| 87814 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میرا تعلق مکران بلوچستان سے ہے، یہاں کے اکثر و بیشتر لوگوں کا ذریعہ معاش ماہی گیری، ایرانی ڈیزل، پٹرول اور خوردنی اشیاء کی ترسیل ہے۔ ایرانی جائز اشیاء کا کاروبار کسی نعمت سے کم نہیں، لیکن اس کام کے جائز و ناجائز ہونے کے حوالے سے بہت سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ اس لیے اس کاروبار سے منسلک درج ذیل سوالات کے شرعی طور پر جوابات درکار ہیں:
سوال نمبر 1: ایران سے پٹرول اور ڈیزل لانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ایک "ٹوکن" جاری کیا جاتا ہے، جس کی بنیاد پر اسپیڈ بوٹ والے بذریعہ سمندر اور گاڑی والے بذریعہ خشکی مذکورہ اشیاء ایران سے لاتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود جب ان اشیاء کو قرب و جوار کے علاقوں میں پہنچایا جاتا ہے، تو راستے میں مختلف سرکاری اداروں کے افراد رشوت کے طور پر پٹرول، ڈیزل یا نقدی طلب کرتے ہیں، اگر رشوت نہ دی جائے ،تو گاڑی اور سامان ضبط کر لیتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ان کو رشوت دینا اور اس کاروبار کو جاری رکھنا شرعی طور پر کیسا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ عام حالات میں رشوت کا لین دین حرام ہے، البتہ اگر اپنا جائز ثابت شدہ حق رشوت دیے بغیر حاصل نہ ہوتا ہو اور دوسروں کی حق تلفی بھی نہ ہوتی ہو، تو رشوت دینے کی گنجائش ہے، لیکن لینے والے کے لیےبہر حال رشوت لینا حرام ہے۔
حوالہ جات
تكملة حاشية ابن عابدين قرة عيون الأخيار تكملة رد المحتار ط الفكر (8/ 351):
وأما دفع الرشوة لدفع الظلم فجائز، وليس بصلح أحل حراما ولا بسحت إلا على من أكله.
النهر الفائق شرح كنز الدقائق (3/ 598):
واعلم أنهم قسموا الرشوة إلى أربعة أقسام... الرابع: ما يدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه وماله حلال للدافع حرام على الآخذ.
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (5/ 362):
ما يدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه أو ماله حلال للدافع حرام على الآخذ؛ لأن دفع الضرر عن المسلم واجب ولا يجوز أخذ المال ليفعل الواجب.
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
26/ذی الحجہ /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


