| 87816 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
(ایران سے پٹرول اور ڈیزل لانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ایک "ٹوکن" جاری کیا جاتا ہے) ۔کچھ افراد کو سفارش نہ ہونے کی وجہ سے" ٹوکن" حاصل نہیں ہوتا،چنانچہ وہ رات کی تاریکی میں سیکیورٹی اداروں کے بعض اہلکاروں کو رشوت دے کر ساحلی علاقوں سے بذریعہ اسپیڈ بوٹ یا لانچ کشتی ایرانی جائز اشیاء کی اسمگلنگ کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ اور ایسے کام میں مزدوری کرنا کیسا ہے؟ واضح فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ ٹوکن کے حصول کی مکمل اہلیت او ر بھر پور کوشش کے باوجود ٹوکن حاصل نہ ہو ، کسی دوسرے شخص کی حق تلفی بھی نہ ہو رہی ہو،یعنی درخواست گزار ٹوکن حاصل کرنے کے تمام قانونی تقاضے پورے کر رہا ہو، اس کے باوجود اس کو ٹوکن حاصل نہ ہو، تو اس صورت میں وہ اپنا حق رشوت دے کر حاصل کر سکتا ہے ، تاہم دوسرے فریق کے لئے رشوت لینا درست نہیں۔
حوالہ جات
تكملة حاشية ابن عابدين قرة عيون الأخيار تكملة رد المحتار ط الفكر (8/ 351):
وأما دفع الرشوة لدفع الظلم فجائز، وليس بصلح أحل حراما ولا بسحت إلا على من أكله.
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
26/ذی الحجہ /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


