03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زکوۃ کی رقم سے علاج کروانے کاحکم
87878زکوة کابیانمستحقین زکوة کا بیان

سوال

میری بیوی کا علاج آغا خان ہسپتال کراچی میں بالکل مفت زکوٰۃ کے پیسوں سے ہو رہا ہے، جو ہسپتال خود برداشت کرتا ہے۔ اُن کا جوڑوں کا آپریشن ہوا ہے اور فالو اپ بھی بالکل مفت جاری ہے۔ آپریشن بھی مکمل طور پر مفت ہوا ہے۔

میرے والد صاحب کے پاس چار ایکڑ زمین ہے اور والدہ کے پاس بھی چار ایکڑ زمین ہے، والد صاحب گورنمنٹ کے ریٹائرڈ ملازم ہیں۔ میں والدین سے علیحدہ رہتا ہوں، میری ماہانہ آمدن تقریباً 10 ہزار روپے ہے، اور اس آمدن سے بیوی کا علاج جاری رکھنا ممکن نہیں ہے۔

کیا آغا خان اسپتال سے زکوٰۃ کے پیسوں سے علاج جاری رکھنے کا شرعی طور پر میں اہل ہوں یا نہیں؟ براہِ کرم شرعی نقطۂ نظر سے آگاہ کریں

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اصول یہ ہے کہ جس مسلمان کے پاس اپنی بنیادی ضروریات (جیسے رہنے کا مکان، کپڑے وغیرہ) کے علاوہ نصاب کے بقدر مال یا سامان موجود نہ ہو، اور وہ سید بھی نہ ہو، تو وہ زکوٰۃ کا مستحق ہے، اور اسے زکوٰۃ بطورِ ملکیت دی جاسکتی ہے۔
نصاب :اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ سونا، اور صرف چاندی ہو تو  ساڑھے باون تولہ چاندی،  یادونوں میں سے کسی ایک کی مالیت کے برابر نقدی  یا سامانِ تجارت ہو ،  یا یہ سب ملا کر یا ان میں سے بعض ملا کر مجموعی مالیت چاندی کے نصاب کے برابر بنتی ہو تو ایساشخص خود صاحبِ نصاب ہے ،مستحقِ زکوۃ نہیں ہے۔(مأخوزاز تبویب 80012.62)

صورت ِ مسئولہ میں اگرہسپتال  آپ کےنام پر زکوۃ کی مد سے رقم منہا کرکے آپ کی  بیوی کے علاج پر خرچ کررہا ہےتو اس صورت میں  آپ کے   زکوۃ کے مستحق ہونے کا اعتبار ہوگا ،لہذااگر آپ کے پاس  اپنی بنیادی ضروریات (جیسے رہنے کا مکان، کپڑے وغیرہ) کے علاوہ مذکورہ با لا نصاب کے بقدر مال یا سامان موجود نہیں ہے، اورنہ ہی آپ   سید ہیں  تو اس صورت میں آپ زکوۃ کی رقم سے اپنی بیوی کا علاج جاری رکھنے کے شرعی طور پر اہل ہے  ،البتہ اگر   ہسپتال آپ کی بیوی کے  نام  پر  زکوۃ کی مد سے رقم منہا کرکے اس کے علاج پر خرچ کررہا   ہےتو اس صورت میں بیوی  کےمستحقِ زکوۃ  ہونے کا  اعتبار ہوگا ،لہذاا گرآپ کی بیوی کے پاس  اپنی بنیادی ضروریات کے علاوہ مذکورہ با لا نصاب کے بقدر مال یا سامان موجود نہیں ہے، اورنہ ہی وہ    سید ہ ہے  تو اس صورت میں آپ کی بیوی  زکوۃ کی رقم سے اپنا علاج جاری رکھنے کے شرعی طور پر اہل ہے  ۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 189):

لا يجوز ‌دفع ‌الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي والشرط أن يكون فاضلا عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا كذا في الزاهدي.

تحفة الفقهاء» (1/ 307):

وأما إذا قضى ‌دين ‌حي فقير فإذا قضى بغير أمره يكون متبرعا ولا يقع عن الزكاة وإن قضى بأمره فإنه يقع عن الزكاة ويصير وكيلا في قبض الصدقة عن الفقير والصرف إلى قضاء دينه فقد وجد التمليك من الفقير فيجوز.

  عمار بن عبد الحق

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

27/ ذو الحجہ  1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عماربن عبدالحق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب