03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کا یوں کہنا’’ میرے ساتھ ہمبستری نہ کرنا، اور اگر کرو تو ایسے جیسے اپنی ماں کے ساتھ کرو‘‘کاحکم
87904طلاق کے احکامظہار )بیوی کو ماں یا بہن کے ساتھ تشبیہ دینے( کے احکام

سوال

میری بیوی نے ایک دن غصے میں نازیبا الفاظ کہے، جس میں اس نے کہا: ’’میرے ساتھ ہمبستری نہ کرنا، اور اگر کرو تو ایسے جیسے اپنی ماں کے ساتھ کرو‘‘ اب میرے لیے شرعی طور پر یہ جاننا ضروری ہے کہ کیا ان الفاظ کی وجہ سے میری بیوی میرے لیے حرام ہو گئی ہے؟ کیا میں اس سے دوبارہ ہمبستری کر سکتا ہوں یا پہلے کوئی کفارہ دینا لازم ہو گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عام حالات میں جبکہ شوہر نے طلاق کا اختیار بیوی کو تفویض نہ کیا ہو، بیوی کے کلام سے کوئی طلاق یا ظہار وغیرہ شرعا ثابت نہیں ہوتا ،اسلئے صورت مسئولہ میں سائل کی بیوی   کی اس بات سے وہ نہ  اس پرحرام ہوگی، اور نہ ہی اس کے ذمے کفارہ ظہار لازم ہوگا۔البتہ بیوی کو اس طرح نامناسب رویےاور الفاظ سے سختی کے ساتھ اجتناب کرنالازم ہے۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 467):

(قوله: وظهارها منه لغو) أي إذا قالت: أنت علي كظهر أمي، أو أنا عليك كظهر أمك فهو لغو لأن التحريم ليس إليها ط (قوله: فلا حرمة إلخ) بيان لكونه لغوا أي فلا حرمة عليها إذا مكنته من نفسها ولا كفارة ظهار ولا يمين.

حماد الدین قریشی

دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی

28    /ذی الحج 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب