| 87815 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ہمارے ہاں (بلوچستان میں ) انتظامیہ کی جانب سے ایسے لوگو ں کے نام بھی "ٹوکن" جاری ہوتےہیں، جن کی کوئی اسپیڈ بوٹ یا گاڑی نہیں ہوتی، بلکہ بد عنوانی اور ذاتی پسند اور نا پسند کی بنیاد پر ان کے نام" ٹوکن "جاری کیا جاتا ہے اور بعض لوگوں کو زیادہ ڈیزل اور پٹرول کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ اپنے کاروبار کو چلانے کے لئے ان لوگوں سے "ٹوکن" خریدتے ہیں تو اس حوالے سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایساٹوکن بیچنا اور خریدنا کیسا ہے؟
اسی طرح بعض لوگوں میں ٹوکن حاصل کرنے کی قانونی اہلیت ہوتی ہے،جب وہ ٹوکن حاصل کرلیتے ہیں پھر اس ٹوکن کوآگے کسی کو فروخت کر دیتے ہیں ، ایسے ٹوکن کی خرید وفروخت کا کیا حکم ہے؟
وضاحت: انتطامیہ علاقائی باشندوں کے نام گاڑیوں اور اسپیڈبوٹوں کی رجسٹریشن کے بعد انہیں سمندری اور خشکی کے راستے ایران جانے اورتیل (ڈیزل اورپیڑول )تجارت کی غرض سے پاکستان لانے کی اجازت دیتی ہے، انتظامیہ کی طرف سے روزانہ ایک فہرست شائع کی جاتی ہے، جن جن لوگوں کے نام لسٹ(فہرست )میں آتےہیں ،وہی لوگ بارڈر پر اپنی گاڑیوں اور اسپیڈ بوٹوں کو گزارنے کے مجاز ہوں گے، جن کے نام اسپیڈ بوٹس اورگاڑیوں کا اندراج نہ ہو یا جن کی باری اورنوبت نہ ہو وہ جانے کے ہرگز مجاز نہیں ہوں گے،انتظامیہ کی جانب سے جاری کرد ہ فہرست میں جن کے نام آجاتے ہیں تو کچھ لوگ اپنی باری اورنوبت دوسروں کو دیتے ہیں اوراس کے بدلے بڑی رقم وصول کرتے ہیں یہ باقاعدہ عام ہے ،معاوضہ کی رقم مارکیٹ ریٹ کےمطابق طے ہوتی ہے، جو لوگ اپنی باری دوسروں کو بیچ دیتے ہیں تو وہ اپنا اصل شناختی کارڈ مشتری (خریدار )کو دے دیتاہے ،پھر یہ خریدار اس شناختی کارڈ کولے کر بارڈ انتظامیہ کو دکھا دیتاہے اورنام ونوبت دیکھ کر اسے گزرنے کےلیے ایک پرچی دیتے ہیں، جسے عرف میں ٹوکن کہا جاتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ جن افراد میں ٹوکن کے حصول کی قانونی اہلیت نہیں ، اس کے باوجود وہاثر و رسوخ استعمال کر کے ٹوکن حاصل کرتے ہیں ،تو انتظامیہ کی جانب سے ایسے شخص کو ٹوکن جاری کرنا اور دوسرے فریق کا ٹوکن حاصل کرنا دھوکہ دہی ، قانون کی خلاف ورزی اور دوسروں کی حق تلفی ہے ،لہذا ایسا کرنا شرعا ً درست نہیں۔
اسی طرح ٹوکن خواہ اہل شخص کے پاس ہو یا نااہل کے پاس ہو، اِس کی آگے خرید وفروخت بھی درست نہیں ،کیونکہ ٹوکن ایک حق مجردہے، جس کے استعمال کا قانوناً صرف وہی شخص مجاز ہے ،جس کے نام یہ ٹوکن جاری کیا جاتاہے۔
حوالہ جات
فقہ البیوع (ج ۱ ص280-81)
الترخیص التجاري:وما قلنا في حکم الاسم التجاري والعلامة التجاریة من جواز الاعتیاض عنهما یصدق علی الترخیص التجاري. وحقیقة هذا الترخیص أن معظم الحکومات الیوم لاتسمح بإیراد البضاعات من الخارج أو إصدارها إلیه إلا برخصة تمنحها الحکومة. والذي یظهر أن هذا نوع من الحجر علی التجار، ولاتستحسنه الشریعة إلاسلامیة إلا لحاجة ملحة، ولکن الواقع في معظم البلاد هکذا. وإن حامل هذه الرخصة ربما یبیعها إلی آخر لیتمکن المشتري من استیراد البضائع من الخارج أو یصدرها إلیه بدلًا من البائع.
والواقع في هذه الرخصة أنها لیست عینًا مادیة، ولکنها عبارة عن حق بیع البضاعة في الخارج أو شراءها منه، فیتأتی فیه ما ذکرنا في الاسم التجاري من أن هذا الحق ثابت أصالةً، فیجوز النزول عنه بمال.
وبما أن الحصول علی هذه الرخصة من الحکومة یتطلب کلًا من الجهد والوقت والمال. وإن لهذه الرخصة صفة قانونیة تمثلها الشهادات المکتوبة ویستحق بها التجار تسهیلاتٍ توفرها الحکومة لحاملیها، فصارت هذه الرخصة في عرف التجار ذات قیمة کبیرة یُسلك بها مسلك الأموال، فلایبعد أن تلتحق بالأعیان في جواز بیعها وشراءها. ولکن کل ذلك إنما یتأتی إذا کان القانون یسمح بنقل هذه الرخصة إلی رجل آخر. أما إذا کانت الرخصة باسم رجل مخصوص أو شرکة مخصوصة، و لایسمح القانون بنقلها إلی رجل آخر أو شرکة أخری، فلا شبهة في عدم جواز بیعها؛ لأن بیعه حینئذٍ یؤدي إلی الکذب والخدیعة؛ فإن المشتري یستعمله باسم البائع، لا باسم نفسه، فلایحل ذلك لما فیه من الکذب، إلا بأن یؤکل حامل الرخصة بالبیع والشراء، وحینئذٍ لایکون ذلك بیعًا للرخصة، وإن کان یجوز لحامل الرخصة أن یطالب الموکل بأجرة الوکالة. والله سبحانه وتعالی أعلم.
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
26/ذی الحجہ /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


