب کہ یہ جملہ بیوی کے لیے نہیں تھا؟یعنی "تمہیں" سے مراد بیوی نہیں لی گئی، بلکہ کسی سے بھی مخاطب نہیں تھا۔ تو ایسی حالت میں کیا حکم ہوگا؟
سوال13: میری بیوی کو سینما میں فلم دیکھنے کا شوق ہے، اور میں اُسے جانے سے منع کرتا ہوں۔ پھر ایک دن میں دفتر میں بیٹھا تھا تو میں نے اپنے آپ سے کہا: "سینما اور فلمیں گناہ کے اڈے ہیں، یہاں پیسہ خرچ کرنا حرام ہوگا"۔اب میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ایسا کہنے سے نکاح پر کوئی اثر پڑے گا؟جب کہ یہ ایک عمومی بات تھی اسلامی نقطۂ نظر سے، نہ یہ بات بیوی کے لیے کہی گئی تھی، نہ میں اُسے مخاطب تھا، اور نہ ہی طلاق دینے کا کوئی ارادہ تھا۔ کیا میرا نکاح قائم و برقرار ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1تا11: بطورِ تمہید جاننا چاہیے کہ وسوسہ دل میں آنے والے خیال کو کہتے ہیں، جو کبھی انسان کے قصداور اختیار سے اور کبھی بلا قصد واختیار دل میں آتے رہتے ہیں، اگر یہ خیالات بغیر ارادہ اور اختیار کے آئیں تو شریعت کی طرف سے دنیا اور آخرت میں ان پر کسی قسم کا کوئی مواخذہ نہیں، کیونکہ یہ انسان اسی چیز کا مکلف ہوتا ہے جو اس کے اختیار میں ہو، البتہ وہ خیالات اور وساوس جو انسان اپنے اختیار اور ارادہ سے دل میں لائے، جیسے کسی اجنبی عورت کا دل میں خیال لانا وغیرہ تو یہ گناہ ہے اور آخرت میں اس کا مواخذہ بھی ہو گا، لیکن دنیوی اعتبار سے دونوں قسم کے خیالات پر شریعت کی جانب سے کوئی شرعی حکم ثابت نہیں ہوتا، بلکہ شرعی حکم کے لیے باقاعدہ کسی فعل کو کرنا یا اس کو زبان سے ادا کرنا ضروری ہے، محض دل میں خیال آنے یا لانے سے نکاح، طلاق اور خریدوفروخت کسی قسم کاکوئی بھی حکم ثابت نہیں ہوتا۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں طلاق کے وساوس آنے سے آپ کی بیوی کو قسم کی کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، خصوصاً جبکہ آپ وساوس کی بیماری میں مبتلا ہیں، اسی لیے نہ چاہنے کے باوجود بھی آپ کو طلاق کے وساوس آتے رہتے ہیں، لہذا آپ ان وساوس کی وجہ سے بالکل پریشان نہ ہوں، اس کا حل یہ ہے کہ آپ ان وساوس کی طرف تو وہ نہ دیا کریں، بلکہ طلاق کے وساوس آنے پر دل کی توجہ کسی اور کام کی طرف لگانے کی کوشش کیا کریں، اس سے ان شاء اللہ طلاق کے وساوس آنا کم ہو جائیں گے۔
12۔ اگر کوئی شخص طلاق کے وساوس کی بیماری میں مبتلا ہو تو اس کے زبان سے لفظِ طلاق بولنے سے بھی کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی، کیونکہ ایسا شخص اپنے قصد و ارادہ اور اختیار سے بات نہیں کرتا، بلکہ یہ مغلوب العقل ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ اپنی سوچ اور سمجھ سے بات نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ اس کی زبان سے بلا اختیار الفاظ صادر ہو رہے ہوتے ہیں، اس لیے فقہائے کرام رحمہم اللہ نے تصریح فرمائی ہے کہ وسوسہ کے مریض کی زبانی طلاق بھی واقع نہیں ہوتی۔ لہذا ایسی صورت میں بھی آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں
13۔ اس کا جواب سوال گزشتہ سوالات کے ضمن میں گزر چکا ہے، وہ یہ کہ اس صورت میں بھی کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ باقی آپ اپنی بیوی کو سینما جانے اور فلمیں دیکھنے سے منع کریں، کیونکہ اس طرح کی فحاشی وعریانی پر مبنی چیزوں کا دیکھنا کبیرہ گناہ ہے، جس سے بچنا ضروری ہے، لہذا آپ کی بیوی پر لازم ہے کہ وہ گزشتہ گناہوں پر اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ واستغفار کرے اور آئندہ کے لیے سینما جانے اور فحاشی وعریانی پر مشتمل فلمیں دیکھنے سے پرہیز کرے، باقی وساوس سے بچنے کے لیے آپ کسی نفسیات کے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں اور درج ذیل آیت کثرت سے پڑھا کریں:
{رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ } [المؤمنون: 97، 98]
ترجمہ:اے میرے پروردگار میں شیاطین کے وساوس سے آپ کی پناہ چاہتاہو اور میں اس بات سے بھی آپ کی پناہ چاہتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں۔
اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ سے وساوس کے ختم ہونے کی ہر نماز کے بعد دعا بھی کریں تو اس سے ان شاء اللہ تعالیٰ یہ وساوس آنا بند ہو جائیں گے۔
حوالہ جات
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 51) الناشر: دار الكتاب الإسلامي، بيروت:
وأما الموسوس فضبطه في الظهيرية في فصل التعزير بكسر الواو وفي المغرب رجل موسوس بالكسر ولا يقال بالفتح ولكن موسوس له أو إليه أي ملقى إليه الوسوسة وقال الليث: حديث النفس وإنما قيل موسوس؛ لأنه يحدث بما في ضميره وعن أبي الليث لايجوز طلاق الموسوس يعني المغلوب في عقله عن الحاكم هو المصاب في عقله إذا تكلم تكلم بغير نظام.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 224) الناشر: دار الفكر-بيروت:
(وشرائط صحتها العقل) والصحو (والطوع) فلا تصح ردة مجنون، ومعتوه وموسوس، وصبي لا يعقل وسكران ومكره عليها.
قال ابن عابدين: (قوله وموسوس) بالكسر ولا يقال بالفتح ولكن موسوس له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس قال: يعني المغلوب في عقله، وعن الحاكم هو المصاب في عقله إذا تكلم يتكلم بغير نظام كذا في المغرب.
الموسوعة الفقهية الكويتية (43/ 156) دارالسلاسل – الكويت:
طلاق الموسوس:
نقل ابن عابدين عن الليث: في مسألة طلاق الموسوس أنه لا يجوز طلاق الموسوس، قال: يعني المغلوب في عقله ونقل ابن القيم: إن المطلق إن كان زائل العقل بجنون أو إغماء أو وسوسة لا يقع طلاقه، قال: وهذا المخلص مجمع عليه بين علماء الأمة .
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
25/ذوالحجة 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


