| 87797 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہمارے والد عالم علی کا انتقال 1985ء میں ہوا۔ ان کی وفات کے وقت درج ذیل ورثاء زندہ تھے:
- بیوی: مقبول فاطمہ
- دو بیٹے: سید اطہر عالم، سید اشرف عالم
- چار بیٹیاں: ریحانہ، شاہین، شگفتہ، نصرت
اس کے بعد ہماری بہن نصرت کا انتقال 1994ء میں ہوا۔ ان کی وفات کے وقت درج ذیل ورثاء زندہ تھے:
- والدہ: مقبول فاطمہ
- شوہر: سید قالم علی
- بیٹا: سید وقاص
پھر ہماری والدہ مقبول فاطمہ کا انتقال 2008ء میں ہوا، اور ان کے وقتِ وفات درج ذیل ورثاء زندہ تھے:
- دو بیٹے: سید اطہر عالم، سید اشرف عالم
- تین بیٹیاں: ریحانہ، شاہین، شگفتہ
ہمارے والد عالم علی نے ترکہ میں ایک مکان چھوڑا تھا۔ جب ہماری بہنوں نے اپنے وراثتی حصے کا مطالبہ کیا تو ہم بھائیوں نے مکان کی قیمت لگا کر ان کو حصہ دینا چاہا، لیکن وہ کہتی ہیں کہ جو قیمت لگائی گئی ہے، وہ بہت کم ہے۔
ہماری چھوٹی بہن نصرت جو پہلے انتقال کر چکی ہیں، ان کا بیٹا سید وقاص بھی اب حصے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ دراصل ہم نے از راہِ ہمدردی اس کا نام وراثت میں اپنے ساتھ شامل کر لیا تھا، اسی بنیاد پر وہ دعویٰ کر رہا ہے۔ اب ہم نے رجسٹرار آفس میں ان کا نام خارج کروانے کے لیے درخواست دی ہے، لیکن رجسٹرار فتویٰ طلب کر رہا ہے کہ ان کا نام خارج کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟ہمارے بہنوئی بھی ہم سے جھگڑا کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ حصے کی قیمت بہت کم لگائی گئی ہے۔
براہِ کرم اس مناسخہ کی تفصیل اور شرعی فتویٰ صادر فرمائیں کہ:
- مذکورمیراث کس طرح تقسیم ہوگی؟
- ہماری مرحومہ بہن نصرت کے بیٹے کا دعویٰ درست ہے یا نہیں؟
- رجسٹرار آفس میں ان کا نام خارج کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
١۔مرحومین(والد،بہن اوروالدہ) کے کفن دفن کے متوسط اخراجات (بشرطیکہ کسی نے تبرعاً نہ کیے ہوں)،قرض (اگرباقی ہو) اورثلث مال سے وصیت (اگرکی ہو)کی علی الترتیب ادائیگی کے بعدچونکہصورتِ مسئولہ میں تین لوگ یکے بعددیگرےفوت ہوئے ہیں اور ان میں سے بعض بعض کے وارث ہیں، لہذاموجودہ صورت میں مرحومین کے مال میں سے جن جن ورثاء کوجو جوحصہ ملے گا،آسانی کے لیے ذیل میں اس کاجدول ملاحظہ ہو۔
مورث اعلی عالم علی/ کل مال : %100/4550000روپے
|
دیگرتفصیل |
فیصدی حصہ |
مورث اعلی سے رشتہ |
زندہ ورثہ |
نمبر شمار |
|
والد اوروالدہ سے |
25.96726٪ |
بیٹا |
اطہرعالم |
1 |
|
والد اوروالدہ سے |
25.96726٪ |
بیٹا |
اشرف عالم |
2 |
|
والد اوروالدہ سے |
12.98363٪ |
بیٹی |
ریحانہ |
3 |
|
والد اوروالدہ سے |
12.98363٪ |
بیٹی |
شاہین |
4 |
|
والد اوروالدہ سے |
12.98363٪ |
بیٹی |
شگفتہ |
5 |
|
بیوی سے |
2.734375٪ |
داماد |
قاسم |
6 |
|
والدہ سے |
6.380208٪ |
نواسا |
وقاص |
7 |
|
|
100٪ |
ٹوٹل: |
||
واضح رہے کہ یکے بعد دیگرے ورثہ کے فوت ہونے کی صورت میں دوسری میت سے آخر تک کے اموات کوپہلی میت سے بھی ملتاہے اورعام طورپر فوت ہونے کے وقت ان کی ذاتی ملکیت میں بھی کچھ نہ کچھ مال ہوتاہے تو جب ان کا مال تقسیم ہوتوپہلی میت سے ملنے والے مال کے ساتھ اس کے دیگرذاتی اموال کو بھی ملایاجاتاہے جو بوقت موت ان کی ملکیت میں ہوتاہے لہذا مسئولہ صورت میں دوسری میت نصرت کی میراث تقسیم کرتے وقت دونوں مالوں(پہلی میت والدسے ملنے والااوراپنا) کو جمع کرلیا جائےگا،اورپھر کل مال جتنا بھی ہوجائے اس کوورثہ میں تقسیم کیاجائے گا، تقسیم کا طریقہ کار وہی ہوگاجو اوپر مذکورہوا۔اوراسی طرح مرحومہ مقبول کی میراث کی تقسیم میں بھی کیاجائےگا۔
۲۔مذکورہ بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ اس میراث میں سید وقاص کا بھی وہ حصہ شامل ہے جو ان کو والدہ کے واسطے سے ملا ہے، اور ان کے والد سید قاسم علی کا بھی حصہ شامل ہے جو ان کو بیوی کے واسطے سے ملا ہے۔ لہٰذا، ان کا اپنے شرعی حصوں کا دعوی کرنااورمطالبہ کرنا بالکل درست ہے۔ بھائیوں پر لازم ہے کہ اپنی بہن کے ورثہ کوان کا شرعی حق ادا کریں۔ بہنوں کے ورثہ سے ان کا حق روکنا شرعاً جائز نہیں ہے۔
بہنوں کا حصہ عینِ مکان میں ہے، لہٰذا بھائی اسی مکان سے ان کا حصہ دینے کے پابند ہیں۔ البتہ اگر بہنیں /ورثہ خوشی سے قیمت لینے پر راضی ہوں تو قیمت بھی دی جا سکتی ہے، مگر یہ یاد رہے کہ ان کے حصوں کی کم قیمت لگا کر انہیں اسے لینے پر مجبور کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر قیمت میں اختلاف ہو تو دو تین ریئل اسٹیٹ ایجنٹس سے موجودہ مارکیٹ ویلیو معلوم کر کے اوسط قیمت بہنوں کی رضامندی سے انہیں اداکی جاسکتی ہے،لیکن زبردستی کرنا جائز نہیں ہے۔
۳۔ جب ان کا میراث میں حق ثابت ہے اور وہ مطالبہ کر رہے ہیں، تو ان کا نام خارج کرنا جائز نہیں ہے۔
واضح رہے کہ کسی بھی وارث کو اس کی میراث سے محروم کرنا جائزنہیں ہے،جو شخص کسی وارث کو اس کی میراث سے محروم کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ درحقیقت اس کی اس وراثت والی حیثیت کو بدلتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو ناپسند کرتا ہے اور اسے بدلنا چاہتا ہے، اور یہ بہت بڑا جرم ہے۔ سورۂ نساء میں میراث کے سارے حصے بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے"تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰارُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ۔ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْہَا وَلَہٗ عَذَابٌ مُّہِینٌ"(النساء: 13-14)’’یہ اللہ کی بتائی ہوئی حدیں ہیں (اِن سے آگے نہ بڑھو)، اور (یاد رکھو کہ) جو اللہ اور اُس کے رسول کی فرماں برداری کریں گے، اُنھیں وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے، اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کریں گے اور اُس کی بتائی ہوئی حدوں سے آگے بڑھیں گے، اُنہیں ایسی آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور اُن کے لیے رسوا کر دینے والی سزا ہے۔‘‘
حضرت سلیمان بن موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:«مَنْ قَطَعَ مِيرَاثًا فَرَضَهُ اللَّهُ، قَطَعَ اللَّهُ مِيرَاثَهُ مِنَ الْجَنَّةِ»(سنن سعيد بن منصور، ۱/۱۱۸)’’جس نے اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی (اپنے وارث ک) میراث کو کاٹ دیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث کاٹ دے گا۔‘‘
ایک اور حدیث میں ہے: حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جو شخص (کسی کی) بالشت بھر زمین بھی از راہِ ظلم لے گا، قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پر ڈالی جائے گی۔‘‘
حوالہ جات
قال في كنز الدقائق :
"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..." (ص:696, المكتبة الشاملة)
قال في الفتاوى الهندية:
"وهوأن يموت بعض الورثةقبل قسمة التركة كذا في محيط السرخسي وإذا مات الرجل ،ولم تقسم تركته حتى مات بعض ورثته ......فإن كانت ورثة الميت هم ورثة الميت الأول،ولا تغير في القسمة تقسم قسمة واحدة ؛ لأنه لا فائدة في تكرار القسمة بيانه إذا مات وترك بنين وبنات ثم مات أحد البنين أو إحدى البنات ولا وارث له سوى الإخوة والأخوات قسمت التركة بين الباقين على صفة واحدة للذكر مثل حظ الأنثيين فيكتفي بقسمة واحدة بينهم وأما إذا كان في ورثة الميت الثاني من لم يكن وارثا للميت الأول فإنه تقسم تركة الميت الأول ، أولا ليتبين نصيب الثاني ثم تقسم تركة الميت الثاني بين ورثته فإن كان يستقيم قسمة نصيبه بين ورثته من غير كسر فلا حاجة إلى الضرب." (ج:51,ص:412, المكتبة الشاملة)
قال اللَّه تعالى في القرأن الكريم:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ......... وَ لِاَبَوَیہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِن کَانَ لَہٗ وَلَدٌ ۚ....... وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ....... وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ...... } [النساء: 12, 11]
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 238)
العصبة نوعان نسبية وسببية فالنسبية ثلاثة أنواع عصبة بنفسه، وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى، وهم أربعة أصناف جزء الميت وأصله وجزء أبيه، وجزء جده.
قالالله تعالیٰ فی القرآن المجید:
{وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ} [البقرة : 188]
السنن الكبرى للبيهقي (6/ 166)
عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه "
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
26/12/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


